41

دل کوفراق کے صدموں سے چھٹکارہ نہ ملا ۔۔۔۔۔ ظفراللہ پروازؔ بونی

چترال میں کھو ادب و ثقافت کی آسمان سے متواتر ادبی ستاروں کی جدائی خصوصاً عزیزم خالد بن ولی کے بے وقت فراق کی آنسوئیں خشک نہیں ہوئے تھے کہ یکے بعد دیگرے انورالدین انورؔ اور بعد میں۔۔۵ جنوری ۲۰۱۹ ؁ے۔۔ کو علم وادب کا درخشندہ ستارہ محترم مولا نگاہ نگاہؔ صاحب کھو ادب و ثقافت کے آسمان سے راہِ عدم ہوئے ۔۔۔ انا للہ وانا الیہِ راجعون۔
مرحوم علمِ ظاہری وباطینی سے مالامال،شعر و سخن میں حد درجے کا کمال،افتخارِ نظم و نثر میں بے مثال،فارسی ادب شناسی میں یکتا،کھو تہذیب و ثقافت میں سب سے اعلٰی تر، جب سرائے فانی سے رختِ ہستی باندھنے کی خبر ملی ۔تو ادب و ثقافت سے منسلک افراد کے دلوں پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ قلیل مدت میں یکے بعد دیگرے کھو تہذیب،زبان ثقافت کے تابندہ ستاروں کی جدائی پاسماندہ گان کے لیے ظُلمت بن کر دل دماغ کو اپنی اپنی گرفت میں لے لیا۔ اور یہ غم احساسات کی رگوں کو منجمد کردیا۔ کھوار ادب کے ان سدا بہار اشجار کی جدائی سے ادب کی چمکتی ہوئی انکھیں گرد آلود ہو گئی۔اور چلتے پھیرتے افراد کی کمریں جھک گئی۔کیونکہ خونی رشتوں کے نسبت ادبی رشتوں کی بندھن زیادہ حساس اور نازک تر ہوتے ہیں ۔جو بسا اوقات سرد ہوا کی معمولی جھونکے، ذہنوں پر بوجھ بن کر ناقابلِ برداشت حد تک زخم دیتے ہیں ۔ اور اس طرح گلستانِ ادب سے ہجرَ نگاہؔ کا یہ بھاری غم احساس کے نازک پھولوں پر چٹان کی طرح گر پڑا۔ ۔مولا نگاہ نگاہؔ صاحب کی شناخت کھوار ادب و ثقافت کی آسمان پر ایک منفرد کہکشان کی حیثیت سمجھی جاتی تھی۔ جو اپنی حلقے میں ستاروں کی جُھرمٹ میں رہبر کا مقام رکھتا تھا۔ انہوں نے اپنی فضل کمال، حُسن معاشرت، شریفانہ خصائل،کریمانہ اخلاق ادیبانہ گفتگو اور مخفل میں ہنسی مذاق کا رونق جمائے مخفل کو زغفران زار کرنے کے جوہر سے خوب واقف تھا۔اسی بنا مرحوم تہذیب و ثقافت کی نگہبانی ادب کے ہتھیار سے آخری سانس تک نبھایا۔ایک سال تک طویل علالت اور اعصاب شکن بیماری کے تکلیف میں جب ہم اکثر اوقات تیمار داری کے لیے ان کے دولت کدہ سینگور میں حاضری دیتے ، اس کے تو چہرے کی رونق اور اندازِ گفتگو دیکھ کریہ احساس کبھی نہیں ہوتا کہ ہم کسی بیمار کی تیمارداری کے واسطے ائیے ہیں۔ اور محوے گفتگو میں ہمیں ایسا لگتا کہ بیماری کبھی اس کے پاس سے گزرا نہیں ہے ۔باوجودکہ اس کی موزی بیماری کے متعلق ہم لا علم نہیں تھے ۔اور بسترِ علالت میں ہونے کے باوجود ہم متواتر گھنٹوں تک مرحوم کے فیضِ محبت، مشوارہِ سخن سے اس طرح استفادہ حاصل کرتے رہتے گویا بیمار پرسی نہیں ادبی نشست چل رہی ہے۔
مرحوم کی پیدائش ضلع چترال کے دور افتادہ خوبصورت گاوں تریچ زوندرانگرام میں جہانگیر لال کے ہاں ۱۹۴۶ ؁ ء میں ہوئی ۔ بچپن سینہء تریچمیر میں گزارا۔ اس زمانے میں حصولِ تعلیم، ذاریع امد و رفت کی مشکلات اور تعلیمی اداروں کی فقداں کے باوجود پھیر بھی سخت کوشی و محنت سے علم کی دولت سے بہرہ ور ہو کر جلدی ہی محکمہ تعلیم شعبہ درس و تدریس سے وابستہ ہوگیا ۔دورانِ سروس اہلِ علم سے سیکھنے اور سیکھانے کا عمل جاری رکھتے ہوئے ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے عہدہِ ہیڈ ماسٹری تک منازل عبور کرکے پنشن پائی۔چونکہ تہذیب و ثقافت بچپن ہی سے خمیر میں رچی بسی تھی ۔ لیکن تعلیمی ماحول سے وابستگی اور خصوصاً مرحوم غلام عمر استاد مرحوم ایون کے ساتھ ہم نشینی کی بنا ذہن میں ادبی جوہر پھل پھول لا کراستاد غلام عمر کی نگہبانی میں دنیائے ادب میں نگاہؔ صاحب سب کی نگاہوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ مرحوم غلام عمر استاد ایک مشفق، جوہر شناس ،ادیب و ادب دوست انسان تھے ۔ آ پ کی رفاقت میں علم و ادب کی خوب آبیاری پا کر ساری عمر ادب ہی ادب نگاہؔ صاحب کا اوڑھنا بچھونا بن گیا ۔
کھوار ادب و ثقافت کے ساتھ نگاہؔ صاحب کی محبت بے مثال تھی ۔میدانِ شاعری میں چھوٹے چھوٹے چیزوں کو موضوع بنا کر بڑے بڑے مسائل کو شاعری کی رنگ میں مزین کرکے لوگوں کے دلوں میں بیٹھا سکتے تھے۔سب کے ساتھ خلوص سے ملنا،ہنس مکھ چہرہ اور زندہ دلی سے ہر ملنے والے کو خوشیاں بانٹنا اپنی فرضِ منصبی سمجھتا تھا۔ مخفل میں ادبی بحث مباحثہ کے ساتھ طنز و مزاح سے ہنسا ہنسا کر سب کو اپنا دلدادہ بنا رکھتا۔ اور شاعری میں بھی مزاح کے نشتر سے رنگینی دیکر مخفل کو گرماتے۔جس موضوع پر بھی رائے زانی کرتا ہر لفظ پتھر کی لکیر بن کر دل و دماغ میں نقش ہوتا۔ بیماری کے دوران ہم چند ساتھی جن میں فضل الرحمٰٰن شاہدؔ ۔ ذاکر محمد زخمیؔ کے علاوہ چند احباب اجتماعی طور پر جب اپ سے ملنے گئے تو انتہائی تاکید سے ہمیں بتایا کہ :۔ادبو میدانہ کا کی خصوخص ای کولی الیف دی کی نیویشی اسور مہ بچن ہتے انسانو پونگو موڑتو چھوتی بور( یعنی میدانِ ادب میں اگر کسی نے کوشش کرکے ایک لفظ ٹیڑی الیف بھی لکھدیا ہے تو میری آرزو ہے کہ سب اس کے خاکِ پا ہو جائے۔اس جملہ سے موصوف کی ادب سے عشق اور ادیب پروری عیاں ہوتی ہے ۔مرحوم سراپا ادب خصوصاً کھوار اور کھو تہذیب کی شناخت تھی ۔جتنی گفتگو فرماتے کبھی جی نہیں بھرتا۔کبھی کبھی جب بونی تشریف لاتے تو اکثر شام سے لیکر نمازِ فجر تک محوے گفتگو رہتے۔ اور شب بھر مختلف ادبی موضوعات سے پل بھر کے لیے بھی بوریت محسوس نہیں ہوتے۔ وہ چلتا پھیرتا،ادب،محبت اور کھوار ثقافت کا شمعِ فیروزان تھا۔ اس نے اپنے زندگی میں ’’بابا سیار‘‘ کے فارسی اشغار تلاش کرکے نہ صرف یکجا کیا بلکہ ایک ضخیم دیوان( دیوانِ بابا سیار) کے نام سے ترتیب دیکر ترجمہ کے ساتھ چاپواکر گرانقدر کام انجام دیا اس کارِ گران کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جنہیں تھوڑی بہت لکھائی چپائی سے وسطہ پڑا ہو۔
مختصر یہ کہ نگاہ صاحب کے اوصاف ایک ہی کالم میں جمع کرنا انتہائی مشکل ہے وہ ایک ادیب،نقاد،شاعر، نثر نگار ہونے کے علاوہ مادی ایشاء کے برعکس صرف انسانوں سے تعلق داری کے خواہاں تھا۔ عظیم لوگوں کا قول ہے ۔کہ بلند کرداری اور انسانی عظمت کا منبع نیکی اور انسان دوستی سے حاصل ہوتی ہے ۔ اور بہتر تہذیب کے چھاوں میں پرورش پانے والا ہر بیابان کو گلستان سے بدل سکتے ہیں۔نگاہؔ صاحب زندگی بھر اسی اصول کو اپنایا اور اسکی بدولت کئی سالوں سے نگاہؔ صاحب کے صحبت دوسرے بے شمار ساتھیوں کے ہمراہ میرے حصے میں بھی ائی۔ یہ اس کی صحبت کا فیض تھا کہ میں باوجودِ کم علمی خصوصاً شعبہ ادب سے کوسوں میل کے دوری کے باوجوداچانک گلستانِ کھوار کے ادیبوں کے صف میں اپنی محضِ وقت گزاری کے لیے ڈائری میں لکھی ہوئی چند الفاظ کی بدولت، ’’انگریستانو‘‘ نام سے زبان کھوار میں پہلا ’’ ناول‘‘ نگار ہونے کے شرف مجھے حاصل ہوئی۔ اس کے بارے خود نگاہؔ صاحب ،ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ صاحب اور ڈاکٹر محمد اسماعیل ولی اخگرؔ صاحب کے علاوہ مشہور ادبی وا علمی شخصیت پروفیسر اسرار الدین صاحب نے اس نا چیز کی معمولی کوشش کا موازنہ دنیا ئے ادب کے گنتی کے ناول نگاروں کے صف میں شمار کرکے اپنے تحریری نوازشات سے نوازیں ہیں۔ اور اس حوصلہ افزائی کی بنا مزید تصنیفات کی کوشش جاری ہے ۔ اس لیے میں اس اعزاز کو ربِ کائنات کی مہربانی اور ادب دوست انسانوں کے ساتھ قدرتی تعلق اور خصوصاً نگاہؔ صاحب کی پُر اثر مجلسوں کی مرہونِ منت سمجھتا ہوں۔ اس لی تمام ادبی ذوق رکھنے والے دوستوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اگر وہ اپنا نشست و برخاست ادب دوست ہستیوں سے استوار کرے تو عین ممکن ہے کہ مجھ جیسے کم علم کی نسبت وہ بہت کچھ کرنے کے قابل ہوجائینگے۔ یاد رہے کہ صرف کتابوں پر اکتفا کرنے سے یہ اعزاز صرف بہت کم ہی لوگوں کے حصے میں اسکتی ہے کیونکہ ۔جمالَ ہم نیشین بر من اثر کرد ؂
الحمد اللہ اپ سارے ادب دوست حضرات محترم نگاہؔ صاحب کے جدائی میں اپنے جذبات و احساسات مختلف ذرایع، مرثیہ مضامین ، تیمارداری اور رخصتی میں اپنے جذبات اور محبت کے پھول برسائے انہیں دیکھ کر یقن ہوتا ہے کہ ادیب کبھی نہیں مرتا۔ لہذا ( محبتو ارزوان،غمو اشروان سوم غڑچھئن کوری ہتیتانتے کاکی خور دنیا بی اسونی وا ہیتیتان بچن کا کی ہیہ دنیا اسومی پیسہ سفان پونگو موڑتو پیانداز۔ اسپہ ہردیہ حسین یادان زندگیہ پت روشتیو سبب) دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ نگاہؔ صاحب، خالد بن ولی اور انورا لدین انوروؔ دیگر تمام دنیائے ادب کے مرحومین کو اپنے سایہ رحمت مقام بخشدے اور تمام پاسماندہ گان خصوصاً قابلِ فخر،،،فرزندان مولا نگاہ ؔ استاد و دخترانِ استاد مرحوم کو اللہ تعالیٰ اپنے حیفظ و امان میں رکھیں ان کے کامیابی و کامرانی کے لیے تا حیات ان شاء اللہ دعا گو رہینگے

Print Friendly, PDF & Email