44

صدابصحرا۔۔۔۔ یکساں نظام تعلیم ۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی 

حکومت نے یکے بعد دیگرے تین بڑے فیصلے کئے ایک حکم کے تحت تمام دفتروں میں نماز ظہر کے لئے 30منٹ اور نماز جمعہ کے لئے ڈھائی گھنٹے چھٹی کا مراسلہ جاری کیا ہے ایک دوسرے حکم میں کہا گیا ہے کہ ملک میں یکساں نصاب تعلیم رائج کیا جا ئے گا نماز کے لئے وقفے کا حکم 1984ء میں بھی جا ری ہو ا تھا دفتروں میں اُس وقت سے نماز ظہر کا اہتمام چلا آرہا ہے نئے حکم کے تحت دفتروالوں کو یہ سمجھ آئیگی کہ موجودہ حکومت بھی جنرل ضیاالحق کی پالیسی پر عمل کریگی اس کا تسلسل ٹوٹنے نہیں دیگی اور یہ بہت خوش آئیند بات ہے تیسرا بڑا فیصلہ یہ ہے کہ سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور قطر کی طرح نماز جمعہ کے لئے خطبہ کا متن سرکاری طور پر جاری کیا جائے گا خطیبوں کو اس بات کا پابند بنایا جا ئے گا کہ وہ سعودی عرب کے علماء کی تقلید کرتے ہوئے سرکاری متن سے زیادہ ایک لفظ نہ بولیں اور سرکاری خطبے کے متن میں ایک لفظ کی کمی نہ کریں فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے یکساں خطبہ رائج ہوگا تو مذہبی یک جہتی پیداہوگی اور قومی اتحاد و اتفاق کی راہ ہموار ہو گی حکومت کی یہ سوچ مثبت سوچ ہے سعودی عرب نے ہمیں ڈالروں کی دولت ہی نہیں دی بلکہ مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنے کا ڈھنگ بھی سکھا یا ہے ا ہم حکم یہ ہے کہ ملک میں یکساں نصاب تعلیم رائج کیا جائے گا اور یہ بہت بڑا قدم ہے جو اس حکومت نے کرنا ہے اگر غور کیا جائے تو حکمران جماعت نے اپنے منشور میں بھی یکسا ں نصاب تعلیم کا وعدہ کیا تھا جس کو عملی جامہ پہنانے کا وقت آگیا ہے وقت آنے پر رکاوٹیں بھی سامنے آرہی ہیں اور یہ کا م ایک چیلنج کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے چار سوالات گردش کررہے ہیں پہلا سوال یہ ہے کن کن نصابوں میں یکسانیت مطلوب ہے؟ کیا اولیول اور اے لیول کو فیڈرل بورڈ یا ملاکنڈ بورڈ کے نصاب کے برابر لایا جائے گا ؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ مدارس کے نصا ب میں یکسانیت کس طرح تلاش کی جائیگی ؟ تیسراسوال یہ ہے کہ کانو نٹ سکولوں اور گورنمنٹ سکولوں کے نصاب کو یکسانیت کا جامہ پہنایا جائے گا ؟ چوتھا سوال یہ ہے کہ فزکس ، پاکستا ن سٹیڈیز اور اسلامیات لازمی کے نصابوں میں سے کس مضمون کے نصاب سے یکسانیت کی ابتدا ہوگی ؟ بحث کو طول دینے والے آخری سوال سے مزید سوالات پیدا کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ غالب اور میر، انیس اور دبیر غیر مفقسم برصغیر میں گزرے ہیں دہلی اور لکھنو ان کے حوالے ہیں یکساں نصابِ تعلیم میں ان کو اردو کی کتا بوں نکال کر ٹوبہ ٹیک سنگھ ، مرید کے اور چیچوکی ملیاں سے تعلق رکھنے والے عظیم شعراء کا کلام شامل کیا جائے گا یا نہیں؟ علامہ اقبال کا سن وفات بھی قیام پاکستان سے 11سال پہلے گذرا ہے اُن کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا ؟ ہم نے کہا یہاں”فل سٹاپ ”لگاؤ آگے گہری کھائی ہے راجہ داہر اور محمد بن قاسم کے حوالے آتے ہیں اور سچی بات یہ ہے کہ ان حوالو ں سے ہمیں ڈرلگتا ہے یکساں نصاب تعلیم ہمارے لئے خواب کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ دیوانے کا خواب لگتا ہے وجوہات بہت سی ہیں سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے بہت دیر کی ہے گذشتہ 70سالوں کے اندر وطن عزیز میں 13اقسام و انواع کے نصاب ہائے تعلیم الگ الگ SLOsاور الگ الگ بینج مارکس کے ساتھ متعارف ہوئے ہیں 8نصاب ہائے تعلیم انگریزی اور اردو سکولوں کے ہیں جو کالج اور یونیو رسٹی کی سطح تک چلتے ہیں 5نصاب ہائے تعلیم دینی مدارس کی سطح پر مروّج ہو چکے ہیں اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ہمارے اندر سکولوں کے الگ الگ نصابوں کو یکجا کرنے کی طاقت اور صلاحیت بھی نہیں مدارس کے الگ الگ نصابوں کو یکجا کرنا ہمارے بس میں نہیں فیض نے کیا بات کہی !
قفس ہے بس میں تمہارے ، تمہارے بس میں نہیں
چمن میں نکہت گل کے نکھار کا موسم
اب چند ایک خدشات نے بھی سر اُٹھا یا ہے پہلا خدشہ یہ ہے کہ حکومت مدارس کو نہیں چھیڑ سکے گی مدارس کے نصاب میں دخل نہیں دے سکتی اس طرح 5الگ الگ فرقوں کے مدارس کے لئے الگ الگ نصاب اسی طرح جاری رہینگے گویا یکساں نصاب تعلیم کا پہلا خواب چکنا چور ہوگیا دوسرا خدشہ یہ ہے کہ حکومت او لیول اور اے لیول کے نصاب میں ترمیم وتبدیلی نہیں کر سکیگی حکمرانوں کے اپنے بچے اس نصاب کے تحت امتحان دیتے ہیں اور یہ نصاب معاشرے کے اونچے طبقے کے لئے باعث فخر ہے تیسرا خدشہ یہ ہے کہ حکومت کا نونٹ سکولوں اور بیکن ہاؤس یا سنیٹ میری سکولوں کے نصاب میں چھیڑ خانی نہیں کرے گی ان سکولوں کی لابی (Lobby)طاقتور ہے لے دے کے سرکاری سکولوں اور ہزار یا ڈیڑھ ہزار ٹیوشن فیس والے سستے نجی سکولوں میں رائج غریب غرباء کے نصاب پر یکسانیت کا تجربہ آزمائیگی اور یہ ازمائش پہلے بھی باربار ہوچکی ہے ہر بار جب نصاب تبدیل ہوتاہے تو نصابی کتابوں کا معیار گرجاتا ہے وجہ یہ ہے کہ 1979ء سے پہلے ماہرین کے ذرریعے کتابیں لکھی اور چھپوائی جاتی تھیں 1979ء کے بعد چچا ، ماموں اور سسرال والوں کو یہ کام دیا گیا یہ چار پانچ ارب روپے کا کام ہے حکومت یہ کام ماہرین کے سپرد نہیں کرتی اس لئے معیار کا ستیا ناس ہوجاتا ہے سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ اس وقت چچا ، ماموں اور سسرال گروپ ایک بار پھر نصاب کو تبدیل کرکے 5ارب روپے کا نیا ٹھیکہ حاصل کر نے کے لئے متحرک ہوگیا ہے یہ گروپ اپنا مقصد حاصل کرے گا کتا بوں کا مواد بھی دو نمبر ہوگا پروف ریڈنگ بھی دو نمبر والی ہوگی کاغذ بھی دونمبر ہوگا چھپائی اور جلدبندی کا معیار بھی باعث ننگ و شرم ہوگا مگر سرکار کا حکم ہے اس پر ضرور عمل ہوگا کفایت شعاری کے نام پر5ارب روپے پھونکے جائینگے یکساں نظام تعلیم اور یکساں نصاب فارسی محاورے کی رُو سے دہلی سے بھی دور ، بہت دور چلا جائے گا یہ خدشہ بے جا نہیں ہے اس خدشے کی ٹھوس وجوہات ہیں سکول اور کالج کے کسی بھی استاد یا کسی انتظامی افیسر سے آپ پوچھیں وہ اس خدشے کی گواہی دے گا اور اس کے پسِ پُشت محرکات سے پردہ اُٹھائے گا 1979ء سے پہلے شائع ہونے والی کتابیں آپ کو دکھائے گا 1979ء کے بعد شائع ہونے والی دونمبر کتابیں اور اُن کا مواد بھی آپ کو دکھائے گا یکساں نظام تعلیم کا شوشہ 5ارب روپے کی بندر بانٹ کا شوشہ ہے اس کی حقیقت کچھ بھی نہیں بقولِ غالب
ہیں کو اکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا

Print Friendly, PDF & Email