عمران خان کا پہلانعرہ صحت اور تعلیم سے لیکر نعرہ ریاست مدینہ……..وقاص احمد ایڈوکیٹ

عمران خان جب حسب اختلاف میں تھا تو ان کا سب سے پہلا نعرہ صحت اور تعلیم تھا اس وقت ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ خان صاحب کےاقتدار میں آتے ہی صحت کے شعبے میں قابل عمل تبدیلی بہت جلد نظر آئیگی لیکن اقتدار سنبھلنے کے بعد وہ نعرہ ختم ہوکر ریاست مدینہ کا نعرہ لگایا گیا جب سوال کیا جاتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ چترال میں عمران خان کو ووٹ نہیں دیا گیا ہے جب سوال کیا جاتا ہے کہ زرداری اور نواز شریف نے بھی کچھ نہیں کیا تھا ارے نواز شریف کچھ نہیں کیا زرداری نے کچھ نہیں کیا اس لیے لوگوں نے ان کو ووٹ نہیں دیا آپ بتا دیں آپ نے کے پی کے میں ساڑھے پانچ سال حکومت کی آپ نے کیا تیر مارا ہے ضلع چترال رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا ضلع ہے تین سالوں سے ایک آنکھوں کا ڈاکٹر نہیں ہے مجھے اپنے ایم پی ایز کو قومی نماٸندہ کہتے ہوے شرم اآتی ہے اور ایم این اے کو نماٸندہ کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے چند دن قبل میں نے پشاور میں ایک لیباٹری والے کو چترال کی لیبارٹیوں کا رزلٹ دیکھایا تو انہوں نے کہا کہ آپ کے ایم پی ایز اورایم این اے کس چیز کے دوا ہیں آج کل وزیر زادہ کی بہت چرچا ہورہی ہے میں نے شروع میں کہا تھا وہ فون نہیں اُٹھائے گا انکی بھی اتنی حثیت نہیں کہ وہ چترال کو ڈاکٹر بھجدیں اس کے علاوہ ہم سارا غصہ نماٸندوں پر نکالتے ہیں اگر وہ کام کے قابل نہیں تو مہربانی کرکے استعفی دےکر ہماری جان چھڑائے تاکہ کوٸی ایک مہربان انسان کم از کم ھم پر رخم کرکے ایک آٸی سپشلسٹ چترال تعینات کریگا ۔ چترال میں آج بھی وہی لیباٹری ہے جو 50 سال پہلے شیشے میں خون ڈالکر رزلٹ دیتے تھے کہاں ہے مدینے کی ریاست میں ایم ارآٸی ،سٹی اسکین وغیرہ، سلام ہے ان ڈاکٹروں کو جو چترال میں رہتے ہوئے اپنی قوم کی خدمت کرتے ہیں اور وہ اپنے زندگی سے بھی مطمٸن ہیں ڈاکٹر رکن الدین گلزار ۔فاروق۔ فزیشن ذاہد ۔انوار۔ فاروق ای این ٹی، رشید ظفر اور خاض کرکے ڈاکٹر اسرار جس کا گھر پشاور میں ہونے کے باوجود چترال میں لوگوں کی ہر وقت خدمت کر تا ہے اور چترال سے ایسے ڈاکٹر بھی ہیں جن پر ہر چترالی کا حق ہے چترال کے ریزرو سیٹ پر ڈاکٹر بن کر چترال سے باہر کاروبار کرتے ہیں جو ڈاکٹر چترال سے باہر ہیں اور سپشلسٹ بھی ہیں کیا ان میں سے کسی ایک نے اوپن میرٹ میں ایم بی بی ایس کیا ہے کیا یہ ان کا احسان فراموشی نہہں کہ وہ ہمارے ریزرو سیٹ میں چترال کے ڈومساٸل سے سیٹ لیکر خدمت کے وقت باہر ضلع میں کاروبار کرتے ہیں ان کا مقصد صرف پیسہ بٹورنا ہے میں پوری چترالی قوم کی طرف سے صوباٸی حکومت کو یہ گزارش کرتاہوں کہ آج کے بعد جو بھی چترالی چترال کے ریزرو سیٹ میں ایم بی بی ایس میں داخلہ لے تو ان کے لیے شرط رکھا جائے کہ وہ سیپشلائزیشن کے بعد کم از کم اس ضلعے میں ڈیوٹی کریں جس ضلعے کے ریزرو سیٹ میں وہ آۓ ہیں میں حکومت وقت، ایم پی ایز، ایم این اے چیف سکریڑی کے پی کے سکریڑی ہلتھ سے چترالی قوم کی طرف سے مطالبہ کرتا ہوں کہ جو چترالی ڈاکٹر چترال کے ریزرو سیٹ سے ایم بی بی ایس کرکے سیپشلائزیشن کرکے چترال سے باہر تعینات ہیں ان کو پانچ سال کے لیے چترال ٹرانسفر کیا جائے تاکہ ہمارے ریزرو سیٹ کا عوض ہمیں مل سکیں اور ریاست مدینہ کے خلیفہ سے بھی مطالبہ ہے اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادھ شئیر کریں تاکہ یہ مطالبہ خلیفہ مدینہ تک پہنچ سکیں

Print Friendly, PDF & Email