دروش میں جاری بھوک ہڑتال ختم /مقامی عمائدین کی کوششوں ، رکن قومی اسمبلی اور انتظامیہ کی یقین دہانی کے بعد نوجوانوں نے ہڑتال ختم کردیا

دروش(نامہ نگار) مقامی عمائدین کی کوششوں ، رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی اور ضلعی انتظامیہ کی یقین دہانی کے بعد گذشتہ چھ دنوں سے دروش میں جنگلاتی علاقے کے نوجوان کی طرف سے محکمہ جنگلات کے خلاف بھوک ہڑتال ختم ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے جمعرات کے روز دروش کا دورہ کیا اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میں زیر علاج بھوک ہڑتالی نوجوانوں سے ملاقات کی اور انکے ساتھ ہمدری کا اظہار کیا۔ اس موقع پر معروف مذہبی و سیاسی شخصیت قاری جمال عبدالناصر ،ارشاد مکرر، محمود عالم خان،رکن تحصیل کونسل روئیدار احمد ساجد اور صلا ح الدین طوفان بھی موجود تھے۔ مولانا عبدالاکبر چترالی نے احتجاجی نوجوانوں کو یقین دلایا کہ انکا جائز مطالبہ قانون کے مطابق حل کیا جائیگا اور انکے ساتھ حق تلفی نہیں ہونے دی جائیگی۔ انہوں نے کہ قانون اور میرٹ کے مطابق کاروائی کرتے ہوئے انہیں انکا حق دلانے میں وہ اپنا بھرپور کردار ادا کرینگے۔ اس موقع پر احتجاجی نوجوانوں نے رکن قومی اسمبلی کو اپنے تحفظات ور مطالبات سے آگاہ کیا۔ اسی طرح ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ڈپٹی کمشنر چترال خورشید عالم محسود اور اسسٹنٹ کمشنر دروش نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جنگلاتی علاقوں کے جوانوں کو محکمہ جنگلات میں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر بھرتی کیا جائیگا جبکہ ارندو کے جنگلاتی علاقے کے نوجوانوں کے لئے خصوصی رعایتی کوٹہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائیگی۔ ان یقین دہانیوں اور مسلسل مذاکرات کے بعد بالآخر چھ دن سے ہڑتال پر بیٹھے ہوئے نوجوانوں نے اپنی ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا۔
اس ہڑتال کو ختم کرنے کے سلسلے میں نوجوانوں کو قائل کرنے میں معروف مذہبی و سیاسی شخصیت قاری جمال عبدالناصر نے انتھک کوشش کی تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہ ہوجائے۔ قاری جمال عبدالناصر بدھ کی رات سے دروش ہسپتال میں مسلسل ان متاثرہ نوجوانوں کے ساتھ موجود رہے اور انکی دیکھ بھال کی جبکہ جمعرات کے روز بھی قاری جمال عبدالناصر نے دیگر عمائدین شہزادہ ہشام الملک ، قاری مبارک خان، ارشاد مکرر اور صلاح الدین طوفان کی معیت میں ہڑتالی نوجوانوں کیساتھ مذاکرات کرکے انہیں موقف میں نرمی لانے اور ہڑتال ختم کرنے پر راضی کیا۔
یاد رہے کہ ان نوجوانوں نے محکمہ جنگلات کی طرف سے فارسٹ گارڈز کی بھرتیوں میں مبینہ بد عنوانی اور میرٹ کی خلاف ورزی کے خلاف گذشتہ چھ دنوں سے دروش چوک میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے اور منگل کے روز انکی حالت بگڑنے پر انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا تاہم ایک دن ہسپتال میں گزارنے کے بعد ہڑتالی نوجوان بدھ کی شام شدید سردی اور بارش میں دوبارہ آکر دروش بازار چوک میں کھلے آسمان تلے بیٹھ گئے جہاں پر انکی حالت مسلسل بگڑنے پر انہیں بدھ کی رات دوبارہ ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔
آل ویلج کونسل فورم دروش کی طرف سے بھی بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے نوجوانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر دروش چوک میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ میرٹ کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف کاروائی عمل میں لاکر ان نوجوانوں کو انکا حق دیا جائے جبکہ فورم کے ذمہ داران مکمل طور پر ہڑتالی نوجوانوں کے ساتھ تھے۔

Print Friendly, PDF & Email