دھڑکنوں کی زبان……آہ نگاہ۔۔نگاہیں پھیرلی تم نے….محمدجاویدحیات

تومیرے عظیم باپ کے عظیم  شاگرد تھے تیری عظمت دیکھ کر مجھے میرے باپ کے عظیم ہونے کا اندازہ ہوتا۔تیرے منہ سے نکلا ہوا ہرہر لفظ میرے ابو سے متعلق مجھ پہ احسان بارگران بن جاتا۔میں سراپا تشکر بن جاتا۔تو جسیم تھے کرشماتی شخصیت۔کہ فنا کا کوئی حملہ تجھے شکست نہیں دے سکتا۔تیری چمکتی کشادہ پیشیانی پہ عظمت کا سورج چمکتا رہتا۔تیرے سینے میں علم کا دریا موجزن رہتا۔تیری کشادہ ہتھیلیاں جب مٹھی بنتی تولگتا کہ تو وقت کی طنا بیں کھینچ رہاہے۔تو ذوق عمل کا نمونہ تھے۔ہوا،جھونکا،خوشبو،مسکراہٹ،ایک طلسم۔۔۔تو سراپا شاعری تھے۔تیری زات سے بلا کا پیار ہوتا۔تجھے پہچاننے میں کسی کو دقت نہ ہوتی۔تو کھبی سراپا درد بن جاتا تو دکھیاری چھینب سے جاتے۔توکھبی سراپا ناز بن جاتا تو نازنین تیری طواف کرتیں۔توکبھی سراپا علم بن جاتا توعلم کے پروانے تیرے ارد گرد منڈلانے لگتے۔تو لگتا کہ ہردور کی پہچان ہے۔تیرا ماضی تیرے حال کو چمکا دیتا۔تب تیرامستقبل اُمید بن جاتا۔تو گلشن انسانیت کے وہ پھول تھے کہ تیری موجودگی سارا چمن معطر کردیتی۔تونے زندگی کو زندگی کانام دیا تھا۔زندگی کی افسردگیاں تیرے قہقہوں میں عرق ہوجاتیں تو تو مینارہ اُمید بن جاتا۔تو یاس تھوڑی تھے توتو آس تھے رنگ وبو کی دنیا کا شاہنشاہ۔۔۔ تو شرین دھن تھے لفظ تیری زبان سے ادا ہونے کو ترستے اور سخن ناز کرتا۔شاعری تیرے ٹھیکرے کی مانگ تھی۔تجھ پہ نازان ہوتی۔لفظ معنیٰ پاتے۔احسا س خیال بن جاتے اور خیال حوالہ بن جاتا۔تیرا قلم برق کا تھا۔تجھ میں فارسی کی شرینی،اردو کی شائستگی،انگریزی کا فہم اور کھوار کی گہرائی اور گیرائی تھی۔توحکیم تھا۔کوئی عملی تشنگی ہوتی توتو پیاس بجھاتا۔
تم علمی سقم کا علاج تھا۔تم بزلہ سنج تھے محفلوں کی جان،سخنور تجھے ہرا نہ سکتے۔تیرا منہ تکتے اور سراپا گوش ہوجاتے۔توچہکتے اور لفظوں کے موتی بکھیر دیتے۔توعجیب تھے لگتا کہ تجھ پہ کھبی رات نہیں گذری تو صبح کی طرح تروتازہ، دن کی طرح شادمان اور شام کی طرح رنگین تھے۔توبے تاج بادشاہ تھے۔ہردل میں تیری محبت ،ہر آنکھ میں تیرا احترام اور ہرلپ پہ تیری تعریف تھی ۔تیرے سامنے جغرافیے سمٹ گئے تھے اور تو ملکوں ملکوں کی حدود سے آگے نکل گئے تھے۔تو زندگی شناس تھے اس لئے زندگی بھر پورگذار دئیے۔تو میرا محسن اور مربی تھے۔میں جب آپ کے سامنے ہوتا تو طفل مکتب بن جاتا۔میں کوئی بات کرتا تو آپ ایک جملہ باربار دہراتے۔۔۔‘‘ہوش کومان،ہوش کومان‘‘اس سمے میں تیرے علم کے سمندر میں ڈوپ چکا ہوتا۔تولطیفے سناتے،حکایت سناتے،علمی بحث چھیڑتے تو لگتا کہ نکتہ سنجی اور سخن افرینی تیرا خاصہ ہے۔توعجیب تھے کہ کرشماتی شخصیت کے مالک تھے۔تیری شخصیت کے سحر میں سب جھکڑ جاتے۔توموجود ہوتے تو محفل بھرپور لگتی۔تو تنہا انجمن تھے۔توجب تقریر کرنے اُٹھتے توتیری گرجدار آواز میں ہنسی بھی ہوتی۔لطف بھی ہوتا،دلکشی ہوتی،دلائل بھی ہوتیں،علم بھی ہوتا۔سننے والوں کو وقت کا احساس نہ ہوتا۔
کہتے ہیں تو ایک متمول خاندان میں پیدا ہوئے۔تیرا تعلق چترال کے شاہی خاندان سے تھا۔تو نے تعلیم حاصل کی۔استاد بنے،پرنسپل بنے۔ریٹائرڈ ہوئے تو نے کیا کیا نہیں کیا۔اپنا آبائی گاؤں تریچ چھوڑ کر چترال شہر آبسے۔تیری آل اولاد اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔تیرے پرستار بھی بہت ہیں۔سب کے دل میں تیری یادیں ہیں۔تیری قلمیں کاوشیں ہیں۔توکئی کتابوں کے مصنف ٹھرے۔تو ادیب شاعر ٹھرے ،تو عالم فاضل ٹھرے۔تو سخن ورسخن شناس ٹھرے۔تو اپنے وقت کے سکندر ٹھرے۔تیری مثال کوئی نہیں۔
توبیمار ہوئے۔تومیں تجھ سے ملنے آیا۔میں نے تیرے سینے میں سررکھا۔تیری اکھیوں میں آنسو تھے۔تو نے کہا۔Attachmentہے کہdetachmentہے۔میں نے کہا ڈرتے کیوں ہوAttachmentہے۔فنا تجھے شکست نہیں دے سکتی۔میں نے کہا فخرموجوداتؐ پر کثرت سے درود بھیجا کرو۔تیرا حوصلہ بہت بلند ہوا۔تونے پھر کہا۔۔۔’’ہوش کومان،ہوش کومان‘‘پھر کئی مہینے گذرے میں تجھ سے ملنے آتارہا۔آخری بار آیا توتو پھر ہارنے والاتھا۔تونے غالب کا شعر سنایا۔
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا توخدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے ،نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا۔
آپ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔میں نے کہا ڈرتے کیوں ہو۔Attachmentہے۔آپ نے پھر کہا’’ہوش کومان،ہوش کومان‘‘تومجھے رخصت کرنے سے پہلے کہا کہ ایک پوری رات کیلئے آجاؤ میں آپ کے ساتھ کلاس لینا چاہتا ہوں۔پھر پچھتاؤگے۔پھر خبر دینے والوں نے کہا کہ آپ کی صحت بحال ہوگئی ہے۔۔لیکن میری قسمت میں کلاس لینی نہیں تھی۔میں نے تدبیر بنائی تھی مگر قسمت نے یاوری نہ کی۔میں چار تاریخ رات گئے گھر پہنچا۔دس تاریخ کو واپس آکر مجھے آپ کے ساتھ کلاس لینی تھی۔صبح پتہ چلا کہ رات کے پچھلے پہر آپ اپنے مالک حقیقی کے پاس تشریف لے گئے۔میں بیمار ہوں میں اب بھی بیمار ہوں۔میں آگر آوں بھی تو کس کے ساتھ کلاس لینے آونگا۔
تو میرے خوابوں میں آتا ہے کہ آج افاقہ ہوا تویہ تحریر لکھنے بیٹھا۔آج رات تو پھر میرے خوابوں میں آیا تھا۔اسی شان وشوکت اور جاہ وجلال سے۔اسی طرح شادمانی اور مسکراہٹ کے ساتھ تونے آتے ہی کہا۔۔۔۔اے ژان دنیا ہمونام بیرائے لا،، میں نے کہا سر!Attachmentہی تو ہے۔تو کہیں چلا نہیں گیا بس مجھے اکیلا کرگیا۔میں بے بس ،اکیلا تنہا۔۔۔کوئی لفظ مجھ پربوجھ بن جائے تو کہا جاؤں۔میں اکیلا تنہا،،،اب اس بیماری سے ٹھیک ہوجاونگاسیدگا تیری تربت پہ آجاونگا۔سرہانے خاموشی سے بیٹھونگا،تیری آواز آئے گی۔
’’اے ژان ہس کیہ دنیا،دنیا ہیہ بیرائے لا‘‘میرا دل پکارے گاAttachment۔
تیری موت زندگی ہے۔کیونکہ تیری یادیں شاداب ہیں۔فنا تجھے شکست نہ دے سکی۔توبادل تھا برس گیا تو دریا تھا سمندر میں اُتر گیا۔تو خوشبو تھا پھیل گیا۔تو چاند تھا غروب ہوگیا۔لیکن آکاش چمکتا گیا۔تو ایک احساس تھا سرائت کرگیا۔توسب کچھ کرنے آیا تھا سب کچھ کرکے گیا۔توبے مثال تھا مثال چھوڑ کے گیا۔تو تبسم اور مسکراہٹ لے کے آیا تھا۔چھوڑ کے گیا۔ہم تیرے نقش قدم میں ارم دیکھتے ہیں۔توباقی ہے اور ساقی بھی کیونکہ تیری یادیں باقی ہیں۔تیرے پاس بہت بڑی دولت ،جائیدادہوتی توتیری اتنی قدر نہ ہوتی۔تیرے پاس علم تھا۔کردار اور عظمت تھی۔جوباقی رہ گئے۔فنا تجھے کیا شکست دے۔تو انتقال کرگیا۔ایک مقام سے دوسرے مقام کو۔خالق حقیقی کے اور قریب جس مقام پہ تو لٹکا تھا لٹک کے دیکھایا۔شان وشوکت سے رہنے والے لوگ ایسا رہا کرتے ہیں۔تو سراپا زندگی تھے۔سراپا روح جو قفس عنصری میں قید تھے۔قفس عنصری کا کیا ہے مٹی کا بت۔
کیا تیرا جانا ضروری تھا؟
بہاریں روتی روتی ہچکیاں لے لے کے آئیں گی
فضائیں سوگوار ہونگی
درختوں پر پھر سے کونپل پھوٹ پڑیں گے
مگر افسردہ ہونگے
یہ بادل تھپ چار برسیں گے
مگر رو رو کر برسیں گے
پہاڑیں جتنی اونچی ہیں
سرنگوں ہونگے
یہ بچے کھیلتے کھیلتے رک سے جائیں گے
پھر روئیں گے
یہ ساری محفلیں افسردہ ودرماندہ ہونگی
یہ شاعر ڈھونڈنے سے لفظ نہ پائیں گے
سارے الفاظ روٹھیں گے
یہ نغمہ گرتو سارے گونگے ہونگے
تونے کیوں مسکراتی زندگی کو
سوگوار کرگئے
کیا تیرا جانا ضروری تھا؟۔۔۔۔۔

تیرا جانا ضروری تھا
کہ یاں پر آہ سرد کی بیکرانی تجھ پہ بھاری تھی
ہجوم غم میں گرکر تیری فطرت آہ بھرتی تھی
خنک سے آندھیاں آآکر
تجھ پہ دھول ڈالتی تھیں
یہ دھن دولت کے پجاری
یہ بیکاری
تیرے قدرناشناس ٹھرے
ہجوم آن پڑھاں میں تو اکیلا تھا
وہاں سے بار بار اُٹھتی ہوئی
لہریں بھی آتی تھیں اور مسکراتی تھی
تجھے واں کے بلاوے ملتمس ہوکر بلاتے تھے
کہ واں کی انجمن میں ایک تیری کمی سی پاتے تھے
اکیلے تھے یہ اقبال وغالب
فردوس وسیار بھی۔
انہھیں کو تیری کمی ہر قدم محسوس ہوتی تھی
تجھے تو واں پہنچنا تھا کہ جنت کی ہوس نے
تجھ کو یاں پہ بے آمان کردی
ویسے بھی واں پہ جانا تھا
حقیت کے اس دریا کو
حقیقت کے سمندر میں
جاکے ملنا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email