ہنزہ: گلیشیئر کے بڑھنے سے مصنوعی جھیل پیدا ہوگئی،مقامی آبادی کو نقصان کا خدشہ

گلگت: گلیشیئر میں مسلسل اضافے اور اس کے ساتھ ہی ڈیم کی شکل میں جھیل کی تخلیق سے ہنزہ میں عطا آباد جھیل جیسے سانحے کے خدشات پیدا ہوگئے۔ گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (جی بی ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ ڈیم کی شکل میں بننے والی جھیل کبھی بھی پھٹ سکتی ہے جس کی وجہ سے مقامی آبادی، انفراسٹرکچر سمیت دیگر کو بڑا نقصان ہوسکتا ہے۔ ہنزہ کے حسن آباد گاؤں سے چند کلومیٹر دور خطرناک گلیشیئر میں گزشتہ سال مئی کے مہینے میں اضافے کا آغاز ہوا تھا۔ غیر معمولی اضافے سے قریبی مچوہر گلیشیئر سے نکلنے والا پانی کا راستہ رک گیا ہے جو عام طور پر حسن آباد میں دریائے ہنزہ سے ملتا تھا۔ ڈیم کی شکل کے جھیل میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے اور وہ اب پھیل کر 700 میٹر تک پہنچ چکی ہے جس کی گہرائی 300 فٹ ہے جبکہ گلیشیئر میں 7 میٹر فی روز اضافہ بھی ہورہا ہے۔

حکام کا کہنا تھا کہ ادارے کی تشخیص کے مطابق ممکنہ جھیل کے پھٹنے سے کراکرم ہائی وے کا ایک حصہ، ایک پل، حسن آباد کے تقریباً 100 گھر، 2 پاور ہاؤسز، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کا کیمپ دفتر اور کئی سو کنال کی زرعی زمین تباہ ہوجائے گی اور اس کی وجہ سے دریائے ہنزہ کا بہاؤ بھی رک سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جی بی ڈی ایم اے گلیشیئر کے اضافے اور ڈیم کی شکل کی جھیل پر روزانہ کی بنیاد پر نظر رکھی جارہی ہے اور ماہرین نے علاقے کا دورہ بھی کیا ہے اور جھیل کے پھٹنے سے ہونے والے ممکنہ نقصانات کا تخمینہ لگایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قبل از وقت وارننگ کے نظام کو علاقے میں لگایا جاچکا ہے جس میں سیٹلائٹ کیمروں کی سہولت بھی موجود ہے جبکہ مقامی افراد کو ہنگامی صورتحال کے لیے اقدامات کرنے کی تجویز بھی دے دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر گلیشیر میں اس ہی رفتار سے اضافہ جاری رہا تو یہ آئندہ 2 ہفتوں میں 2 میگاواٹ کے حسن آباد پاور اسٹیشن سے ٹکرا سکتا ہے۔ دریں اثنا گلگت میں چیف سیکریٹری ہاؤس میں اس ہی حوالے سے اجلاس بھی منعقد کیا گیا۔

Print Friendly, PDF & Email