48

سعودیہ مہمان زندہ باد۔۔۔۔تحریر:حافظ امیر حمزہ سانگلہ ہل

جمہوریہ پاکستان کی ملک سعودی عرب سے دوستی اور تعلقات بے مثال ہے،اس کی بنیادی وجہ ایک تویہ ہے کہ وہاں پر ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شہرہے، جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے شب و روز گزارے اور پھر وہ دین اسلام کا قلعہ بھی ہے، جس کی بدولت کائنات میں بسنے والے تمام مسلمان اس پاک سرزمین ’’ سعودی عرب‘‘ سے دل و جاں سے عقیدت و محبت کرتے ہیں اور اس کی حفاظت و حرمت پر کٹ مرنے کواپنے لیے بہت بڑی سعادت سمجھتے ہیں، دوسرا کلمے کی بنیاد پر ہمارا ان سے دین اسلام کا ایک مضبوط رشتہ ہے ، ایسے ہی’’ سعودی عرب ‘‘ وہ عظیم ملک ہے جس نے ہر مشکل وقت میں ملک پاکستان کو اکیلا محسوس نہیں ہونے دیا بلکہ دل کھول کرحکومت پاکستان کی حمایت اور ہر قسم کا تعاون کیا ہے۔
گزشتہ دنوں وطن عزیز پاکستان میں بعض انتشار پھیلانے والے اور منفی پروپیگنڈہ کرنے والے لوگوں کی طرف سے مجھے ایک پوسٹ موصول ہوئی جس میں خادم الحرمین الشریفین کے بارے ان کی پاکستان آمد کی مناسبت سے تکلیف دہ کلمات لکھے ہوئے تھے، جسے پڑھ کرکوئی بھی باشعور ، عقلمند انسان قابل تحسین عمل ہر گز نہیں کہہ سکتا۔ دل بہت ہی افسردہ اور غمگین ہوا کہ خادم الحرمین الشریفین کی ملک پاکستان آمد کے حوالے سے اتنی پریشانی اور تکلیف کیوں ہو رہی ہے، یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ۔ کیا ولی عہد خادم الحرمین الشریفین کا یہ قصور ہے کہ وہ حرمین شریفین کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور وہاں ہر قسم کی سہولیات مہیا کرتے ہیں؟ کیا ان کا یہ قصور ہے کہ وہ ہر وقت دنیا بھر سے آئے ہوئے اللہ تعالیٰ کے مہمانوں یعنی عازمین حجاج کرام و عمرہ کرنے والوں کی حتی الوسع مہمان نوزای کرتے ہیں؟ کیا سعودیہ کا یہ قصور ہے کہ وہ مظلوم و مجبور اور بے کسوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کرتے ہیں؟۔ کیا ایسے انتشار پھیلانے والوں کو یہ نہیں معلوم کہ ہر آفت میں یا کسی بھی قسم کی مشکل میں’’ سعودی عرب‘‘ نے اہل پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑا۔ کیا ایسے لوگوں کو احسان فراموش نہیں کہہ سکتے جو اپنے اوپر کیے ہوئے احسان بھلا دیتے ہیں اور سعودی ولی عہد کی پاکستان آمد پر وہ ناخوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔
ایسے ذہن کے لوگوں نے پیارے پیغمبر حضرت محمد صلی علیہ وسلم کا یہ فرمان عالی شان نہیں پڑھا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے مسجد تعمیر کرنے والوں کے بارے میں اللہ رب العزت نے جنت میں گھر بننے کی بشارت دی ہے، تو سعودی حکومت تو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے گھر بیت اللہ شریف اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیر وترقی کے لیے ہر دم کوشاں رہتی ہے اور دنیا بھر میں اللہ تعالیٰ کے گھروں کی تعمیر وترقی کے لیے سعودیہ کے مخیر حضرات مساجد بنانے کا سلسلہ جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں ۔ ویسے بھی دین اسلام کے مطابق آئے ہوئے مہمان کی عزت و احترام کرنا ضروری ہے اور ہمارے پیارے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’مہمان رب العزت کی طرف سے رحمت ہے‘‘۔ اب اللہ تعالیٰ کی رحمت مہمان کے آنے سے خوش ہونا چاہیے نہ کہ اس کے آنے سے ناخوش ہوں۔
اب قابل غور وفکر بات یہ ہے کہ اگر ہم سعودی عرب پاک سرزمین اور خادم الحرمین الشریفین کے بارے میں منفی سوچ و فکر رکھتے ہیں تو ہمیں اپنی سوچ کو بدل کر دنیا کے سامنے ان کی دین و دنیاوی کاموں میں ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اس نعرہ کو بلند کرنا ہو گا پاک سعودیہ دوستی زندہ باد۔

Print Friendly, PDF & Email