45

صدا بصحرا ۔۔۔۔چھٹی جنگ کے نقارے ۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی 

اتوار 24فروری کو ملک کے بڑے شہروں اور قصبوں میں پاک فوج کے ساتھ یکجہتی کے لئے بڑے بڑے جلسے منعقد کئے گئے اور جنگ کی صورت میں بھارت کو سنگین نتا ئج کی دھمکیاں دی گئیں قدیم زمانے میں باد شاہ کسی ملک پر حملے کا اعلان کرنے کے لئے جنگ کا نقارہ بجانے کا حکم دیتے تھے آج کل ریڈ یو، ٹیلی وژن اور سوشل میڈیا نے اتنی آسانی پیدا کی ہے کہ ہر ایک کی جیب میں یا ہر ایک کے ہا تھ پر نقارہ بجتا ہے باد شاہ صرف’’ ٹو یٹ ‘‘ کر تا ہے اگلے لمحے سب چھوٹے بڑے مل کر محاذ سنبھالتے ہیں 14فر وری کو مقبوضہ کشمیر کے شہر پلوامہ میں قابض بھارتی فوج کے خلاف خود کش حملے میں 43فوجیوں کی ہلا کت کے بعد بھارتی قیادت نے کسی تحقیق اور تفتیش کے بغیر پا کستان کو مورِد الزام ٹھہرا کر اپنی فوج کو پاکستان پر حملے کے لئے تیار رہنے کا حکم دیا واشنگٹن میں امریکی قیا دت نے بھا رت کے ہاں میں ہاں ملا کر پاکستان پر الزام عا ئد کیا یو ں بھارت اور امریکہ نے ایک بار پھر ہمنوا ہو کر پاکستان کے خلاف جنگ مسلط کرنے کی فضا ہموار کی جواب میں پاکستان نے بھارت اور امریکہ کی طرف سے عائد کئے گئے بے بنیاد الزامات کو مسترد کیا سا تھ ہی اپنی فوج کو چو کس کر کے لائن آف کنٹرول سمیت پوری سر حد پر مو رچے سنبھالنے کا حکم دیا یوں 1948کے بعد چھٹی بار پاک بھارت جنگ کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں پاکستان میں دینی جما عتوں کے ساتھ دوسری اپو زیشن پارٹیوں نے مل کر بھارتی جار حیت کا مقا بلہ کرنے کا اعلان کیا ہے ا ب تک پاکستانی قوم کے خلاف بر سر پیکار طا لبان نے بھی بھارتی حملے کی صورت میں پاکستانی قوم کا ساتھ دینے کا عزم ظا ہر کیا ہے ایسے اعلانا ت کے بعد انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ISPR) کے سر براہ میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ بھارتی جارحیت پاکستانی قوم کو متحد کرنے کا ذریعہ بنتی ہے آج پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے پر عزم ہے 1948ء کی جنگ میں کشمیر کے محاذ پر لڑنے والے مجا ہدین میں سے جو لوگ زندہ ہیں ان کی عمر یں 90سال سے اوپر ہیں ان مین سے ایک مجا ہد چترال سکاوٹس کے وائرلیس اوپریٹر محمدا شرف خان96سال کی عمرمیں بقید حیات ہیں اور صحت مند ہیں اپنی یاد داشتوں کو تازہ کرتے ہوئے ایک ویڈیو انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ میجرطفیل محمد نشان حیدر اُس وقت محاذ پر ڈیوٹی دے رہے تھے جنگ بندی کے بعد باونڈری کمیشن مقرر ہوا میجر طفیل نے استور سے باونڈری کمیشن کے ارکان کو لیکر سرحدی چو کیوں کا دورہ کیا باونڈری کمیشن کو واپس رخصت کرنے کے بعد انہوں نے رئیر ہیڈ کوارٹر میں کرنل غلام جیلا نی کو وارئرلیس پر جو پیغام بھیجا وہ یہ تھا کہ باونڈری کمیشن نے جو تجا ویز دی ہیں وہ پاکستان کے حق میں ریڈ کلف ایوارڈ سے بھی زیادہ خطر ناک ہیں پاکستان کے پا وں پر پہلی کلہاڑی ریڈ کلف ایوارڈ نے ما ری تھی دوسری کلہاڑی اس باونڈری کمیشن نے ماری ہے میجر طفیل نشان حیدر نے جو پیغام دیا وہ مسلہ کشمیر کی تاریخ کا خلاصہ ہے کشمیر کو سب سے پہلے بر طانیہ کی حکومت نے متنا زعہ حیثیت دے کر پاکستان کے ساتھ اپنی دشمنی ظا ہر کی حالانکہ1931سے کشمیریوں نے ڈوگرہ کے خلاف تحریک شروع کی تھی اس کے بعد اقوام متحدہ نے کشمیر کے عوام کو ان کے جا ئز حق یعنی استعواب رائے سے محروم کر کے پاکستان دشمنی کا ثبوت دیا آج تک کشمیر کا مسئلہ صرف اقوام متحدہ کی نا کام پالیسی کی وجہ سے حل نہ ہو سکا گزشتہ 72بر سوں کے دوران پا کستان اور بھارت کے درمیان 4بڑی لڑ ائیاں لڑی گئیں ان میں 3جنگیں کشمیر پر لڑی گئیں ایک جنگ جو روک دی گئی وہ بھی کشمیر کے تنا ظر میں لڑی جانے والی تھی اور تاریخ یہ بتا تی ہے کہ کشمیر پر جو بھی جنگ لڑی گئی پاکستانی قوم ہر جنگ میں رضا کارانہ طور پر فوج کے شانہ بشانہ حصہ لیا 1948،1965 اور 1999میں قوم نے پا ک فوج کا بھر پور ساتھ دیا نو مبر1986ء میں بھارت نے ’’براس ٹیکس‘‘ نا می جنگی مشق کے بہانے اپنی فوج کو راجھستان میں پاکستانی سر حد کی طرف پیش قدمی کا حکم دیا تو جنرل ضیاء الحق نے ’’ضرب مومن ‘‘ کے نام سے فوجی مشقوں کا بہانہ بنا کر پاک فوج کو اگلے مورچوں کی طرف روانہ کر دیا جب دونوں فوجیں آمنے سامنے آگئیں تو دفاعی تجزیہ نگاروں نے خبر دی کہ پاکستان کے پاس ایٹمی طاقت آگئی ہے اگر چہ پاکستان نے باقاعدہ دھماکوں کے ذریعے جو ہری طا قت ہونے کا اعلان نہیں کیا تاہم بھارت کے تین چوتھا ئی رقبے کو 57شہروں سمیت 40منٹوں میں آگ لگانے کے قابل ایٹمی ہتھیار بنا چکا ہے جنگ کی صورت میں پاکستان روایتی ہتھیار وں کی جگہ ایٹمی ہتھیار وں پر انحصار کر ے گا اس خبر کے آتے ہی بھارتی قیادت کے تن بدن میں کپکپی لگ گئی اُن پر لر زہ طاری ہوا پاک بھارت کر کٹ میچ کے بہانے جنرل ضیاء الحق کو بھا رت کے دورے کی دعوت دی گئی اور میچ کے دوران طے پایا کہ دونوں حکومتیں جنگی مشقیں ختم کر کے اپنی فو جوں کو واپس بلائینگی چنانچہ جنگ کا خطرہ ٹل گیا عا لمی میڈیا نے اس کو ’’ کر کٹ ڈپلومیسی ‘‘ کا نام دیا امریکہ ، بر طانیہ اور اقوام متحدہ مل کر یہ خواہش رکھتے تھے کہ دونوں ملکوں میں جنگ ہو جائے البتہ سویت یو نین ، چین اور فرانس کا رویہ امن کے حق میں تھا چنانچہ امن کو راستہ مل گیا مو جودہ حالات میں امریکہ نے کھل کر جنگ کی حمایت کی ہے اور بھارت کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلا یا ہے بر طانیہ بھی جنگ کا حا می ہے ، فرانس کا رویہ بھی جنگ کی حمایت کے اشارے دے رہا ہے البتہ روس اور چین نے امن کو مو قع دینے کی حما یت کی ہے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی طرف سے اگر چہ مسائل کو افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے حل کر نے پر زور دیا ہے مگر یہ بات بیان کی حد تک ہے سلامتی کونسل میں اگر جنگ بندی کی قرار داد آگئی تو امریکہ اس کو ویٹو کردے گا امریکہ بھارت کا پرانا اتحادی ہے اور ہر جنگ میں امریکہ نے کھل کر بھارت کا ساتھ دیا ہے پلوامہ حملہ اگر چھٹی پاک بھارت جنگ کا پیش خیمہ بن گیا تو یہ روایتی جنگ نہیں ہو گی اس جنگ میں دونوں مما لک ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کرینگے دونوں طرف سے ہیرو شیما اور نا گا سا کی والی تاریخ دہرائی جائیگی سیا نے کہتے ہیں کہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہے مگر سیا نے یہ بات بھول جاتے ہیں کہ لا توں کے بھو ت با توں سے نہیں ما نتے اگر کشمیر کا مسئلہ مذاکرات ، افہام و تفہیم اور دوطرفہ بات چیت یا اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے ذریعے حل ہو نے کے قا بل ہو تا تو گزشتہ 72سالوں میں حل ہو چکا ہو تا لیکن معاملہ اس کے بر عکس ہے بھارتی قیادت کے لئے کشمیر میں دہشت گر دی انتخا بات جیتنے کا آسان نسخہ ہے جب چناؤ کے دن قریب آتے ہیں بھارت خود دہشت گر دی کر کے پاکستان پر الزام لگا تا ہے ہندو انتہا پسندوں کو شہہ دیتا ہے انتخا بات جیتنے کے لئے اس کو نعرے کے طور پر استعمال کرتاہے گزشتہ 10دنوں مین پلوامہ حملے کے متا ثرین اور مرنے والے فو جیوں کے لو حقین کی آہ و بکا کو بھا رت کے 75ٹی وی چینلوں کے ذریعے 24گھنٹوں کی نشریات میں مسلسل دکھا کر پاکستان اور مسلما نوں کے خلاف نفرت کی فضا پیدا کی گئی ہے جنگ کسی مسئلے کا حل ہو یا نہ ہو بھارتی قیادت کی ضرورت ہے اور بھارت چاہتا ہے کہ جنگ کے نقارے بجاکر ایک بار ہندو انتہا پسندوں کو اقتدار میں لا یا جائے اس مقصد کے لئے اگر 10لاکھ بھارتیوں کو جنگ کی بھٹی میں ڈال کر بھون دیا جائے تو پی جے پی قیا دت کے لئے یہ مہنگا سودا نہیں ہو گا

Print Friendly, PDF & Email