چترال،سڑک پر بنے کھڈوں اور گھڑوں کو تارکول بچھا کر مرمت کرنے کی بجائے مٹی کا استعمال کیا جارہا ہے

چترال(محکم الدین ) اکیسوین صدی کے اس دور میں جبکہ دنیا روز بروز ترقی کی طرف گامزن ہے ۔ وہاں ہماری حکومتوں کی ناقص پالیسیوں اور امتیازی سلوک کی وجہ سے بعض علاقوں کےلوگ پھر سے پتھر کے زمانے کی طرف لوٹ رہے ہیں ۔ جس کا ثبوت یہ ہے ۔ کہ 1985 میں بروز ایون روڈ کوپختہ کیا گیاتھا ۔ وقت گزرنے کے ساتھ مقامی لوگوں کو امید تھی۔ کہ اس سڑک کی سیاحتی اہمیت کو پیش نظر رکھ کر خراب شدہ اور اکھڑےہوئے حصوں کو تارکول بچھا کر مرمت کی جائے گی ۔ اور سڑ ک کی توسیع کرکے مقامی لوگوں اور سیاحوں کو سہولت دی جائے گی ۔ لیکن افسوس کا مقام ہے ۔ کہ سڑک پر بنے کھڈوں اور گھڑوں کو تارکول بچھا کر مرمت کرنے کی بجائے مٹی کا استعمال کیا جارہا ہے ۔ اور مٹی سے کھڈوں کو بھرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ مقامی لوگوں نےاس جدید ترقی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے ۔ کہ تیس سال پہلے تارکول سے پختہ کردہ سڑ ک کے کھڈوں کو اب مٹی سے بھرنا پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا ناقابل فراموش کارنامہ ہے۔انہوں نے کہا ۔ کہ بروز ایون کالاش ویلیز روڈ پر پوری دنیا کے سیاح اور چالیس ہزار مقامی لوگ سفر کرتے ہیں ۔ ان کو اس روڈ پر جس مشکل سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ ہمارے حکمرانوں کی بے حسی کی قلعی کھولنے کیلئے کافی ہے۔ مقامی لوگوں نے پختہ سڑک پر مٹی بچھانے کے عمل کو مسترد کیا ہے۔ اور مطالبہ کیا ہے ۔کہ سڑک کے خراب شدہ حصوں اور کھڈوں کو دوبارہ تارکول بچھا کر پختہ کیا جائے ۔ اور نئ ایون بمبوریت این ایچ اے روڈ کی تعمیر کا کام بھی فوری شروع کیا جائے ۔ جس کا لوگ گذشتہ دو سالوں سے شدت سے انتظار کر رہے ہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email