تازہ ترین
بنیادی صفحہ >> مضامین >> کیا فوج کوباڈر تک ہی محدود ہونا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر وقاص احمد ایڈووکیٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا فوج کوباڈر تک ہی محدود ہونا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر وقاص احمد ایڈووکیٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ لوگوں کا یہ اعتراض ہے کہ فوج کا کام باڈر تک ہی محدود ہونا چاہیے پاکستان کو وجود میں آٸے ہوے 72 سال کا عرصہ گزرگیا ان 72 سالوں میں ایوب خان سے لیکر جنرل مشرف تک تقریباً 25 سال پاکستان کی حکومت فوج کے پاس رہی ہے اور اس دوران بھی اسمبلیوں میں  وزیراعظم اورکوٸی وزیر فوجی نہیں تھے وہ بھی سول افراد ہی تھے جیسا کہ ضیا الحق کے دور میں نواز شریف وزیراعظم تھا جبکہ ذولفقارعلی بھٹو ایوب خان کے دور میں وزیرخارجہ تھے اس حقیقت سے کوٸی انکار نھیں کرتا میں نے صرف دو پارٹیوں کے سربراہوں کا نام لیا دیگر سیاسی لوگوں کی ایک بڑی لسٹ ہے فرض کریں فوج کو بارڈر تک ہی محدود رکھتے ہیں جبکہ کسی دوسرے ملک میں اگر کوٸی گائے کنوں میں پھنس جاتا ہے تو فوراً ریسکیو کے لیے ہیلی کاپٹر پہنچ جاتاہے اس طرح تمام قدرتی آفات اور دیگر کاموں کے لیے ہرمحکمے کے پاس اپنے اپنے جہازہوتے ہیں جوبوقت ضرورت کام کر سکتے ہیں کیا پاکستان میں ایسا کوٸی ادارہ موجود ہے جو ایمرجنسی اورقدرتی آفات کے وقت لوگوں کی مدد کریں اگر 2005 کے زلزلے میں فوج باڈر ہی پر ہوتے تو کتنے کشمیری مزید لقمہ اجل بن جاتے کشمیر میں سب سے پہلے پہنجنے والا پاک فوج تھا کیا دہشت گردوں کو پکڑنے کاکام پولیس کا نہیں ہیں؟ ہمارے ملک کے پولیس کے پاس کتنے ہیلی کاپٹرزہیں کیا ریسکیو نام کا کوٸی ادارہ پاکستان میں موجود ہے یہ سول حکومت کو ایسے کام کرنے کے لیے کس نے روکا ہے ان کے پاس کتنے ہیلی اور کتنے افراد ہیں کیا ایمرجنسی میں کوٸی غوطہ خور موجود ہے اگر کہیں آگ بھی لگ جاتا ہے تو فوج کی مدد کے بےغیر کوٸی اُس آگ پر قابو نہیں کر پاتا چترال ہی میں واشچ کے مقام پر لوگوں کے گھروں کے اوپر برف کے تودے گرے 35 افراد لقمہ اجل بن گئےجائے حادثہ پر سب سے پہلے پاک فوج پہنچ گیا زلزلے میں ریسکیو کا کام فوج کا ،سیلاب میں ریسکیو کا کام فوج کا 72 سالوں میں 25 سال نکال کر دیکھے یہ سول حکومت نےعوام کے لیے کیا کیا ہے جبکہ 47 سال ملک میں سویلین حکومت تھی آپ اپنے ارد گرد دیکھے اگر خدا نہ کریں کوٸی غوطہ خورکی ضرورت پڑے تو ہم کہاں جاٸنگے کس سے مدد لینگے اگر فوجی حکومت ڈیم نہ بناتے تو ہمارا کیا حال ہوتا یہ اسلام آباد کو کس نے بنایا بلوچستان میں اسلام آباد جیسا شہر بنانے کو کس نے روکا ہے کیا پاکستان میں ایک اور شہرآباد کرنے کے لیے زمین نہیں ہیں جب سول حکومت آتی ہے تو وہ چوری کےعلا وہ کچھ نہیں کرتے اگر فوج نہیں ہوتی تو یہ حکمران لکڑبکڑ کی طرح ہمیں کھا لیتے ایک ایم این اے  انکم ٹیکس کلرک ،ایک میٹر ریڈر ایک سکیل 5 میں ملازم آج سیاست دان بن کرارب پتی بنتے ہیں کیا یہ اسمیلی ہال میں کوٸی خزانہ چھپا ہوتا ہے وہاں پہنچ کر اس کو حاصل کیا جاتاہے ہرایک اپنے اپنے علاقوں میں دیکھے اگر ایک شخص ایم پی اے بن جاتا ہے ایم پی اے بنتے وقت اس  کے پاس ساٸیکل نہیں ہوتی جب ایم پی اے بن جاتا ہے اسلام آباد میں محل ،دوبٸی میں فلیٹ یہ کہاں سے آتی ہے کیا انکی تنخواہ اتنی زیادہ ہیں اس طرح ایک ایم پی اےسے لیکر وزیراعظم تک کتنی کرپشن ہوتی ہے آپ خود اندازہ ایک ایم پی اے سے لگالیں یہ جمہوریت کے نام سے یورپ اور دیگر ممالک کا نقل اتارتے ہیں جب کوٸی وزیر کرپشن کرکے گرفتار ہوتا ہے تو شرمندگی کے مارے ڈوبنے کے بجائے ویکٹری کا نشان لگاتے ہیں جب دیگر ممالک میں کرپشن کا الزام دور کی بات اگر کسی پر چھوٹی سے کام کے لیے انگلی اُٹھتی ہے تو فوراً شرم کے مارے استعفی دیتے ہیں ہمارے نام نہاد جمہوری لوگ ھتکڑیوں میں فتح کا نشانہ لگاتے ہیں گویا کشمیر کو فتح کرنے پر گرفتار ہواہے مجھے جمہوریت نہیں چاہیے مجھے جینا ہے مجھے میرے بچوں کے پیٹ پالنے کی ضرورت ہے جو لوگ فوج پر بھونکتے ہیں ان کو اپنے گربان میں دیکھ کر شرم انا چاہیے آپ کے پاس آگ بھجانے کے لیے فاٸیر بریگیڈ میں پانی نہیں ہوتا جب آگ لگ جاتی ہے تو سب کچھ ختم ہونے کے بعد پہنچتے ہیں جب فوج نہیں پہچتا دو دن پہلے چیوپل  بازارمیں دو دوکانوں کی آگ بھجانے کے بجائے فاٸیر بریگیڈ کی خالی ہوانے مزید تباہی مچادی اس لیے میں کہتا ہوں پاک فوج پاٸندہ باد پاکستان زندہ باد

Print Friendly, PDF & Email