71

لمحہ فکریہ۔۔۔ گوادرکاشغررہداری اور سنٹرل اشیاء شاہراہ کی تعمیر ساتھ ساتھ کرنا عین ممکن ہے ۔۔ عنایت اللہ اسیر

گوادر کراچی لاہور کاشغر تجارتی COORIDOOR ECONIMIC کی تعمیر چائینا گوادر سنٹرل ایشیا شاہراہ کی تعمیر ریشن فیڈریشن کے تمام ممالک ملکر کرینگے مرکزی حکومت گوادر کاشغر تجارتی کوری ڈور کے اپنے مجوزہ نقشے کے مطابق بنانے کی ضد پر قائم ہے۔ اگر حکومت گوادرسنٹرل ایشیا شاہراہ کی تعمیر میں مخلص ہے اور دلچسپی رکھتی ہے تو پھر تاجکستان میں گوادر سنٹرل ایشیا کانفرنس بلا کرتمام ممالک کے وزرا کو اس عظیم شاہراہ کی تعمیر کی زمہ داری سونپی جا سکتی ہے۔
)خصوصیات(
(1پاک وطن بدخشان افغانستان کی سرحدات سے لیکر گوادر تک مختصر ترین زمینی راستہ تمام سہولیات کے ساتھ تعمیر کرنے کے لئے زمین فراہم کرنے کی ز مہ داری لیکر اس کا آغاز گوادر کاشغر روڈ کے ساتھ ساتھ کیا جا سکے گا۔
(2اس شاہراہ کی تعمیر سے پاکستان کے صوبہ بلوچستان صوبہ سرحد کے 90% پسماندہ علاقے ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائینگے۔
(3 پیارے ملک پاکستان کو سمندر سے چترال تک ایک اور پر سہولت شاہراہ ہندوستان کے بونڈری سے 7 سے 8 سو کلو میٹر دور فراہم آجائینگی۔
(4 یہ شاہراہ دہشت گردی کے خاتمے اور علاہدگی پسند تحریکوں کا راستہ روکنے کا سبب ہوگا۔
(5 اس راستے کی تعمیر کیلئے وافر بنجر بارانی زمین نہایت ارزان نرخ پر دستیاب ہوگی خام مال کچے پہاڑوں کی صورت میں موجود ہوگی۔
(6 اس راستے کی تعمیر سے ملک کے تمام راستے موٹر وے اور دیگر رابطہ سڑکوں پر ٹریفک میں کوئی خلیل نہیں پڑے گا اس شاہراہ کے ساتھ ساتھ آنے جانے کے ریلوے ٹریک بھی بچھا کر وسیع تر مقاصد کے حاصل کرنے کا زریعہ ہوگا۔ اس شاہراہ کو درہ خیبر سے افغانستان اور لواری ٹنل وادی چترال سے تاجکستان تک وسعت دیکر اسی راستے کو روس یورپ ترکی تک ملا کر پورے یورپ کو چین ، انڈیا تک مظبوط معاہدے کے تحت زمینی راستہ میسر ہوگا۔
(7 اس شاہراہ کو چمن سے ملا کر سنٹرل ایشیا کے فارسی تہذیب تک رسائی کیلئے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔
(8 گوادر کاشغر کوری ڈور کی تعمیر سے مظبوط دوست ملک کو مختصر زمینی راستے سے سمندر تک رسائی پورے یورپ افریقہ اور امریکہ کے تمام ریاستوں عرب ممالک اور ایران تک رسائی حاصل ہوگااور اس کی تعمیر کے اخراجات دوست ملک چین برداشت کریگا۔جبکہ سنٹرل ایشیا گوادر شاہراہ کی تعمیر میں 20 ممالک حصہ لین گے اور اس 2000 کلومیٹر تاریخی اور اہم شاہراہ کی تعمیر 2015 سے2115 تک کیلئے مظبوط منصوبہ بندی کے ساتھ کیا جائے اور اس شاہراہ کی تعمیر مکمل ہونے پر خطے کے تمام ممالک میں معاشی ترقی کے تجارتی راہین ہموار ہونگے اور ہر ملک کی تعمیر و ترقی کے پورے دنیا سے خام مال ہر ملک میں پہنچانا آسان ہو جائیگا۔ عمومی طور پر ہر ملک اس سے فائدہ حاصل کریگا مگر خصوصی طور پر پاک وطن کی اہمیت خطے میں 100 گنا بڑھا جائیگا اور اگر انڈیا سے مظبوط معاہدے کے تحت اس راستے کی سہولت دیدی گئی تو پھر انڈیا پانی اور دیگر معاملات میں پاک وطن کو بلیک میل نہیں کر سکے گا۔
اس شاہراہ کی تعمیر کیلئے 100 سال تک کی ضروریات کو پیش نظر رکھکر چند تجاویز
1) سڑک چھ رویہ تعمیر کی جائے۔
2 ) سڑک کے دونوں کے اطراف میں ریلوے لائین جہان تک ممکن ہو بجلی پرچلنے کی سہولیات کے ساتھ ساتھ بچھائے جائے۔
3 ) سڑک کے درمیانی حصے کو اتنا چوڑا رکھا جائے کہ سبزہ ،سایہ، پھل ،پھول، پارکس اور ہوٹلز بھی دونوں طرف سے استعمال کے سہولیات کے ساتھ رکھے جائیں۔
4 ) ہر پانچ سو کلو میٹر بعد ایک ائیر پورٹ درمیانی حصے میں تعمیر کئے جائیں جہاں ایمرجنسی رسپانس کے لئے اور DISASTER MANANGEMENT کے تمام سہولیات موجود ہیں۔
5 ) ہر دو سو کلو میٹرپر ہیلی پیڈز بمعہ ہیلی کاپٹرز موجود ہوں۔
6) ہر بڑے شہر میں دو گھنٹے سے لیکر چار گھنٹے تک گاڑیوں کے رکنے مرمت کرنے اور تازہ دم ہونے کی سہولیات SHAIDOW SERVICES کی کرائے پر پر سہولت اور NOMINAL کرائے پر مختلف ممالک سے آنے والے مسافروں کے لئے دستیاب ہوں تاکہ مختصر وقت کیلئے مسافر قریبی شہروں میں جانا چاہیں تو انکو یہ سہولیت میسر ہوں ان سینٹرز میں ٹورسٹ گائیڈز کی فراہمی بھی میسر ہو ۔
7ٌ ) اس شاہراہ کو سنٹرل ایشیا سے گوادر تک سولر پینلز انرجی سے رات دن کی روشنی اور قوت سے مزین کیا جائے تاکہ یہ راستہ پوری دنیا کیلئے ایک عجوبہ نظر آئے اور آسمان کی بلندیوں پرپرواز کرنے والے ہوائی جہازوں کیلئے بھی رہنمائی کا بھی سبب ہوگا۔
قریب قریب بارش کے پانی کے زخائر انڈر گراونڈ اور اوپر بنا کر راستے کے درمیانی حصے کو وافر پانی سے مستقل طور پر مستفید کیا جائے۔
اس بین الاقوامی شاہراہ کے ہر بڑے شہر کے قریب DRY PORTS تیار کرکےcold storages بارش سے محفوظ گودام کے ساتھ کنٹینرز کی دستیابی کی سہولیات کے ساتھ تعمیر کئے جائیں۔
تمام فائیر لائنز ، ٹیلی فون کبلز ، انڈر پاس اور اور پاسسز گیس اور بجلی کے انڈر گراونڈ محفوظ لائینوں کیلئے سڑک کے تعمیر کے ساتھ ہی سوچا جائے ۔راستے میں VIP,S , V.VIP,S تاجر برادری اور سیاحوں کے علاوہ عوام الناس عام مسافروں کیلئے بھی ان کے مالی استطاعت کے مطابق کھانے ، پینے ، رہائش ، کے انتظامات ہر انٹر چنج اور سروز ایریاز میں بنائے جائیں ۔
تعمیر کے اخراجات:
سینٹرل ایشیا کے تمام ممالک ایران افغانستان اور ترکی کو ملا کر تین سو کلو میٹر فی ملک کے حساب سے تعمیر کے اخراجات تعمیر کے کام کی نگرانی اور تعمیرکی زمہ داری سونپی جائے ہر ملک کے حصے میں آئے ہوئے علاقے میں اس شاہراہ کے ساتھ بڑے کارگو فلائیڑ C1- 30 جہازوں کو اترنے اور اڑنے کیلئے ائیر پورٹس ، گودام اور رہائشی سہولیات وافر مقدار میں فراہم کئے جائیں ۔ پاکستان صرف زمین غیر متنازعہ فراہم کرنے کا زمہ دار ہوگا یہ شاہراہ جس ضلع اور ایجنسی سے گزرے وہاں کا ضلعی انتظامیہ زمین بمطابق ضرورت فراہم کرنے کا اور کام کرنے والوں کی حفاظت کا زمہ دار ہو۔راستے میں موڑوں کی کثرت سے قطعا اجتناب کی جائے ۔ پلوں اور پاسسز ، انڈر پاسسز اور سرنگوں سے استفادہ کیا جائے یہ کام کھربوں روپے کے اخراجات کا متقاضی تو ہے مگر بیس بچیس ممالک کے لئے اس شاہراہ کو سنٹرل ایشیا سے گوادر تک پہنچانا نا ممکن نا ہوگا ۔صرف ورکنگ گروپ کے بہتر پلاننگ سے یہ کام بہتر طریقے سے انجام پائے گا اگر گوادر کاشغر اکنامک کوریڈور کے کام کے ساتھ بھی اس مختصر ترین زمینی راستے پر بھی گفت وشنید کا آغاز حکومتی سطح پر شروع کیا جائے تو پورے ملک کے باشندے ان دونوں شاہراہوں کے مثبت نتائج سے مستفید ہونگے۔ پاکستان کا افرادی قوت ہر شعبے میں لاکھوں کی تعداد میں کام آئے گا پاکستان کے محنتی اور ہنر مند طبقہ ملک سے باہر جانے کے بجائے ملک میں ہی برسر روزگار ہونگے بلکہ باہر کے ممالک سے بھی ہنرمند افراد پاکستان میں مزدوری کیلئے آئینگے۔ اگر 2016 کے آغاز سے ہی ان دونوں بین الاقوامی شاہراہوں کی تعمیر کا کام شروع کیا گیا تو قومی اتفاق رائے بھی موجودہ حکومت کو حاصل ہوگی 2018تک عملی کام کا 50% مکمل ہوچکا ہوگا جو موجودہ حکومت کا نا قابل فراموش کارنامہ اور پاکستان کی ترقی کا آئینہ دار ہوگا اگر آنے والی حکومت جسکی بھی ہو اس کام کی تسلسل کو نہ توڑا تو 2020 , 2021 تک بین الاقوامی ٹریفک کا آغا ز ہوکر پاکستان کو تجارتی منڈی ، سیاحتی مرکز ، پورپ ایشیا اور دیگر تمام ممالکوں کو آپس میں ملانے کا زریعہ ہوکر پاکستان کی اہمیت کو پوری دنیا کے لئے لازمی ضرورت کی حیثیت حاصل ہوگی۔
اہم بات:
فلحال وقت ضائع کئے بغیر موجودہ کچے پکے ٹرک ایبل راستوں کو ہی قابل استمعال بنا کر پشاور دیر چترال گرم چشمہ ایشکشم تاجکستان تجارت اور سیاحت کیلئے کھول دیا جائے۔ سنٹرل ایشیا کے اسلامی ممالک اور افغانستان کیلئے ویزوں میں نرمی کرکے ایک مہینے کے اندر بین القوامی تجارت کا آغاز کیا جاسکتا ہے ۔یہ راستے سال بھر لواری ٹنل سے پاکستان کو دستیاب ہیں ۔تمام جائز تجارتی ایشیا کو پاکستان سے خرید کر افغانستان اور تاجکستان لے جانے کی راہداری کا سہل ترین طریقہ اختیار کرکے کروڑوں کی زمینی تجارت عین ممکن ہے ۔ پشاور اور چترال میں خشک گودی DRY PORTS کا انتظام کرکے افغانستان کے تمام شمال مغربی صوبوں اور تاجکستان تک کیلئے ہر قسم کی سامان کی ترسیل کو ااسان بنایا جا سکتا ہے اور لواری ٹنل کی تعمیر پر کھربوں روپے کے اخراجات کی واپسی قلیل معیار میں اس طریقے سے ممکن ہوگا۔ سنٹرل ایشیا ، افغانستان اور پاکستان کے سربراہان کا مشترکہ اجلاس مزید وقت ضایع کئے بغیر تاجکستان ، افغانستان یا پاکستان میں بلا کر اس کام کی اصولی منظوری اور ورکنگ گروپ کا قیام عمل میں لاکر اس کام کا آغاز مظبوط بنیادوں پر کیا جاسکتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں