47

قیام پاکستان سے اب تک بجلی کی روشنی سے محروم گاؤں پست وارڈپ دروش کے باشندوں نے بالا خر خواتین اور بچوں سمیت احتجاج کا راستہ اختیار

چترال ( محکم الدین ) قیام پاکستان سے اب تک بجلی کی روشنی سے محروم گاؤں پست وارڈپ دروش کے باشندوں نے بالا خر خواتین اور بچوں سمیت احتجاج کا راستہ اختیار کیا ہے ۔ اور اس سلسلے میں انہوں نے پیر کے روز سے اوسیاک پل پر دھرنے کا آغاز کیا ہے ۔ اور کہا ہے ۔ کہ گاؤں پست وارڈپ کو بجلی فراہم کئے بغیر وہ اپنا دھرنا ختم نہیں کریں گے ۔ چاہے ان کی جان کیوں نہ چلی جائے ۔ دھرنے کے جگہے پر مردو خواتین کی بہت بڑی تعداد موجود ہے ۔ اورباپردہ خواتین انتہائی مجبوری کے عالم میں یہ راستہ اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے وارڈپ اور ملحقہ دیہات کے ویلج نائب ناظم ریٹائرڈ صوبیدار امیر فیاض نے کہا ۔ کہ 120گھرانوں پر مشتمل اس گاؤں کے ساتھ حکومت کی طرف سے ہمیشہ سوتیلی ماں کا سلوک ہوتا رہا ہے ۔ یہ گاؤں بجلی اور پانی دونو ں سے محروم ہے ۔ اب تک تین افراد دریا سے پانی لاتے ہوئے بے رحم موجوں کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ۔ جبکہ مزید جانی نقصانات کا خدشہ موجود ہے ۔ جبکہ بجلی سے یہ علاقہ یکسر محروم ہے ۔ اور کوئی بھی عوامی اور حکومتی نمائندہ ان لوگوں کی آہ و زاری سننے کیلئے تیار نہیں ۔ اس لئے لوگوں کو انتہائی مایوسی کے عالم میں خواتین اور بچوں کے ساتھ احتجاج کرنا پڑا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ افسوس کا مقام یہ ہے ۔ کہ آدھا کلو میٹر سے کم فاصلے پر دروش شہر بجلی کے قمقموں سے چمک اٹھتا ہے ۔ اور پست وارڈپ کے باسی دور سے ان روشنیوں کو دیکھ آہیں بھرتے زندگی گزار رہےہیں ۔ اورعلاقے کو دیکھ کر پتھر کے زمانےکی یاد تازہ ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بجلی نہ ہونے کے سبب بچوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہو رہی ہے ۔ کیونکہ انہیں روشنی کی سہولت حاصل نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اس گاؤں کودروش اور گولین گول بجلی گھر دونوں کی بجلی سے دانستہ طور پر محروم رکھا گیا ہے ۔ جبکہ یہ لوگ بجلی کے پول کی تنصیب کا کام بھی بغیر معاوضہ اپنی مدد آپ کے تحت بھی کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ کیونکہ بجلی سے محرومی اب ان کیلئے ناقابل برداشت ہو چکا ہے ۔ امیر فیاض نے کہا ۔ کہ مظاہرین دروش مین چوک میں دھرنا دینا چاہتے تھے ۔ لیکن فی الحال انہیں اوسیاک پل پر روک دیا گیا ہے۔ جہاں انہوں نے دھرنے کی صورت میں اپنا احتجاج کا آغاز کر دیا ہے ۔ تاہم ان کے مطالبے کو حکومتی توجہ نہ ملنے کی صورت میں دروش بازار چوک میں دھرنادینے سے انہیں کوئی نہیں روک سکتا ۔

Print Friendly, PDF & Email