تازہ ترین
بنیادی صفحہ >> تازہ ترین >> نئے بلدیاتی نظام کا ترمیمی مسودہ منظور, نائب چیئرمین کا عہدہ بحال

نئے بلدیاتی نظام کا ترمیمی مسودہ منظور, نائب چیئرمین کا عہدہ بحال

محکمہ قانون خیبر پختونخوا نے نئے بلدیاتی نظام کا ترمیمی مسودہ منظور کرلیا۔ترمیمی مسودہ کے مطابق صوبے میں تحصیل اور ویلج و نیبرہڈ کونسل کی سطح پر ناظمین اور نائب ناظمین کی جگہ چیئرمین اور نائب چیئرمین کا انتخاب کیا جائیگا۔محکمہ قانون سے منظور کئے گئے ترمیمی مسودے میں 62 ترامیم کی گئی ہیں جن میں نائب چیئرمین کا عہدہ بحال رکھا گیا ہے۔پشاور میں سٹی لوکل گورنمنٹ قائم کی جائیگی، ماتحت محکموں کی فہرست میں محکمہ آبنوشی کو بھی شامل کر لیا گیا ہے جبکہ ڈی لمیٹیشن اتھارٹی کو ختم کرتے ہوئے کوآرڈینیشن یونٹ ترتیب دیا جائیگا۔پشاور میں یونیورسٹی ٹائون کی موجودہ حیثیت برقرار رکھی گئی ہے جہاں تجارتی سرگرمیوں کیلئے مالک جائیداد کو قانون کی منظوری کے دو سال کے اندر اندر محکمہ بلدیات کو درخواست اور اس کی فیس بھی ادا کرنا ہوگی۔دوسری جانب صوبائی ڈی لمیٹیشن اتھارٹی کو کوآرڈینیشن یونٹ میں تبدیل کردیا جائیگا جو ویلج و نیبرہڈکونسل کی حلقہ بندیوں میں الیکشن کمیشن کو معاونت فراہم کریگا اور مردم شماری میں رابطہ جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے طلب کئے گئے سروے، ترقیاتی منصوبوں کیلئے درکار معلومات اور دیگر امور کیلئے کیلئے یونٹ مقامی حکومتوں کے ساتھ کام کریگا۔مسودے کے مطابق تحصیل چیئرمین کا انتخاب جماعتی بنیادوں پر براہ راست ہوگا جو اپنے فیصلوں اور احکامات سے ہونے والے نقصان کا ذمہ دار ہو گا۔ویلج و نیبرہڈ کونسل کے چیئرمین تحصیل کونسل کے ارکان ہوں گے تحصیل کونسل کے پہلے اجلاس میں کونسل اپنے لئے نائب چیئرمین کا انتخاب کرے گا جو کونسل کے اجلاس منعقد کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔سٹی لوکل کونسل کے چیئرمین کے پاس تحصیل چیئرمین کے اختیارات کے علاوہ زونز کے قیام، ٹریفک اور سڑکوں کے امور، ٹیکس کے نفاذ، انفراسٹرکچر کے قیام اور ہائوسنگ کی ذمہ دای جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ سسٹم کی منظوری، ایکسپریس وے، فلائی اوور، پل، سڑکوں، انڈر پاسس اور اندرون شہر گلیوں کی تعمیر کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔علاوہ ازیں سٹی لوکل کونسل کا چیئرمین ہی میونسپل پلان، ٹریٹمنٹ پلانٹ، سیوریج کے نظام ، طوفان کے باعث ڈرینج کے نظام کی تیاری، فلڈ کنٹرول پروٹیکشن، صنعتوں اور ہسپتالوں کا زہریلہ فضلہ ٹھکانے لگانے، ماحول کی بہتری، ہوا، پانی اور مٹی کو آودگی سے بچانے، پارکوں ، میدانوں اور کھیل کی سہولیات کی فراہمی کیلئے اقدامات کرے گا۔اس کے ساتھ ساتھ چیئرمین شہری ہائوسنگ کی ترقی، ثقافتی مقامات کی دیکھ بھال، لائبریریاں اور کمیونٹی سنٹر کے قیام، بیوٹیفیکیشن کے منصوبوں کی منظوری سمیت پانی ذخیرہ کرنے، کچرا ٹھکانے لگانے کا بھی ذمہ دار ہوگا۔ترمیمی مسودے کے مطابق ویلج و نیبرہڈ کونسل میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والا چیئرمین جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والے جنرل کونسلر کو نائب چیئرمین کا عہدہ دیا جائیگا۔ویلج و نیبرہڈ کونسل اپنے موجودہ فرائض کے ساتھ ساتھ حکومتی سروے کرنے، بجٹ منظور کرنے، کھیلوں اور ثقافتی میلوں کے انعقاد، تعلیم، صحت، زراعت، واٹر اینڈ سینی ٹیشن اور محکمہ مال کے امور کی نگرانی بھی کریں گے جبکہ خود ویلج و نیبر ہڈ کونسلوں کے معاملات اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کو سونپے گئے ہیں۔مسودے کے مطابق مقامی حکومتیں ترقیاتی گرانٹ کا دو فیصد انسانی وسائل کی ترقی پر خرچ کرنیکی پابند ہوں گی، کونسل سے بجٹ منظور نہ ہونے کی صورت میں لوکل گورنمنٹ کمیشن کو بجٹ کی منظوری کی درخواست دی جائیگی جو 30 روز میں فیصلہ کریگی جسے چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔لوکل گورنمنٹ کمیشن میں 5 تحصیل چیئرمین شامل ہوں گے جنوبی اضلاع، وسطی اضلاع، مالاکنڈ ڈویژن، ہزارہ ڈویژن اور قبائلی اضلاع میں سے ایک ایک تحصیل چیئرمین کو لوکل گورنمنٹ کمیشن میں شامل کیا جائیگا۔مسودے کے مطابق وزیراعلیٰ چیئرمین کے کسی بھی فیصلے یا حکم کو معطل کر سکتا ہے۔ بلدیاتی انتخابات کرانے کیلئے قانون کی منظوری کے 6ماہ کے اندر اندر تمام انتظامی امور مکمل کئے جائیں گے۔ترمیمی مسودے کے مطابق محکمہ آبنوشی، ابتدائی و ثانوی تعلیم، بنیادی مراکز صحت، رورل ہیلتھ سنٹرز اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال، سماجی بہبود، کھیل اور امور نوجوانان، توسیع زراعت، لائیوسٹاک، فشریز، مٹی کے تحفظ، بہبود آبادی، واٹر اینڈ سینی ٹیشن، دیہی ترقی اور کوآرڈیشن کے محکمے مقامی حکومتوں کے ماتحت ہوں گے۔ذرائع کے مطابق محکمہ بلدیات کی درخواست پر 16 اپریل کو صوبائی کابینہ کا اجلاس طلب کیا گیا تھا جس میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کا ترمیمی مسودہ منظور کیا جانا تھا تاہم وزیراعظم کے مشیر ارباب شہزاد کی جانب سے ترمیمی مسودے پر بریفنگ طلب کیے جانے کے باعث کابینہ اجلاس ایک دن کیلئے ملتوی کر دیاگیا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ محکمہ بلدیات و دیہی ترقی کے افسران وفاقی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کو ترمیمی مسودے پر بریفنگ دیں گے جس کے بعد کابینہ اجلاس میں اس کی منظوری دی جائے گی۔

Print Friendly, PDF & Email