یار سخی ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر;;پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی 

اپریل کی صبح اپنا ایک خاص جادو رکھتی ہے آج کی صبح بھی نیم خنک جمیل پہاڑی جھرنوں کی شبنمی پھوار جیسی تھی اپریل آدھے سے زیاد ہ گزر چکا تھا لیکن پھر بھی موسم میں گرمی کی حدت نہیں تھی بارشوں کی وجہ سے خنکی اور خوشگوار یت کا تاثر ابھی تک قائم تھا صبح کا وقت مو سم کی شاداب لطافتیں سورج کی سنہری کرنوں سے سر گوشیاں کر رہی تھی چڑھتے سورج کی کر نیں میرے گھر کی چار دیواری سے لپٹی بو گن و یلیا کے سفید پھولوں کو چوم رہی تھیں میں گھر کی چھت پر بیٹھا لان میں لگے امرود مسمی مالٹے کے درختوں کے پتوں کی شادابی کو خوب انجوائے کر رہا تھا درختوں پر آنے والے موسم کے پھلوں کی نازک کلیوں اور پھولوں پر نظرجمائے میں صبح کا لطف اور درختوں کے شاداب سبز حسن کو خوب انجوائے کر رہا تھا رات کی نیند کا خمار صبح کا وقت مقتدی خوشگوار ہوا سامنے سر سبز شاداب درخت کیف انگیز سرشاری میرے انگ انگ میں دوڑ رہی تھی میں صبح کے دل ا ٓویز حسن کا شکار دنیا مافیا سے کٹ چکا تھا ہوا کے جھونکوں سے جھولتے پھولوں کو دیکھتے دیکھتے خانہ دل کے نہاں خانے میں ایک شگوفہ پھوٹا خوشبو کا جھونکا سا آیا اور میر ی نیم وار آنکھوں کی نیند کا فور ہو تی چلی گئی میری نیند اور صبح کے خمار میں غرق اعصاب بیدار ہو تے چلے گئے مجھے پھولوں جیسا وہ شخص یادآگیا جو موجودہ دور کے بنجر ویران بد بو دار معاشرے میں پھولوں جیسی شگفتگی اور مہک رکھتا تھا جو مذہب کا علمبردار نہیں تھا لیکن حقیقی خدمت خلق کا مسافر تھا جس کی زندگی کا ہر پل دوسروں کی زندگی سنوارنے میں بنانے میں خرچ ہوتا تھا وہ جہاں بھی جاتا اپنے کر دار کی خوشبو سے اُس جگہ کو مہکا دیتا ویران آنکھوں میں خوشی کی کرنیں لے آتا امید کے دیپ جلا دیتا کو ئی بھی اُس کے سامنے آکر اپنی ضرورت پریشانی کا اظہار کر تا اُس پر ایک جنون سا طاری ہو جاتا ایک بے چینی بے قراری اُس پر طاری ہو جاتی پھر اُسے اُس وقت تک چین نہ آتا جب تک وہ اُس کی پریشانی ضرورت پو ری نہ کر دیتا کیونکہ احقر بھی تصوف اورراہِ فقر کا طالبِ علم ہے اِس لیے جب بھی کو ئی شخص میری زندگی میں ایسا آیا جو حقیقی معانوں میں خدمت خلق کے عہدے پر فائز ہو تو وہ میری سہیلی دوست یار بن جاتا ہے ایسے لوگ آج کے مہذب بنجر زمانے میں خال خال ہی ملتے ہیں لیکن پھر بھی کبھی کبھی ایسے لوگ ویران اجاڑ بستیوں کو آباد کر نے آہی جاتے ہیں ایسے ہی زندہ آباد لوگوں کے دم سے معاشرے زندہ رہتے ہیں اِس شخص کا مجھ سے تعارف چند سال پہلے ہوا جب یہ کسی غریب بچی کو لے کر میرے پاس آیا کہ اِس کے ماں باپ فوت ہو چکے ہیں اِ س کے آگے پیچھے کوئی بھی نہیں ہے میں نے ہی اِس کی شادی کی ہے اب اِس کے سسرال والے اور اِس کا خاوند اِس کو تنگ کر تے ہیں میرے سے جو کچھ ہو تا ہے میں کر تا ہوں لیکن پھر بھی خاوند تنگ کر تا ہے جب میں نے دیکھا کہ اِس شخص کا اِس لڑکی کے ساتھ کو ئی خونی رشتہ نہیں ہے لیکن یہ پھر بھی اِس کے درد کے مداوے کے لیے کو شش کر رہا ہے تو یہی بات میرے دل میں گھرکر گئی مجھے ایسے لوگوں کی تلاش رہتی ہے میرے بتائے ہو ئے وظاءف میں اللہ نے برکت ڈالی لڑکی کا میاں اور سسرال والے بہتر ہو گئے تو یہ شخص بہت خوش ہوا ‘ میری اِس شخص سے دوستی ہو گئی اب یہ بار بار میرے پاس آنا شروع ہو گیا ہر بار کسی پریشان بیمار مفلوک حال شخص کو لے کر آتا خود بھی اُس کی مدد کر تا ‘ اگر کام اُس کی اوقات سے بڑھ کر ہوتا تو اُسے میرے پاس لے کر آجاتا دوسروں کا درد دور کر نا اسی لئے میں نے اُس کا نام یار سخی رکھ دیا جو ہر وقت دوسروں کی مدد پر تیار رہتا تھا اب اِس کے ملنے والے بھی میرے پاس آتے تھے انہوں نے جب مجھے اِس کی خوبیاں بتائیں تو میں اِس کا اور بھی گروید ہ ہو گیا تھا لوگوں کے بقول یہ شروع میں سبزی منڈی میں کام کرتا تھا کسی درویش سے ملاقات ہو گئی تو زندگی کے اطوار چال چلن ہی بدل گئے ‘ اب زندگی کا مقصد یہ ٹھہراکہ مختلف درباروں پر جمعرات کے دن لنگر پکانا پھر لوگوں میں بانٹنا اب سخی اور اُس کے مرشد کا کام تھا‘ پنجاب کے دور دراز کے ایسے درباروں کا انتخاب جن کے اطراف میں غریب لوگ رہتے تھے اب یہ اِن درباروں پر جاکر بیل بکرے اور چاولوں کی دیگیں پکاتے پھر خوشی خوشی لوگوں میں بانٹتے چند سال بعد ہی مرشد درویش انتقال کر گیالیکن سخی کو سخاوت کی عادت ڈال گیا ‘ یار سخی کی زندگی بد ل چکی تھی وہ دن رات لوگوں کی مدد اور خدمت کے چسکے میں لگ چکا تھا مجھے جب اِس کی خوبیوں کا پتہ چلا تو میں نے کہا یار سخی کسی دن مجھے بھی لنگر کھلا ءوتو سخی بہت خوش ہوا کہ اِس جمعرات میں نے فلاں دربار پر بیل ذبح کر کے کچا گوشت غریبوں میں بانٹنا ہے ‘ پروفیسر صاحب آپ بھی میرے ساتھ چلنا اور پھر میں مقررہ دن وہاں پہنچا تو سخی بہت خوش تھا اب میرے سامنے اُس نے غریبوں میں گوشت بانٹنا پھر لنگر کا کھانا لوگوں میں تقسیم کیا اِس عمل کے دوران سخی کے چہرے اور جسمانی حرکات دیکھنے والی تھیں ‘ لگ رہا تھا اُس کے لیے عید کا دن ہے اور وہ اپنے بال بچوں میں لنگر اور خوشیاں بانٹ رہا ہے اُس کے جسم کی پھرتی چیتوں جیسی تھی وہ ادھر اُدھر بھاگ کر لوگوں کی خدمت کر رہا تھا اُس کی خوشی دیکھ کر مجھے خدمت خلق کی حقیقی روح نظر آرہی تھی خدمت خلق کے نمائشی چمپئین مجھے اِس کے سامنے کیڑ ے مکوڑے نظر آرہے تھے یہاں سے فارغ ہو کر سخی مجھے اپنے گھر لے گیا جہاں اُس کی بیوی اور بچوں نے بتایا کہ خدا کے لیے ہمارے باپ کو بریک لگائیں جس طرح یہ سخاوت کے دریا بہا رہا ہمارے لیے کچھ بھی نہیں بچے گا بیوی دہائیاں دے رہی تھی کہ سخی صاحب صرف دوسروں کی مدد کے لیے زندہ ہیں میری اولاد کی تین دکانوں پر ضرورت مندوں کو بٹھا دیا ہے وہ دکانیں مفت میں اُن کے نام بھی لگا دی ہیں باقی دکانوں کا جو کرایہ آتا ہے اُس سے ہمارا گزارا ہوتا ہے لیکن یہ ایڈوانس کرا یہ لے کر غریبوں کی مدد کر دیتا ہے زرعی زمینیں آدھی سے زیادہ بیچ کر غریب لڑکیوں کی شادی کرا چکاہے کوئی ضرورت مند اگر آجائے تو اُس کی ضرورت پو ری کر نے کے لیے سخی صاحب کو دورہ پڑ جاتا ہے لوگوں سے ادھار لے کر اُس کی ضرورت پو ری کر تا ہے ‘ گھر میں فاقے ہو تے ہیں لیکن یہ دوسروں کے بجھے چو لہے روشن کر نے پر لگا رہتا ہے میں نے محبت بھری نظروں سے سخی کو دیکھا اور بولا یار سخی یہ کیا تو بولا پروفیسر صاحب مجھ سے کسی کی تکلیف دیکھی نہیں جاتی میں لوگوں کی مدد نہ کروں تو میرا سانس رکنے لگتا ہے اور پھر میں خو شیوں کی سوغات لے کر گھر آگیا جب بھی رمضان آتا سخی میرے پاس آتا ضرورت مندوں کی لسٹ نکالتا جن کو وہ رمضان میں راشن دیتا تھا مجھے سر گوشی میں کہتا پروفیسر صاحب ان ضرورت مندوں کے نام دیں جن کو راشن دینا ہے پھر میں نے نام دے دیئے جن کو سخی راشن دے کر آتا پھر دوسال پہلے یہ ہمالیہ جیسا انسان موت سے شکست کھا کر آسودہ خاک ہو گیا اب پھررمضان کی آمد آمد ہے مجھے سفید لٹھے میں ملبوس یار سخی یاد آرہا ہے جو آکر اسرار کر تا پروفیسر صاحب راشن والوں کی لسٹ دیں سخی کی یاد نے شدت پکڑی تو میرے قدم قبرستان کی طرف بڑھنے لگے سخی کی قبر پر جاکر دعا کی مجھے آج بھی سخی اِدھر اُدھر لوگوں کی مدد کر تا نظر آرہا تھا اُس کا سراپا باتیں سخاوت مجھ سے بات کر نایاد آیا تو میری آنکھوں سے آنسوءوں کے قطرے سخی کی قبر پر گرنے لگے اور میں یہ کہتے ہو ئے واپس آگیا یار سخی آئی مس یوٹو مچ ۔

Print Friendly, PDF & Email