85

رویّہ میں تبدیلی کا وقت ہے …..تحریربقلم۔۔ ارشاد اللہ شادؔ ۔۔۔ بکرآباد چترال

fff2
عجیب اتفاق ہے آج صبح سے ایک موضوع باربار ذہن سے ابل کر کاغذ پر آنے کیلئے مجھے بے تاب کر رہا تھا۔ صبح سے اس ادھیڑ بن میں تھا۔ایک مرتبہ تو ہاتھ میں قلم لیکر بیٹھ گیا لیکن پھر اس موضوع کو چھیڑنے کی ہمت نہیں ہوئی ۔ موضوع بالکل سیدھا سادہ تھا اور عوام الناس کیلئے سبق آموز تحریر تھا تو میں قلم کی سہارے سے نشیب و فراز باتیں لکھنا شروغ کیا اور ہر ذی ہوش انسان کیلئے سوچنے کی بات ہے کہ اگر کتا کسی برتن میں منہ مار جائے تو استعمال سے پہلے اس برتن کو بار بار دھویا جاتا ہے بلکہ مٹی سے مانجھا جاتا ہے تا کہ کتے کی نجاست اور اس کے زہر کا اثر بالکل ختم ہو جائے ۔ ہمارا پیارا ملک پاکستان ایک طویل عرصے تک کتے سے بد تر انگریز کی دسترس میں رہا اور انگریز یہاں پر سالہا سال تک منہ مارتا رہا اور ہر طرف اپنا زہر اور اپنی نجاست پھیلاتا رہا۔ ضروری تھا کہ اس کے جانے کے بعداس ملک کو انگریزی نجاست اور انگریزی زہر سے پاک کیا جاتا لیکن انگریز اپنے پیچھے ان لوگوں کو بٹھا گیا جو انگریزی نجاست کے محافظ تھے چنانچہ آج بھی مسلمانان پاکستان پر وہی تھانہ اور وہی تھانیدار مسلط ہے جو انگریز نے بنایا تھا۔وہ لہجہ ، وہی زبان، وہی سوچ اور وہی بد خصلتی ، قانون بھی وہی ہے اور عدالت بھی وہی ، محکمے بھی وہی اور تعلیم بھی وہی، انگریز زمانے میں ’’ خفیہ اہلکاریعنی دہشت گرد‘‘ علماء کرام ، اسکول و مدارس کے پیجھے لگے رہتے ہی تھے۔اور مسلمانوں کا برا حال کرتے تھے، لیکن قصور ان کا نہیں تھا سانپ کی فطرت ہے کہ وہ کاٹتا ہے لیکن اگر مسلمان اپنے ہاتھ سے ڈنڈا رکھ دے اور سانپ کو مارنا چھوڑ دے تو تب سانپ کاٹے گا۔ کبھی کسی بزرگ کے پاؤں میں کاٹے گا، کبھی کسی بیٹی کے ہاتھ پر کاٹے گا، کبھی کسی اماّں کی گردن پر کاٹے گا، کبھی کسی بچے کو کاٹے گا۔ سانپ کی فطرت ہے کاٹنا دشمن کافر کی فطرت ہے کہ مسلمان کو ذبح کرنا بے حرمت کرنا، ان کی مساجد کو چھیننا ان کے سکولوں اور مدارس کو بند کرنا ، ایمان کو فروغ دینے والے مراکز کو بند کرنا ۔ قصور ہمارا تھا دکھ اور افسوس ہمارا ہے موقع نہیں ہے کہ انسان ہم سے مسکرائے ۔ آج ہم عیسائیوں کے پجاری بن گئے،ہمیں تعلیم کہاں اچھے لگے گی جس اسکول اپنے آپ کو نہ پہچان ، جس نے ساری زندگی امریکیوں کو خدا مانا ہو، وہ امریکیوں کے خلاف کفار کے خلاف لڑ سکے گا۔جس نے ساری زندگی عیسائیوں کو رب تسلیم کیا ہو روزی بھی وہاں سے آتی ہے اس لئے کہ ’’ آئی ایم ایف‘‘ ورلڈبینک وہاں بنا ہوا ہے، وہاں کا ڈالر قیمتی ہے، وہاں کا پونڈ طاقت ور ہے، جو اپنا روزی دینے والا بھی ان کو سمجھے گا کیا وہ اپنے عفت مآب ماؤں، عزت مآب بہنوں، اور شہید نونہالاں بچوں کا انتقام ان درندوں سے لے سکے گا۔؟ ؟ ادراک انسان کیلئے یہ سوالیہ نشان ہے۔۔؟؟
ہمارے ان روشن خیال مسلمان بھائیوں بہنوں کو سوچنا چاہیے کہ خود کو مہذب، غیر جانبدار، اصول پسند، اور با اخلاق کہلوانے والی مغربی اقوام کی اخلاقی گراوٹ اور پستی کا کیا عالم ہے؟؟ہمارے یہاں ان اقوام کو شرافت و تہذیب کا نمونہ اور اخلاقی برتری کی علامت سمجھا جاتا ہے ان کی ’’اعلی‘‘ اقدار ایسی مسلم ہے کہ جو حرکت وہ کریں، رہن سہن کا جو طریقہ ان سے منسوب ہوگا، عادات و اطوار کی جو شکل وہ اختیا ر کریں ، وہ مغرب پسندیدہ سمجھی جاتی ہے۔دنیا کی کوئی حرکت چاہے وہ کتنی معیوب ہو، شکل و صورت کوئی بھی ہئیت چاہے وہ کتنی قبیح کیوں نہ ہو ، جب وہ اپنا لیتے ہیں تو وہ ہمارے ترقی پسند اور روشن خیال مسلمانوں کے نزدیک قابل تقلید بن جاتی ہے کیونکہ ان کی فوقیت اور بلند حیثیت کا رعب ہماری اس نئی نسل پر چھایا ہوا ہے ، جو اپنی روحانی نام و نسب سے آگاہ نہیں۔اور انکے اسلاف اور ان کے درمیان انگریز کا طویل دور حکومت حائل ہو چکا ہے۔۔
درحقیقت ان اقوام کا اخلاق سے عاری پن ان کے مختلف رویّوں سے صاف واضح ہو جاتا ہے بشرطیکہ ہم ان سے مرعوب ہونے کی بجائے کھلے ذہن سے ان کی تہذیب اور کردار کاناقدانہ جائزہ لیں اور اپنے مذہب سے مظبوط رشتہ قائم کرکے اسلام کے تعلیم کردہ اعلی اخلاق کا مطالعہ کریں اور انہیں اپنے معاشرے پر غالب کرکے ان کو برتر حیثیت دلوائیں ۔ ہم نے مغرب کو ہوا اپنے اوپر طاری کرکے اس سے در آمد کردہ ہر چیز کو کس طرح اپنے لئے لائق اتباع اور قابل فخر سمجھ رکھا ہے یہ زندہ اقوام کے مزاج سے میل نہیں کھاتا۔
اگر ہم واقعی روشن خیال ہے تو ہمیں اپنے تابناک ماضی سے روشنی حاصل کرنی چاہئے، اپنے اسلاف پر فخر کرنا چاہیے، ورنہ ہم اندھی تقلید کی جس روش پر چل رہے ہے وہ ایسی تاریک خیالی ہے جو ہمارے مستقبل تاریک کر سکتی ہے۔۔۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں