60

سانحہ پشاور اور اہم اعلانات۔۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

اگرچہ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ 16دسمبر کووطن عزیز کی تاریخ کے سیاہ ترین دن کے طورپر یادرکھاجائے گااس دن کے حوالے سے دیگر واقعات بھی رونماء ہوئے ہوں گے مگر16دسمبر2014کوسفاک اوربے رحم قاتلوں نے آرمی پبلک سکول پشاورکے معصوم طلباء اوران کے اساتذہ کوجس بے دردی سے خون میں نہلاکرشہید کردیاتھااس پر آج قوم کے ہر فرد کی آنکھ آشکبارہے اورپاکستانی قوم اسے کبھی بھلانہیں پائے گی نہ ہی اس سانحہ میں اپنے لہوسے تاریخ رقم کرنے والے بچوں کی لازوال قربانی کوکبھی رائیگاں جانے دے گی۔پوری دنیانے اس بہیمانہ واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہوگی مگردکھ اور تکلیف کی اس گھڑی میں قوم کومایوس ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ قوموں کی تاریخ میں ایسے واقعات اور سانحات رونماء ہوتے رہتے ہیں تاہم جس قوم کے پاس افواج پاکستان کی طرح عظیم فوج ہوجنرل راحیل شریف کی طرح نڈراور بہادرجس کاسپہ سالار ہووہ قوم ماحول کے خونی منظرسے ڈرتی ہے ، گھبراتی ہے نہ مایوس ہوجایاکرتی ہے اور مذکورہ سانحہ رونماء ہونے کے بعد پاکستانی قوم نے عزم واستقلال اور جرات وبہادری سے اس کاعملی مظاہرہ بھی پیش کیا۔پچھلے سال 16 دسمبرکوپیش آنے والے سانحہ نے بشمول سیاسی وعسکری قیادت وطن عزیزکے طول وعرض میں پوری قوم کو جس طرح یکجاکردیاتھامعصوم شہداء کی پہلی برسی کے موقع پر ٹھیک وہی منظردکھائی دیا۔16دسمبرکوآرمی پبلک سکول پشاور کے شہداء کی پہلی برسی جس شایان شان طریقے سے منائی گئی ماضی کی تاریخ میں اس کی بھی کوئی مثال نہیں ملتی۔16 دسمبرکے شہداء کی پہلی برسی کے موقع پر آرمی پبلک سکول پشاورمیں منعقدہ تقریب میں وزیراعظم نوازشریف،آرمی چیف جنرل راحیل شریف،وزرائے اعلیٰ،گورنر،پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان ،وفاقی وزراء اوردیگراعلیٰ سیاسی وعسکری حکام نے شرکت کی۔وزیراعظم نوازشریف نے یادگارشہداء پر حاضری دی توجنرل راحیل شریف نے برسی کی تقریب کے مہمانوں کاخود اسقبال کیاجبکہ آئی ایس پی آر کے جاری کردہ نغموں نے تقریب کے شرکاء سمیت پوری قوم کے جذبات کوگرمادیا۔شہداء کی برسی محض آرمی پبلک سکول اور پشاورتک محدود نہیں رہی بلکہ ملک کے طول وعرض میں پوری قوم نے متحد ویکجاہوکر اس موقع کی مناسبت سے دعائیہ تقریبات منعقدکئے ، ریلیاں نکالی اور سرکاری ونجی تعلیمی اداروں میں خصوصی تقریبات منعقد کئے گئے جن میں شہداء کی لازوال قربانی کوشاندارالفاظ میں خراج عقیدت پیش کیاگیا،شہید طلباء کے والدین اور ورثاء سے یکجہتی اور انتہاپسندی ودہشت گردی کوشکست دے کر تعلیم کامشن آگے بڑھانے کے عزم کااظہارکیاگیا۔موصولہ اطلاعات کے مطابق اس حوالے سے کیڈٹ کالج سوات میں منعقدہ تقریب میں جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل نادرخان نے خصوصی شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر سوات محموداسلم وزیرنے شہیدمدثرکی قبرپر حاضری دی اور پھول چڑھائے۔سوات میں اقلیتی برادی نے یکجہتی کے اظہارکے لئے ریلی نکالی جس کی قیادت اقلیتی ضلعی کونسلر بلدیوکمارنے کی۔اسی طرح ہر ضلعی سطح پرمقامی انتظامیہ اور ضلعی حکومتوں کی جانب سے خصوصی تقاریب کاانعقادنظرآیاغرض یہ کہ ملک بھرمیں قوم نے شہید ہونے بچوں کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے حصول تعلیم کے مشن کوآگے بڑھانے کے عزم کا بھرپوراظہارکیامگراس کے ساتھ ساتھ جواہم اعلانات سامنے آئے ان میں وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے آرمی پبلک سکول پشاور کویونیورسٹی کادرجہ دینااور16دسمبرکوقومی عزم تعلیم کے طورپر منانے کااعلان ،قومی اسمبلی میں 16دسمبرکو’’پاکستان چلڈرن ڈے‘‘ منانے کی قراردادکی متفقہ منظوری ،پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی جانب سے ہری پورمیں بننے والی ٹیکنیکل یونیورسٹی کوشہداء اے پی ایس کے نام سے منسوب کرنے کااعلان اور وزیراعلیٰ پرویزخٹک کی جانب سے آرکائیوزلائبریری کے احاطے میں یادگارشہداء کی تعمیر اورآرکائیوزلائبریری کوشہداء کے نام سے منسوب کرکے اس کانام’’ شہدائے آرمی پبلک سکول میموریل لائبریری‘‘ رکھنے کے اعلانات قابل ذکررہے ۔وزیراعظم نوازشریف نے اے پی ایس کے شہداء کی پہلی برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سانحہ پشاور نے پوری قوم کو ہلاکررکھ دیا،بچوں کے لہونے قوم کومتحد کردیا،قوم سے یہ عہد ہے کہ اپنے بچوں کی قربانی کو فراموش نہیں کریں گے اور ان کے لہو کے ایک ایک قطرے کاحساب لیں گے۔اسی عزم کااظہار پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے بھی کیاہے برسی کے موقع پرآرکائیوزلائبریری پشاورمیں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاہے کہ اے پی ایس کے بچوں کی لازوال قربانیوں نے قوم کو دہشت گردی کے خلاف متحد کردیا ہے اور بچوں کی قربانی کاہی نتیجہ ہے کہ آج ملک میں دہشت گردی کے واقعات ختم ہونے کے قریب ہیں۔ادھراسپیکرآیازصادق کی زیر صدارت ہونے قومی اسمبلی کے اجلاس میں16دسمبرکو’’پاکستان چلڈرن ڈے‘‘منانے کی قرارداد پیش کی گئی جسے متفقہ طورپر منظور کرلیاگیا۔ 16دسمبر کے سانحہ پشاور کے شہداء کوخراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ ان کے مشن کوآگے بڑھانے کے لئے ٹھوس اقدات اٹھائے جائیں اور اس حوالے جواعلانات کئے گئے ہیں اور جن بامقصد عزائم کااظہارکیاگیاہے انہیں یقینی طورپر قابل عمل بنایا جائے نہ کہ یہ بھی محض سیاسی وعدے ہی ثابت ہوں ۔نیشنل ایکشن پلان کواس کے روح کے مطابق آگے بڑھایاجائے اور سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر قوم سلامتی کے ایشوزپراسی طرح متحد ویکجارہاجائے جس طرح اے پی ایس کے سانحہ کے دن نظرآیاتھا۔اس میں کسی کو کوئی شک نہیں ہوناچاہئے کہ اس ارض پاک کی حفاظت کے لئے کمربستہ دلیرافواج پاکستان کی پشت پر پوری قوم کھڑی ہے اور جس قربانی کامظاہرہ قوم نے اپنے افواج کے شانہ بشانہ رہتے ہوئے1965ء میں کیاتھاآج بھی وہی جذبہ زندہ ہے اور اسی جذبے کے تحت ملک وقوم کے دشمنوں کومنہ کی کھانی پڑے گی۔آرمی پبلک سکول کے شہداء کی جرات اور لازوال قربانی کوسلام عقیدت۔ گزرتوجائے گی تیرے بغیر بھی لیکن ۔۔۔بہت اداس بہت بے قرار گزرے گی۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں