کالاش قبیلے کے رہنماءوں نے کالاش ویلیز روڈ کی خستہ حالی اور مقامی لوگوں کو درپیش مشکلات پر شدید رد عمل کا اظہار 

چترال ( محکم الدین ) کالاش قبیلے کے رہنماءوں نے کالاش ویلیز روڈ کی خستہ حالی اور مقامی لوگوں کو درپیش مشکلات پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے ۔ اور کہا ہے ۔ کہ کالاش فیسٹول چلم جوشٹ کی خریداری کیلئے کالاش مرد و خواتین اوربچوں کو انتہائی پُر خطر راستوں سے گزر کر چترال شہر آنا پڑ تا ہے ۔ اور جان ہتھیلی پر رکھ کر وہ یہ سفر کرنے پر مجبور ہیں ۔ کالاش ویلی رمبور کے معروف شخصیت شہزادہ کالاش نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ۔ کہ اس مرتبہ سڑکوں کی حالت انتہائی مخدوش ہے اُسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا ۔ ہر سال چلم جوشٹ کے موقع پر مقامی لوگوں اور سیاحوں کو سہولت دینے کیلئے ان کچی سڑکوں پر روڈ قلی مٹی ڈالتے تھے ۔ جس سے کچھ بہتری آتی تھی ۔ اب کے بار موجودہ حکومت میں یہ تکلیف بھی گوارا نہیں کی گئی ۔ جس سے مسافروں کی جانیں خطرے میں ہیں ۔ اور کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ حکومت سیاحت کی ترقی کی باتیں کرتے نہیں تھکتی ۔ لیکن اب تک یہ دل خوش کن افواہیں ہی ثابت ہو چکی ہیں ۔ جن کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نظر نہیں آرہا ۔ شہزادہ کالاش نے کہا ۔ کہ ایون صحن کی رمبور بمبوریت جانے والی سڑک میں نہر مسکور کے اوپر ڈالے گئے سلیب کو توڑ دیا گیا ہے ۔ جس سے لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں اور گاڑیاں گھنٹوں اس جگہے کو کراس کرنے کیلئے انتظار کرنے پر مجبور ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اس روڈ پر واحد قلی گذشتہ کئی مہینوں سے نہیں دیکھا گیا ۔ اور نہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو اس روڈ کی مرمت کیلئے کوئی اقدامات کرتی ہے ۔ جس سے لوگ انتہائی پریشان ہیں ۔ انہوں نے مطالبہ کیا ۔ کہ چلم جوشٹ فیسٹول جو کہ 12مئی سے کلاش وادیوں میں شروع ہو رہا ہے ۔ سے پہلے مقامی لوگوں اور سیاحوں کو سہولت دینے کیلئے روڈ کی مرمت کی جائے ۔

Print Friendly, PDF & Email