میر ے باقی پیسے کدھر گئے؟ ۔۔۔ الیاس محمد حسین

OOO ایک بوڑھی کا بیٹا دبئی گیا تو جاتے ہوئے اپنی والدہ کو اپنا موبائل دے گیا تاکہ رابطے میں آسانی رہی ۔۔۔ایک دن بیٹے سے بات کرنے کےلئے بوڑھیا نے 200 روپے کا کارڈ لورڈ کیا بیلنس 150کے قریب آیا اس نے پوچھا یہ کیا معاملہ ہے میرے باقی پیسے کدھر گئے؟
دکاندارنے کہا ماں جی!باقی ٹیکس کٹ گیاہے
اچھا بوڑھیا نے سرہلاتے ہوئے کہا پھر بھی نگوڑے حکمران کہتے ہیں خزانہ خالی ہے غریب ٹیکس نہیں دیتے روزانہ کروڑوں لوگ موبائل فون میں ایزی لوڈ کرواتے ہیں پتر یہ پیسے جاتے کدھر ہیں؟ دکاندار مسکراکر چپ ہورہا وہ کیا بتاتا یہاں تو اس سوال کا جواب بڑے بڑے دینے سے قاصرہیں
پاکستان شایددنیاکا واحد ملک ہے جہاں موبائل صارفین سے سب سے زیادہ ٹیکس لیا جاتاہے سستے پیکج کے نام پر سیلولر کمپنیاں، ٹیکسز کے نام پر حکومت اور سروس چارچزکی آڑ میں ایزی لوڈ والے صارفین کا خون نچوڑرہے ہیں کہا جارہاہے کہ ٹوٹل کا سٹ آف موبائل اوونر شپ(TCMO) میں 147% اورموبائل فون پر عائدسیلز ٹیکس میں30%اضافہ دیکھنے میں آیاہےTCMOایک گلوبل بینچ مارک ہے جس کے ذریعے دنیا کے کسی بھی ملک میں موبائل فون پر محصولات سے صارفین کے لئے موبائل فون سروس کے حصول اور استفادہ میں آسانی اور مشکلات کا اندازہ لگایا جا سکتاہے۔عام لوگوںکا خیال ہے کہ سیلولر کمپنیاں صارفین کو ٹیکنیکل طریقے سے لوٹ رہی ہیں بات کرتے کرتے اچانک آوازآنا بند ہو جاتی ہے یارابطہ منطقع ہوجاتاہے صارف مجبوراً دوبارہ کال ملاتاہے یہ بات بھی سیلولر کمپنیوںکے فائدے میں جاتی ہے ۔۔۔روزانہ لاکھوں صارفین کو UNKNOWNنمبروں سے مس کالیں آتی ہیں بیشتر لوگ ان نمبروںپر فون کرنے پر مجبورہو جاتے ہیں کہ نہ جانے کون یاد کررہاہے بعض اوقات لوگوںکی تلخ کلامی بھی ہو جاتی ہے کہ آپ ہمارے نمبر پر کیوں مس کال MISS CALLکیونکرکررہے ہیں ۔۔یہ بھی ان موبائل فون کمپنیوںکی شرارت ہوتی ہے صارفین کو یہ بھی شکایت ہے کہ سیلولر کمپنیوںکے منٹ کا دووانیہ60سیکنڈ کی بجائے50-45سیکنڈ کاہوتاہے یعنی مختلف حیلوں ،بہانوں اور تراکیب سے صارفین کی جیبیں کاٹنا معمول کی بات بن کررہ گئی ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔۔۔ کئی سیلولر کمپنیاں صارفین کی ڈیمانڈکے بغیرہی مختلف پیکیج لوڈکردیتی ہیں جس پرروزانہ کٹوتی ہوتی رہتی ہے اور ان خودساختہ پیکیج ختم کروانے کےلئے بھی لوگوںکو پیسے ادا کرنا پڑتے ہیں ایک طرف حکومتی ٹیکسزکی بھر مارہے تو دوسری طرف سیلولر کمپنیوںنے انھی ڈال رکھی ہے جس کی وجہ سے اس انڈسٹری کی ترقی متاثرہورہی ہے سابقہ چیف جسٹس آف پاکستان میاںثاقب نثار نے سیلولر کمپنیوں کی لوٹ مار کے خلاف ازخودنوٹس لیتے ةہئے تمام ٹیکسز ختم کردئےے تھے ان کا استدلال تھا کہ ہر شخص سے ٹیکس نہیں لیا جا سکتا ٹیکس صرف اسی سے لیا جائے جو انکم ٹیکس دیتاہو بہرحال چاردن کی چاندتی پھر اندھیری رات کے مصداق یہ رعائت ختم کردی گئی موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان نے موبائل فون کے تمام ٹیکسز بچال کردئےے اس طرح سیلولر انڈسٹری پر ٹیکسزکی بھرمار اور امتیازی سلوک نے پاکستان کو ٹیکسوںکی بلند شرح والے ممالک میں سرِ فہرست لاکھڑا کیاہے جو ایک پسماندہ ملک کے غریب شہریوںکےلئے انتہائی ظلم والی بات ہے آپ انداز لگا سکتے ہیں اس انڈسٹری میں اتنی کمائی ہے کہ جیز نامی کمپنی نے وارد اور ٹیلی نار جیسے بڑے اداروںکو خریدلیاہے جس سے اس کی مناپلی ہوگئی ہے اور تو اور ہمارے حکمرانوںنے سیلولر انڈسٹری کو انتہائی منافع دینے والی صنعت سمجھ رکھاہے دیگرشعبوںکی طرح” کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے“کے مصداق صرف ٹیکس وصول کرنا ہی مقصد جان لیا ہے اس سوچ نے ٹیکسٹ جنریشن3Gٹیکنالوجی کے پھیلاﺅمیں بھی مشکلات پیش آرہی ہیںموبائل اپریٹرکی گلوبل ایسوسی ایشن(GSMA) کی تحقیق کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں موبائل فون کی سہولت کے مقابلے میں حکومتی انٹرسٹ زیادہ ہونے کی وجہ سے نیٹ ورک کی بہتری کےلئے سرمایہ کاری پر بھی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں شاید اسی بناءپر3G اور4Gٹیکنالوجی کی نیلامی کے موقعہ پر کچھ سیلولر کمپنیوںنے سرے سے حصہ ہی نہیں لیا جس سے اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے آمدن کا حکومتی ہدف بھی پورا نہیں ہو سکا ٹیلی کام سیکٹرکی انوسٹمنٹ پر ریٹرن کم ہونا پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کےلئے بھی سوالیہ نشان ہے ۔یہ بات بھی روز ِ روشن کی طرح عیاںہے کہ 3Gٹیکنالوجی میں بھاری سرمایہ کاری کے باوجود صارفین کی قوت ِ خرید نہ ہونے سے بھی مسائل جنم لے رہے ہیں ابھی توشاید اس کا اندازہ نہیں لگایا جا رہا لیکن ایک نہ ایک دن سب محسوس کریں گے کہ یہ بات 3Gٹیکنالوجی کے فروغ میں ایک رکاوٹ بن گئی ہے اس کےلئے سوچنا اور بہترین حکمت ِ عملی تیارکرنا ماہرین ، حکومت اورسیلولر کمپنیوںکا کام ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ 3Gٹیکنالوجی کے ذریعے موبائل فون ڈیٹاٹرانسفرمیں حیرت انگیز اضافہ متوقع ہے موبائل ڈیٹاکا حجم دگناہونے کی صورت میں پاکستان کیGDPمیں0.5% اضافہ یقینی ہے اس کےلئے ٹیکسوںکو مناسب سطح پر لانا ہی مجموعی طورپر سودمند ہے عام طورپر دیکھنے میں آیاہے عوام کا جس طرف رحجان ہوتاہے حکومت ٹیکسزکا منہ اسی طرف کردیتی ہے اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ پاکستان میںسیلولر انڈسٹری نے بہت ترقی کی ہے ملک میں موبائل فون کا استعمال برابر بڑھتا چلا جارہاہے شہروںمیںتو ہرگھرمیں متعدد افراد کے پاس موبائل فون موجودہےں دور درازکے پسماندہ علاقوںتک اس کی ز بردست رسائی ہے ٹیلی کام انڈسٹری کی مزید ترقی اور اسے دور ِ جدید کے تقاضوںسے ہم آہنگ کرنے کےلئے مزید اقدامات کی اشدضرورت ہے شنیدہے اس وقت پاکستان شایددنیاکا واحد ملک ہے جہاں موبائل صارفین سے سب سے زیادہ ٹیکس لیا جاتاہے سستے پیکج کے نام پر سیلولر کمپنیاں، ٹیکسز کے نام پر حکومت اور سروس چارچزکی آڑ میں ایزی لوڈ والے صارفین کا خون نچوڑرہے ہیںحکومت کو ٹیکسزکی شرح میں کمی کرنی چاہےے تاکہ موبائل فون بھی سستے ہو سکیں زیادہ صارف کم منافع بھی ایک کاروباری اصول ہے حکومت اور سیلولر کمپنیوںکو اس اندازمیں بھی سوچنا چاہےے۔

Print Friendly, PDF & Email