تازہ ترین
بنیادی صفحہ >> تازہ ترین >> قدیم ترین اور منفرد تہذیب کے حامل کالاش قبیلے کا مذہبی لحاظ سے اہم ترین اور موسم بہار کا استقبالیہ تہوار جمعرات کے روز بمبوریت میں احتتام پذیر

قدیم ترین اور منفرد تہذیب کے حامل کالاش قبیلے کا مذہبی لحاظ سے اہم ترین اور موسم بہار کا استقبالیہ تہوار جمعرات کے روز بمبوریت میں احتتام پذیر

چترال ( نمائندہ ڈیلی چترال نیوز ) چترال کے تین ملحقہ وادیوں بمبوریت، بریر اور رمبور میں بسنے والے قدیم ترین اور منفرد تہذیب کے حامل کالاش قبیلے کا مذہبی لحاظ سے اہم ترین اور موسم بہار کا استقبالیہ تہوار جمعرات کے روز بمبوریت میں احتتام پذیر ہوا جس میں دنیا کی سب سے قدیم تہذیب وثقافت کے حامل کالاش قبیلے کا تہوار چلم جوشٹ امسال انتہائی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا . گذشتہ پندرہ سالوں کے دوران دہشت گردی کے خوف کی بنا پر یہ تہوار انتہائی سکیورٹی میں منایا جاتا تھا . جبکہ اس مرتبہ آزادماحول نے تہوار کی رنگنیوں کو دوبالا کر دیا تھا۔ اور سینکڑوں غیرملکی سیاحوں نے چلم جوشٹ تہوار میں شرکت کی . جبکہ ماہ رمضان کے باوجود ملکی یونیورسٹیوں کے طلبا سمیت بڑی تعداد میں مقامی سیاح بھی شریک ہوئے . کالاش مذہبی تہوار چلم جوشٹ قدیم زمانے سےسردیوں کی طویل اور تکلیف دہ دنوں کے گزر جانے اور موسم بہار کی آمد کی خوشی میں منایا جاتاہے . جس کے بعد مال مویشیوں کو جن کی کالاش مذہب میں انتہائی اہمیت حاصل ہے. گرمائی چراگاہوں کی طرف لے جایا جاتا ہے . اور دودھ سے بنی اشیا کی فراوانی ہوتی ہے ۔کالاش قبیلے کے رسم کے مطابق فیسٹول میں گھروں کو مخصوص پھولوں سے سجایا گیا . اور دیوتا مالوش کے سامنے بکروں کی قربانی دی گئی . مہمانوں کیلئے حسب روایت دودھ اور پنیر پیش کئے گئے . اور ہر گاو¿ں میں ڈھول کی تھاپ پر لڑکے لڑکیوں اور مرد و خواتین نے رقص کا آغاز کیا . اس موقع پر چلم جوشٹ کیلئے کشیدہ کاری سے تیار کردہ نئے مخصوص روایتی کپڑے خواتین نے زیب تن کیے تھے . جبکہ سیب گھونگوں سے تیار کردہ ٹوپیاں پہن رکھی تھیں . اسی طرح مردوں اور بچوں کی تہوار کیلئے تیاری بھی دیکھنے کے قابل تھی . تہوار کا سب سے منفرد اجتماع حسب روایت بمبوریت کے مقام بتریک میں ہوا . جہاں اطراف کے تمام دیہات کراکال , برون , انیڑ , پڑواناندہ وغیرہ سے مردو خواتین ڈھول بجاتے گیت گاتےاور رقص کرتے ہوئے بتریک چھارسو ( رقص کی مخصوص جگہ)میں داخل ہوئے . اور اپنی بھر پور خوشی کا اظہار کیا . جبکہ چھارسو میں کالاش مذہبی پیشوا اور بزرگوں نے کالاش قبیلے کے تاریخی کارناموں, بہادری کی داستانوں اور اسلاف کی خدمات کو مخصوص انداز میں گیت کی صورت میں پیش کیا . اور تاریخی واقعات نوجوان نسل کو منتقل کرتے ہوئے قبیلے کے لوگوں سے خوب داد وصول کی . اس مرتبہ چلم جوشٹ میں کالاش قبیلے سے تعلق رکھنےوالے اقلیتی رکن اسمبلی خیبر پختونخوا وزیر زادہ کی شرکت قبیلے کیلئے اعزاز کا باعث تھا . ان کے ہمراہ اقلیتی ممبران صوبائی اسمبلی روی کمار اور رنجیت سنگھ بھی موجود تھے.. وزیر زادہ نے اس موقع پر صوبائی حکومت کےنمایندے کی حیثیت سے تہوار میں شرکت کرتے ہوئے کالاش قبیلے کو مبارکباد دی . اور حکومت کا نیک پیغام پہنچایا . اور کہا . کہ پر امن ماحول میں کا لاش تہوار چلم جوشٹ منانا نہایت خوش آیند اور علاقے کی معاشی ترقی کیلئے اہمیت کی حامل ہے . انہوں نے کہا . کہ اس مرتبہ سینکڑوں غیر ملکی سیاحوں کی فیسٹول میں شرکت موجودہ حکومت کی فروغ سیاحت کے حوالے سے مثبت پالیسی کے ثمرات کا آغاز ہے . بڑی تعداد میں غیر ملکی اور ملکی سیاح گذشتہ ایک ہفتے سے مختلف کالاش وادیوں میں رہائش پذیر ہیں . اس سے مقامی لوگوں کی آمدنی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے . وزیرزادہ نے فیسٹول میں شرکت کرنے والے غیر ملکی اور ملکی مہما نوں کا شکریہ ادا کیا .انہوں نے اس سلسلے میں وزیر اعلی محمود خان , منسٹر کھیل و سیاحت عاطف خان کے کردار کی تعریف کی اور ٹورزم کارپوریشن خیبر پختونخوا کی خدمات کو سراہا . وزیر زادہ نے کہا . کہ کالاش تہذیب و ثقافت کی بقا کا سہرا حکومت پاکستان اور مقامی مسلم کمیونٹی کے بھر پور تعاون و تحفظ کے مرہون منت ہے . اور یہ دنیا کیلئے ایک مثال کی حیثیت رکھتی ہے . ایم پی ایز روی کمار اور رنجیت سنگھ نے اس موقع میڈیا سےبات چیت کرتے ہوئے کہا . کہ کالاش تہذیب اور چلم جوشٹ فیسٹول یقینا منفرد اہمیت کی حامل ہے . اور انہیں اس میں شرکت کرکےانتہائی خوشی حاصل ہوئی. انہوں نے کہا . کہ وادی کالاش کی سڑکیں یہاں کی سیاحت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں . اس لئے ان سڑکوں کی بہتری ان سے جوبھی ہو سکا . کردار ادا کریں گے . چھارسو میں کالاش کمیو نٹی کی طرف سے ایم پی ایز وزیر زادہ , روی کمار اور رنجیت سنگھ کو کالاش مخصوص چوغہ چپان اور چترالی ٹوپی پہنائے گئے . تہوار میں ٹی سی کے پی کی طرف سے سیاحوں کیلئے خیمہ بستی کا انتظام بھی کیا گیا تھا . کیونکہ مقامی ہوٹل سیاحوں کیلئے پہلے ہی بک ہو چکے تھے . فیسٹول میں فرانسیسی سیاحوں نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی . جبکہ دیگر ممالک کے سیاح بھی کافی تعداد میں شریک ہوئے. جنہوں نے چھارسو میں کالاش مرد و خواتین سے گھل مل کر رقص کیا . اور انتہائی خوشی کا اظہار کیا .

Print Friendly, PDF & Email