تازہ ترین
بنیادی صفحہ >> تازہ ترین >> گورنمنٹ گرلز ہائی سکول بونی میں گزشتہ 12 سالوں سے کمپیوٹر کا کوئی ٹیچرموجود نہیں، طالبات کمپیوٹر کی تعلیم سے محروم
فائل فوٹو

گورنمنٹ گرلز ہائی سکول بونی میں گزشتہ 12 سالوں سے کمپیوٹر کا کوئی ٹیچرموجود نہیں، طالبات کمپیوٹر کی تعلیم سے محروم

بونی(محکم الدیں سیرنگ) گورنمنٹ گرلز ہائی سکول بونی کا شمار اپر ڈسٹرکٹ چترال کے بڑے تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے جہاں ارد گرد کے علاقوں سے ہزاروں طالبات میٹرک تک تعلیم حاصل کرکے فارغ ہو چکی ہیں اور سینکڑوں طالبات ہر سال فارغ ہو رہی ہے دیگر علاقوں کی نسبت بونی میں تعلیم کی شرح بھی زیادہ ہے جسمیں گورنمنٹ کے ساتھ ساتھ پرائیوٹ اداروں کا بھی بہت زیادہ عمل دخل ہے۔ لیکن اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ گورنمنٹ کے ادارے اپنی شاندار عمارات، سائنسی سامان سے لیس لیبارٹریوں اور کمپیوٹر لیبوں کے لحاظ سے اپنی ثانی نہیں رکھتے۔ لیکن ان سب کے باوجود بھی لوگوں کا رجحان ان اداروں کی طرف نہیں۔ وجہ یہ کہ ان اداروں میں اگر سائنسی لیب ہے تو اسٹاف نہیں، اسی طرح اگر کمپیوٹر لیب ہے تو پڑھانے کے لئے اسٹاف ندارد۔ یہی صورت حال گورنمنٹ گرلز ہائی سکول بونی کا بھی ہے جسمیں پچھلے 12 سالوں سے 17 عدد کمپیوٹر اور متعلقہ سامان و اعلیٰ کوالٹی کے فرنیچر موجود ہے لیکن جب سے یہ کمپیوٹر و دیگر سامان سکول ہذا کو فراہم ہوئے ہیں کسی نے انہیں کھولنے کی پہلے تو زحمت نہیں کی مگر اللہ بلا کرے نشنل انٹرنشپ پروگرام کے تحت آنے والی ٹیچر مس تہمینہ فریال کی کہ اس کے منتین کرنے پر جب وہ کمپیوٹر ڈبوں سے نکالے گئے تو ان میں سے کئی کمپیوٹر تو چلنے سے ہی معذرت کرلی۔ جبکہ جو 34 عدد UPS سیسٹم اگر بجلی نہ بھی ہو تب بھی طالبات کو کوئی مسلۂ نہ ہو اس مقصد کے لئے دئیے گئے تھے سارے کے سارے بلکل ناکارہ ہو چکے ہے۔ افسوس اس بات کی ہے 12 سالوں تک کسی نے بھی گورنمنٹ گرلز ہائی سکول بونی کے کمپیوٹر لیب کی حالت زار کا جائزہ نہیں لیا۔ حکومت کی جانب سے اس قسم کی لا پروہی کی وجہ سے سینکڑوں طالبات کئی سالوں سے کمپیوٹر کی تعلیم سے محروم ہوتی ارہی ہیں۔ جب ان کمپیوٹر وں کی حالت زار کے بارے میں میں نے ممبر ڈسٹرکٹ کونسل جناب رحمت غازی خان صاحب سے رابط کیا تو انہوں نے ان کمپیوٹروں کی مرمت کے لئے 1لاکھ روپے کا اعلان کر لیا ہے جس سے شاید ان ناکارہ شدہ کمپیوٹروں کی کچھ مرمت ہو سکے مگر بات پھر وہی کی وہی رہ جائیگی۔ کچھ سالوں بعد یہ مرمت شدہ کمپیوٹر واپس اسی حالت میں اجائیں گئے اگر ان کو چلانے والا کوئی اسٹاف نہ ہو۔ اس لئے میری درخواست ہے ڈپٹی کمشنر اپر چترال شاہ معسود، ای ڈی او ایجوکیشن چترال، DMO چترال، ڈپٹی سیکرٹری ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن خیبرپختونحواہ عبدالاکرم سے کہ آپ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول بونی کے غریب طالبات کی اس محرومی کو دور کرنے کے لئے جلد از جلد کوئی کوالیفائیڈ کمپیوٹر ٹیچر کی تعیناتی یقینی بنائے۔تاکہ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول بونی کے طالبات بھی دور جدید کے تقاضوں کے مطابق کمپیوٹر کی تعلیم حاصل کر سکے۔

Print Friendly, PDF & Email

error: Content is protected !!