تازہ ترین
بنیادی صفحہ >> تازہ ترین >> ضلعی ترقیاتی مشاورتی کمیٹی کا تعارفی اجلاس چیئرمین وزیر زادہ کی صدارت میں منعقد ہوا

ضلعی ترقیاتی مشاورتی کمیٹی کا تعارفی اجلاس چیئرمین وزیر زادہ کی صدارت میں منعقد ہوا

چترال(محکم الدین)چیئرمین ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ ایڈوائزری کمیٹی چترال وزیر زادہ نے اپنے نوٹیفیکیشن کے بعد پیر کے روز پہلی مرتبہ ڈسی آفس چترال میں ڈیڈک کے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں مختلف اداروں کے آفیسران بھی موجود تھے۔ چیئرمین ڈیڈک نے اس موقع پر اپنے تعارفی خطاب میں کہا کہ صوبائی حکومت نے اپنے نمائندے کی حیثیت سے اُسے بطورچیئرمین ڈیڈک مقررکیا ہے اور وہ اس عہدے کا حق ادا کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ چترال کے مسائل اور اداروں کی مشکلات سے وہ باخبر ہیں اور تمام اداروں کو ساتھ لے کر چلنا اُن کی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم اپی اے مولانا ہدایت الرحمن اُن کیلئے نہایت قابل احترام ہیں اور وہ چترال کے منتخب نمائندہ ہیں، اس لئے اُن کے احترام میں کسی بھی قسم کی کمی نہیں ہونی چاہیے۔ وہ ایم پی اے کے ساتھ مل کر چترال کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں، باہمی اتفاق ہی چترال کے مسائل حل کرنے میں مددگار ثابت ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ چترال ایک پسماندہ ضلع ہے اس لئے یہاں کی سیاسی قیادت کو ہم آہنگی اور باہمی مشاورت سے لوگوں کو مسائل نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے اور وہ اسی پالیسی پر یقین رکھتے ہیں۔ چیئر مین ڈیڈک نے افسران سے کہا کہ چترال کی ترقی کے حوالے سے ہر مہینے میٹنگ کی ضرورت ہے تاکہ کاموں کی پیش رفت کا جائزہ لے کر آئندہ کے اقدامات کئے جا سکیں اور ایک دوسرے سے جُڑی دفتری کاموں کے بارے میں معلومات شیئر ہو سکیں۔انہوں نے کہا چترال کی تین اہم سڑکیں اپر چترال روڈ، گرم چشمہ روڈ اور کالاش ویلی روڈ کے بارے میں گو کہ سابق ایم این اے شہزادہ افتخار کی کو ششوں سے بہت سا کام ہو چکا تھا لیکن اُس میں طریقہ کار میں بے قاعدگی کی وجہ سے تعمیر میں رکاوٹ کے امکانات تھے لیکن ہم نے اُس میں بر وقت کام کیا اور تمام کوائف مکمل کرکے اُن کی تعمیر کی راہ ہموار کی ہے اور اب اس راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ وزیر زادہ نے کہا کہ جن اداروں کو تعمیرات کے فنڈ کے مسائل دارپیش ہیں اُن کیلئے ضروری ہے کہ وہ یہ بات ہمارے نوٹس میں لے آئیں تاکہ ہم اس سلسلے میں متعلقہ منسٹری اور سیکرٹریز سے رابطہ کرکے مسائل حل کرنے کی کوشش کر سکیں۔ چیئر مین ڈیڈک نے کہا کہ کلا س فور ملازمتوں میں مالک زمینات کی ترجیح ہونی چاہیے، اُس کے بعد دیگر قواعد اور کوٹے کے مطابق بھرتیاں ہونی چاہیئں تاکہ حقداروں کو اُن کا حق مل سکے۔ اُنہوں نے محکمہ ایجوکیشن میں کلاس فور بھرتیوں کو قواعد و ضوابط اور میرٹ کے مطابق قرار دیتے ہوئے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرچترال احسان الحق کی کارکردگی کی تعریف کی اورکہا کہ کلاس فور ہر صورت میں لوکل ہونے چاہیئں، غیر مقامی افراد کو بھرتی کرنا کسی بھی صورت درست نہیں۔ وزیر زادہ نے چترال کی بیوٹی فیکیشن کے سلسلے میں روڈ کی تعمیر کی میں تاخیر کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ شانگلہ میں انکوائری کی وجہ سے چترال کی سڑکوں کے فنڈ بھی روک لئے گئے ہیں جس کا جواز نہیں بنتا۔ چترال میں جب کام ہی نہیں ہوا تو اس کے فنڈ روکنا نا انصافی ہے۔ انہوں نے کہاکہ متعلقہ حکام سے بات ہو چکی ہے اور یہ رقم جلد ریلیز ہوگی جس سے چترال کے اندر سینگور روڈ، بکر آباد روڈ، اورغوچ روڈ، شیاقو ٹیک روڈ وغیرہ تعمیر کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ روڈ ز کی تعمیر جلد از جلد مکمل کئے جائیں تاکہ سیاحت کو ترقی دی جا سکے۔چیئر مین ڈیڈک نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بعض اداروں کے پاس ہیوی مشینری اور گاڑیاں کئی عرصے سے پڑی سڑ رہی ہیں اور انہوں نے جگہ بھی گھیرا ہوا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ایسی گاڑیوں کو قانونی پراسس سے گزار کر فروخت کیا جانا چاہیے اور اُس رقم سے ادارے کی کوئی اور ضرورت پوری کی جانی چاہیے۔ وزیر زادہ نے کہا کہ اگلے اے ڈی پی میں سکول کم شامل کئے جائیں گے تاکہ زیر تعمیر سکولوں کو مکمل کیا جاسکے۔ انہوں نے نے سرکاری ملازمین کی رہائشی مسئلے کے حوالے بات کرتے ہوئے کہا کہ جس ادارے کیلئے بلڈنگ بن رہا ہو پہلے اُس ادارے کے ملازمین کو ترجیح ملنی چاہیے، اُس کے بعد اگر گنجائش ہو تو دوسروں کو سہولت دی جائے۔ ضلعی انتظامیہ اور ایسے اداروں کے مابین اکموڈیشن کے حوالے سے غیر ضروری تناؤ اچھی بات نہیں۔ اجلاس میں محکمہ سی اینڈبلیو کے مسائل سب سے زیادہ تھے جس میں ایکسین سی اینڈ ڈبلیو نے پریزنٹیشن دیتے ہوئے کہا کہ چترال میں 600کلومیٹر کچی سڑکوں میں سے صرف 134کلومیٹر پختہ سڑکیں ہیں اس لئے سڑکیں مزید پختہ کرنے کی ضرورت ہے لیکن بد قسمتی سے فی الحال چترال کے تمام انفراسٹرکچر کو فنڈ کے مسائل کا سامنا ہے جس میں مختلف اداروں کے بلڈنگز، پُل اور روڈز شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض بلڈنگ تقریبا 75 فیصد مکمل ہو چکے ہیں اور سرکاری احکامات کے مطابق ایسے بلڈنگز کو متعلقہ ادارہ اپنی تحویل میں لینا چاہیے لیکن ایسا نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیکہ داروں کے بقایا جات کا بہت مسئلہ درپیش ہے جس کی وجہ سے کام رکے ہوئے ہیں جبکہ یہ کام کا سیزن ہے۔ انہوں نے جغور میں زیر تعمیر جوڈیشل کمپلیکس سمیت کئی منصوبوں کی نشاندہی کی جہاں ٹھیکہ داروں کے بقایا جات کی ادائیگی نہ ہونے کے سبب کام رکے ہوئے ہیں۔ اگر فنڈ ریلیز کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو اگلے پچاس سال میں بھی کوئی بلڈنگ مکمل نہیں ہو سکتا۔ ایکسین نے ریشن کے مقام پر آر سی سی پُل کے گاڈر کو لانچ کرنے کے دوران گرنے کے معاملے کو سی اینڈ ڈبلیو کیلئے ایشو کے طور پر ہائی لائٹ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ پُل نہیں گرا ہے بلکہ کام کے دوران ایک گاڈر ٹیکنکل غلطی کی وجہ سے نیچے گرا ہے جس کا نقصان بھی سی اینڈ ڈبلیو کے سر نہیں ہے۔ ڈی ایچ او چترال حیدر الملک نے دروش، بونی ہسپتال میں کام تیز کرنے کے علاوہ یو سی کریم آباد، ارکاری اور اپر چترال کے مقام مڑپ تورکہو میں ڈسپنسری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں کے لوگوں کو صحت کی سہولیات کی کمی کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت میں پچھلی حکومت میں نان لوکل کلاس فور بھرتی کئے گئے ہیں جوکہ مستقل مسئلہ بن چکے ہیں۔ اجلاس میں ایکسین ایری گیشن، ڈی ای او ایجوکیشن میل، ڈی ای او فی میل سمیت دیگر افسران نے بھی اپنے اداروں کے مسائل سے متعلق تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ آفیسر فنانس اینڈ پلاننگ چترال محمد حیات شاہ بھی موجود تھے۔

Print Friendly, PDF & Email

error: Content is protected !!