تازہ ترین
بنیادی صفحہ >> مضامین >> آر ایچ اے / ڈی ایچ اے مختصر جائزہ۔۔۔۔۔۔۔تحریر:ناصرعلی شاہ

آر ایچ اے / ڈی ایچ اے مختصر جائزہ۔۔۔۔۔۔۔تحریر:ناصرعلی شاہ

خیبر پختونخواہ میں پی ٹی ائی کی حکومت آنے کے بعد گورنمنٹ کے بڑے ہاسپتالوں کو ایم ٹی ائی کا نام دیکر خود مختار کرایا گیا. اس ایکٹ کے مطابق ہر ایم ٹی ائی ہسپتال کا اپنا بورڈ اف گورنر جو پرائیوٹ بندہ ہوگا کے ماتحت کردیا گیا جس کے بعد محکمہ صحت کا کنٹرول ختم اور بی او جی کا شروع ہوگیا, نہ صرف کنٹرول بلکہ ہاسپتالوں کا سالانہ بجٹ ختم کرکے تمام اخراجات ایم ٹی ائی ہسپتال کے زمہ کردی گئی جس کا بلاوسطہ اثر مریضوں کیساتھ ساتھ ہلتھ ملازمین کے اوپر پڑا. سادہ لفظوں میں غریب مریضوں کو خزانے کے اوپر بوجھ قرار دیکر تمام خرچہ خود برداشت کرنے کا کہا گیا. ہلتھ ملازمین کو ہاسپتالوں کے رحم و کرم پہ چھوڑدیا گیا کیونکہ جو ملازمین بھرتی ہونگے ان کی تنخواہ کم, جاب سیکیورٹی ختم کردی گئی.ان حالات میں جب احتجاج کیا گیا تو مسیحاوں کو قصائیوں کا نام دیا گیا بلا آخر ایکٹ کا نفاذ کیا گیا جس کے بعد ایم ٹی ائی ہاسپتالوں کا حال آپ لوگوں کے سامنے ہے. اب بات کرتے ہیں ار ایچ اے / ڈی ایچ سے کی. یعنی ریجینل ہلتھ اتھارٹی اور ڈسٹرکٹ ہلتھ اتھارٹی کے نام سے قانون بننے جارہی ہے جسمیں ہر ضلع کی کمیٹی کو باختیار کیا جائیگا اور یہی کمیٹی ڈی ایچ کیو, بی ایچ یو اور ار ایچ سی میں بھرتیاں کرینگی اور صحت کے متعلق معملات چلائینگی. اس کمیٹی میں دو ڈاکٹر ایک نرس اور دو سیاسی بندے شامل ہونگے. اور کمیٹی برسراقتدار حکومت بنائیگی. چونکہ پاکستان میں برسراقتدار حکومت کا راج ہوتا رہا ہے اسطرح جو پارٹی اقتدار میں ہوگا وہ اس کمیٹی سے اپنی مرضی کے مطابق بھرتیان, تبادلے اور نوکری سے فارغ کروائینگے کیونکہ پبلیک سروس کمیش کا اختیار ختم اور کمیٹی کا شروع ہوجائیگا. اس کے بعد ملک میں انارکی کا ایسا ماحول پیدا ہوگاکہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا.دوسری بات برطانوی عوام اور پاکستان کےعوام میں بہت بڑا فرق ہے وہ لوگ امیر ہیں اس لئے وہ سسٹم کامیاب ہے اور یہاں عوام غریب اوراوپر سے ایسے سسٹم لاکرغریبوں سے علاج کا حق بھی چھینا جارہا ہے. پہلے عوام کے لئے روزگار پیدا کریں, مسائل کو کم کرکے وسائل پیدا کرے, تعلیمی نظام کو پرائیوٹ سکولوں کے برابر رکھیں. الیکش سے پہلے جووعدے کئے تھے پہلے ان کو پورا کرے. اس ایکٹ سے نہ صرف ہیلتھ ملازمیں کو نقصان ہے بلکہ مریضوں کو بھی نچوڑا جائیگا. خدارااس عوام اور یہاں کے ملازمیں پر رحم کیجئے اور ریفارم کے نام پر پرائیوٹائیزشین کو بند کیا جائے.

Print Friendly, PDF & Email