تازہ ترین
بنیادی صفحہ >> مضامین >> بچیاں سب کی سانجھیاں ہوتی ہیں…!!۔۔۔عرفان مصطفیٰ صحرائی

بچیاں سب کی سانجھیاں ہوتی ہیں…!!۔۔۔عرفان مصطفیٰ صحرائی

وفاقی دارالحکومت کے نواحی علاقے علی پور سے اغوا ہونے والی 10سالہ ”فرشتہ“ کی تشدد زدہ نعش نواحی علاقے جگیوٹ کے جنگل سے برآمد ہو ئی ہے۔چار روز جنگل میں پڑی رہنے سے نعش کو جنگلی جانوروں نے نوچ لیا تھا۔اس کیس میں بھی پولیس کا کردار کھل کر سامنے آ گیا ہے۔جہاں ہمارا معاشرہ اخلاقی پستی کی تمام حدود پار کر چکا ہے،وہاں ریاست مدینہ بنانے والوں کی بے حسی بھی کچھ کم نہیں ہے۔ملک میں آئے روز بڑھتے ہوئے معصوم بچیوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز اور عوام کے محافظ اداروں کی نااہلی،فرائض سے مجرمانہ غفلت کی وجہ سے بچیوں کی عزتیں اور جانیں جا رہی ہیں۔لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔
قصور ریپ کیسز میں عائشہ سے زینب تک کے واقعات دیکھیں جائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان بچیوں کو جس بے دردی سے زیادتی کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔اس پر انسانیت شرما جاتی ہے۔زینب کے کیس میں عوامی احتجاج پر وزیر اعلیٰ اور چیف جسٹس کی مداخلت پر نوٹس لیا گیا تھا۔معصوم ”فرشتہ“ کو بھی درندوں نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا۔بچی کے لواحقین کے ساتھ پولیس اور پولی کلینک ہسپتال کے ڈاکٹروں نے تعاون نہ کیا،جس پر انہوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔سیاسی مداخلت ہوئی تو انتظامیہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا۔
ضلع مہمند کے کوڈا خیل کی رہائشی ”فرشتہ“ 15 مئی 2019ء کو اغواء ہوئی اور 21 مئی کو اس کی مسخ شدہ لاش جنگل سے ملتی ہے۔اس کی لاش گلی سڑی ہوئی تھی،ظلم کی انتہا یہ کہ تھانہ میں ”فرشتہ“ کے قتل کی ایف آئی آر درج نہیں ہو رہی۔جس پر لواحقین نے چھے گھنٹے تک احتجاج کیا،جس کے بعد ایف آئی آر تو درج ہو گئی،مگر پولی کلینک ہسپتال میں پوسٹ مارٹم نہیں ہونے دیا جا رہا تھا۔مقتولہ کے والدین کی دلخراش چیخیں انسانوں پر کچھ اثر نہیں کر رہی تھیں۔لیکن پھر شاید فرشتہ کے والدین کی آہیں اللہ باری تعالیٰ نے سن لیں۔پشتون تحفظ موومنٹ کے ارکان قومی اسمبلی محسن داوڑ،علی وزیر اور اے این پی کے نثار مہمند ہسپتال کے باہر پہنچے،جس کے بعد قانون حرکت میں آیا۔ریاست مدینہ میں گیارہ سالہ پھول جیسی بچی اغواء ہو جاتی ہے،جنسی درندگی کا شکار ہوتی ہے اور اس کے بعد اسے ابدی نیند سلا دیا جاتا ہے، مگر حکمرانوں کی بے حسی کا یہ عالم تھا کہ وہ مقتولہ کے خاندان کو انصاف دینے اور اس کے دکھوں کا مداوا کرنے کے لئے آگے نہیں بڑھے۔ایف آئی آر کے اندارج اور پوسٹ مارٹم کرانے کے لئے احتجاج کرنے کی ضرورت پڑی۔ایک فرشتہ صفت بچی کی عزت تار تار کرنے پر قانون حرکت میں آتا ہے اور نہ ہی انسانیت شرماتی ہے۔اس واقع میں میڈیا کی بے حسی بھی لمحہ فکریہ ہے۔
پاکستان میں ایسے واقعات بتدریج بڑھ رہے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق روزانہ 9کے قریب بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات نوٹ ہوتے ہیں،جن میں سے اکثر بچوں کو قتل کر دیا جاتا ہے۔یہ جنسی ہوس کا نشانہ بنانے والے انسانیت کے نام پر بدنما دھبہ ہیں۔اس مسئلے کا مستقل بنیادوں پر حل نکالنے کی ضرورت ہے۔تاکہ کسی اور فرشتہ جیسی بچی کی آبرو اور عزت محفوظ رہ سکے۔جیسے فرشتہ کے والد گل نبی کو انصاف کے حصول کے لئے اسلام آباد کی بے رحم اور ظالم پولیس جو انصاف دینے کی بجائے اسے دھکے دیتی رہی۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ ہر سال ہزاروں ایسے کیسیز سامنے آتے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس 72فیصد ایسے کیسز درج ہوتے ہیں،باقی کیسز کو پولیس درج کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔بچوں کے اغوا کے سب سے زیادہ واقعات جڑواں شہر اسلام آباد اور راولپنڈی میں پیش آتے ہیں۔یہ ہمارے ملک کا دارلخلافہ ہے،باقی علاقوں کی حفاظت کیسی ہو گی اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
جہاں ریاست کو اس معاملے میں ہوش کرنا ہو گا،وہاں ہمیں من حیث القوم اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی بھی ضرورت ہے۔ہمارا معاشرہ تو اقدار کا امین تھا،سب کی عزتیں سانجھی سمجھی جاتی تھیں۔ایک بیٹی پورے گاؤں یا شہر کی بیٹی ہوتی تھی۔بچیوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سمجھا جاتا تھا۔تمام بچے معصوم فرشتے خیال کئے جاتے تھے۔ہمارے معاشرے میں یہ جراثیم کہاں سے سرایت کر گیا ہے…ہمیں کس نے اخلاقی پستی کی جانب دکھیل دیا ہے…کون ہے جو ہمیں کھوکھلا کر چکا ہے..؟اس میں سب سے بڑا قصور ہمارا اپنا ہے۔والدین نے بچوں کی تربیت کرنا چھوڑ دیا ہے،جس سے مضبوط کردار کا فقدان ہوا۔ہماری دین سے دوری۔جدّت سے فائدہ حاصل کرنے کی بجائے نقصانات کا حصول بڑی وجوہات ہیں۔ریاست اپنے فرائض سے مکمل غافل ہے۔حکمران نفرتیں،عوام سے جھوٹ بولنے،منافقت اور دھوکہ دینے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہے۔یہی عمران خان تھے،جو زینب کیس میں گلا پھاڑ کر اس وقت کے حکمرانوں پر تنقید کے تیر چلاتے نہیں تھکتے تھے۔اپنی حکومت میں اپنی ناک کے نیچے اتنا ظلم اور زیادتی ہوتی ہے،کوئی خبر نہیں لی جاتی۔
ایسے واقعات کے تدارک کے لئے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا۔اساتذہ،علماء اکرام اور والدین کو سنجدیدگی سے بچوں کی تربیت کی طرف توجہ دینی ہو گی۔ریاست کو ان ویب سائٹ کو بلاک کرنا ہو گا،جس سے جاہل لوگوں کو ورغلایا جا سکتا ہے۔قانون کو حرکت میں آنا ہو گا۔ہمارے ہاں ان کیسز کے لئے قانون بہت سخت ہے،مگر اس پر عمل درآمد ہونے کے لئے پولیس درست کردار ادا نہیں کر رہی۔جس کی وجہ سے مجرم بج جاتے ہیں۔چند مجرموں کو سرے عام پھانسی دینے سے کچھ نہیں ہو گا،بلکہ عوام کے اندر خوف پیدا کرنے کے لئے میڈیا کردار ادا کرے۔ان واقعات پر سیاسی گیم سکورنگ کرنیکی بجائے مل بیٹھ کر مستقل حل تلاش کیا جانا چاہیے تاکہ کسی اور معصوم کے ساتھ ایسا انسانیت سوز واقع پیش نہ آئے۔کیونکہ بچیاں سب کی سانجھیاں ہوتی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

error: Content is protected !!