تازہ ترین
بنیادی صفحہ >> مضامین >> داد بیداد۔۔۔ گورننس کی بنیادیں۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ

داد بیداد۔۔۔ گورننس کی بنیادیں۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ

جمہو ری حکومتوں اور فوجی حکومتوں میں ایک فرق ہمیشہ نظر آتا ہے جمہوریت میں پارٹی قیادت اور پارٹی کے منتخب اراکین یا مخلوط حکومت کی شراکت دار جماعتیں گورننس پر اثر انداز ہو تی ہیں فیصلہ سازی اور نظم ونسق کے مسائل میں سویا دوسو لوگوں کی زبانوں کو بند رکھنا پڑتا ہے اس لئے میرٹ کی جگہ دیگر امور کو فوقیت ملتی ہے فوجی حکومت میں ایسا کچھ نہیں ہو تا کسی کا منہ بند رکھنے کی کوئی مجبو ر ی نہیں ہوتی اس لئے نظم و نسق کے حوالے سے میرٹ اور صرف میرٹ کو پیش نظر رکھا جاتا ہے یہ لمبی تمہید کا لم نگار کی نہیں بلکہ روز نامہ آج کے دیر ینہ قاری بشیر آحمد قریشی کی لکھی ہو ئی ہے ”خیبر پختونخوا کے نئے اضلاع“ پر ان سطور میں ہلکا چھلکا تبصر ہ آیا تھا اس پر اپنی رائے دیتے ہو ئے ہر ی پور سے ہمارے قا ری نے چند جملوں پر گرفت کی ہے اُس نے لکھا ہے کہ خیبرپختونخوا ہ میں اچھے انتظا می افیسروں کی کمی کبھی نہیں رہی پنجاب اور سند ھ کو بھی اچھے ایڈ منسٹر یٹر خیبر پختونخوا نے دئیے موجو دہ دور بھی خیبر پختونخوا میں قحط الرجال کا دور ہر گز نہیں یہاں ایک سے بڑھ کر ایک اچھا ایڈ منسٹر یٹر موجو د ہے خیبر پختونخوا کے رینکر افیسروں نے دوسرے صوبوں کے سی ایس پی اور سی ایس ایس افیسروں سے بہتر کارگردگی دکھا ئی ہے میڈیکل اور انجینئر نگ کے شعبے میں بھی خیبر پختونخوا کے سپوتوں نے ملک کے اندر اور ملک سے باہر اپنی قابلیت کا لو ہا منو ایا ہے قانون کے شعبے میں بھی خیبر پختونخوا نے نامور سپوت پیدا کئے انسا نی وسائل کے اعتبار سے ہمارا صو بہ اللہ پاک کے فضل سے مالا مال ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ بند وق خود ٹارگٹ کو جاکر نہیں لگتی بندوق کے پیچھے ایک بند ہ ہوتا ہے وہ اچھا نشا نہ باز ہو تو ٹارگٹ کو اُڑا دیتا ہے اچھا نشا نہ باز نہ ہو تو کبھی ایک انچ اوپر کبھی ڈیڑ ھ انچ نیچے یا دائیں بائیں فائر کر دیتا ہے گو لی ضا ئع جاتی ہے اور بند وق بد نام ہو تا ہے آگے قر یشی صاحب نے کچھ نہیں لکھا ہر ی پور کے گاؤں ریحا نہ سے تعلق رکھنے والے فوجی حکمران فیلڈ مارشل ایو ب خان نے بند وق کے پیچھے ٹارگٹ کو نشا نہ بنا نے والے بند ے کا کر دار اچھی طرح نبھا یا تھا وہ نا ئب تحصیلدار اور ایس ایچ او سے لیکر ڈپٹی کمشنر، پولٹیکل ایجنٹ اور کمشنر تک فیلڈ افیسروں کی کارکردگی کا خود جائز ہ لیتا تھا انٹیلی جنس اداروں سے رپورٹیں مانگتا تھا اُس کے دور میں ملکی سلامتی کے ادارے سیاستدانوں کا بہت کم پیچھا کر تے تھے سرکاری حکام کی کارکردگی پر زیادہ نظر رکھتے تھے خفیہ رپورٹوں کی بنیاد پر افیسروں کے تبادلے ہو تے تھے افیسروں کو ان کی کارکردگی دیکھ کر فیلڈ میں یا سکر ٹر یٹ کے کلید ی عہدوں پوسٹنگ ملتی تھی کارکردگی میں ”میز کی صفائی“ سب سے اہم سمجھی جاتی تھی کسی افیسر کی میز پر ایک فائل کتنے گھنٹے التوا ء میں رکھی جاتی ہے؟ ایک افیسر اپنے زیر غور معاملات کو کتنی جلدی نمٹا تا ہے؟ یہ اُس کی کار کردگی کا سب سے اہم پیما نہ تصو ر کیا جاتا تھا ایک افیسر نے اگر 6 مہینوں میں سارے کا م التو ا میں رکھے تو اس کو کھڈے لائن لگا کر دوسرے افیسر کی پوسٹنگ کی جاتی تھی سب جان لیتے تھے کہ کارکردگی پسند ید ہ نہیں تھی خفیہ رپورٹیں موافق نہیں ہو نگی اس لئے ”حضرت“ کا بور یا بستر گول کر دیا گیا جنرل ضیا ء الحق اور جنر ل مشرف کے ا دوار میں بھی افیسروں کی کار کر دگی کو خفیہ رپورٹوں کی بنا ء پر جا نچنے کا دستور تھا سیاستدانوں میں بھٹو شہید اور شہباز شریف کے بار ے میں مشہور ہے کہ وہ بیوروکریسی کی کار کر دگی پر کڑی نظر رکھتے تھے تاہم ہمارے جمہو ری حکومتوں میں جا گیر داری نظام کی پسند اور نا پسند کا بڑا دخل ہو تا ہے اراکین اسمبلی کو بھی خوش رکھنا پڑ تا ہے اور پارٹی کے کارکنوں کی خواہشتا ت کا بھی احترام کر نا پڑتا ہے تھا نے میں اگر 20 ہیڈکا نسٹیبل ہیں تو محر ر لگانے کے لئے سفارش آتی ہے تحصیلدار سے لیکر ڈپٹی کمشنر اور کمشنر تک سیاستدانوں کی مرضی کے لوگوں کو لگا نا پڑ تا ہے اور جو سفارش سے آتا ہے وہ کارکردگی نہیں دکھا سکتا دوسرا بند ہ بھی کارکردگی کی بنیاد پر نہیں آئیگا سفارش کی بنیاد پر آئیگا اس لئے جمہو ری حکومتوں میں دفتر ی نظام کو دیمک لگ جاتا ہے بڑے بڑے منصو بے نا کامی سے دوچار ہو تے ہیں سروس ڈیلیو ری کا سسٹم فیل ہو جاتا ہے عوام کو ریلیف نہیں ملتا رمضان پیکیج نا کامی سے دوچار ہو تا ہے سستا بازار کپڑے کے دوگز بینر تک محدور رہتا ہے عوام صدر اور وزیراعظم یا گورنر اور وزیراعلیٰ کو مور د ِ الزام ٹھہر اتے ہیں سرکاری اعلانات کا مذاق اُڑاتے ہیں سوشل میڈیا پرکارٹون لگوا دیتے ہیں کیونکہ فیلڈ میں ڈیوٹی دینے والے افیسروں کی کارکردگی معیار کے مطابق نہیں ہو تی موجو دہ حکومت کے 4 سال باقی ہیں پارٹی کارکنوں کو بھی اس بات پر قائل کر نا چاہیے کہ اچھی کارکردگی کا انحصار اچھے افیسروں پر ہے اور اچھے افیسر وہ ہو تے ہیں جو سفارش کے بغیر کارکردگی کی بنیاد پر آتے ہیں حکومتی بنچوں پر بیٹھنے والے اراکین اسمبلی کو بھی اس بات پر امادہ کر نا چاہیے کہ ہر جگہ اپنی مرضی کا افیسر لگانے کی کو شش نہ کر یں خفیہ رپورٹوں کی بنیاد پر کارکردگی دکھا نے والے افیسروں کی پوسٹنگ میں رکاؤٹ نہ بنیں بیوروکریسی کی فعال ٹیم حکومت کی نیک نامی کا پیش خیمہ اور ذریعہ ہو تی ہے یہ گورننس کی اہم بنیادیں ہیں ان بنیادوں کے بغیر سروس ڈیلیوری نہیں ہو تی عوام کوریلیف نہیں ملتا اور حکومت کے حصے میں بد نامی آجا تی ہے جمہوری حکومتوں کو اپنی نیک نا می کے لئے افیسر وں کی ٹرانسفر اور پوسٹنگ میں فوجی حکومتوں کی طرح میرٹ اور صرف میرٹ کو دیکھنا چاہیے اگر ہر کام میں چچا، ماموں کا خیال رکھے تو اچھا خاصا حکمرا ن ”ماموں“ بن جاتا ہے

Print Friendly, PDF & Email

error: Content is protected !!