چترال سے باہر کوئی جنت نہیں……..طارق اقبال

کچھ سال پہلے چترال کے کسی گاوں سے یہ واقعہ منصوب کیا جا تا رہا ہے واللہ اعلم اس میں کتنی سچائی ہےواقعہ کچھ یوں ہے کہ وہاں کے کسی لڑکی کی ایک پٹھان لڑکے کے ساتھ شادی ہوئی۔اس لڑکے نے اس گاوں میں کچھ تین ہفتے گزارے اس دوران اس نوجوان نے اپنے سسر کو ایک لاکھ روپے ایک گاڑی گھر کا سامان بھی دیئے اور ساتھ میں پشاور میں گھر کا بھی وعدہ کردیا۔اسی گاڑی میں گاوں گاون پھرتے رہے وہی توشہ کھاتے رہے اور آخر کار کہا کہ ابھی میں اپنی بیوی کو ان کے اصلی گھر لے جانا چاہتا ہوں۔سسر سے ایک لاکھ روپے اس وعدے پر ادھار لیا کہ میں گھر پہنچ کر ڈبل کرکے واپس کر دوں گا چونکہ وہ کئی دنوں سے گاوں میں رہ رہا تھا اسلئے ان کے پاس کیش ختم ہو گیا تھا۔اسی گاڑی میں بیٹھے اور گاڑی رات کے پہلے پھراپر دیر میں کسی گھر کی دیوار کے سامنے آکر روک دی۔سسر سے کہا گھر اگیا اپ لوگ اندر جاو میں اسی گاڑی میں کیش نکال کر لاتا ہوں کل گھر والے آئینگے اور شادی کی تیاری کرنی ہے۔وہ لوگ اندر گئے اور انتظار میں ایک گھنٹہ دو تین چار یہاں تک کہ رات کا پچھلے پھر ہو گیا۔فون بند اور گھر میں نہ بندہ نہ بندہ زاد۔انتظار میں صبح ہوگئی اور بے دھڑک گھر کا دروازہ کھلا گرج دار آواز میں آدمی نے کہا کون ہو تم۔سسر سہم گیا اور بولا ہم فلان کے سسر ہیں یہ انکی پتنی ہیں۔بولا میں کسی فلان کو نہیں جانتا اور دھکے دے کر باہر نکال دیا۔جیسے تیسے پیسے جوڑ کر وہ آدمی بیٹی کے ساتھ واپس گاوں پہنچ گیا تب سے لیکر آج تک نہ وہ گاڑی ملی نہ پیسے نہ داماد اور نہ بیٹی کو رشتہ۔

بات کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم چترال میں اپنی بیٹی یا بہن کے رشتے کے لئے ہزاروں لعن طعن کرتے ہیں۔لڑکے کا روزگار، انکا خاندان، ان کا فیملی اسٹرکچر، انکے بالوں کا رنگ، انکا وزن انکا قد یہان تک کہ انکا پولیس ریکارڈ تک دیکھتے ہیں۔لیکن جب یہ کالے ٹانگوں والے ترچھی ٹوپی والے یا لنگوٹ والے وہاں آکر تھوڑا جاہ و جلال دکھاتے ہیں تو ہم یہ سب بھول جاتے ہیں تب نہ ہماری بہن بیٹی اور ماں باپ کو انکی کالی ٹانگیں ترچھی ٹوپی اجڑے بال سفید داڑھی یا خاندان وعیرہ نظر آتے ہیں نہ انکا کلچر۔پیھچے انکی کتنی بیویاں ہیں یہ نہیں دیکھتے لواری ٹاپ سے باہر سبز باع نظر آتا ہے۔عمر دیکھا جاتا ہے نہ سر کے بال، شکل دیکھا جاتا ہے نہ اخلاق اور اپنی اٹھارہ سال کی بیٹی بہن یا سالی یا رشتہ دار مختصر نفقے کے ساتھ اس کے ساتھ پشاور لاکر چھوتا دیتے ہیں۔اگر کوئی تیسرا سوال کرے تو جواب ملتا ہے میری بیٹی میری مرضی اور لڑکی بولتی ہے میری شادی میری مرضی۔

ہم کیوں یہ نہیں سمجھتے کہ وہ لوگ ہمارے کلچر رواج اور تہزیب کو نہیں سمجھ سکتے۔ہم اپنی بیوی کا خرچہ خود اٹھاتے ہیں وہ بیوی سے خرچہ کرواتی ہیں۔ہمارے ہاں لڑکا شادی کرتا ہےان کے ہان لڑکی شادی کرتی ہے۔ہم اپنی بیوی کے اوپر خرچہ کرنے کو اپنے کلچر کا حصہ سمجھتے ہیں وہ اس پیسے کو اس لڑکی کی قیمت سمجھ کر چترال میں لڑکی پیسے سے ملتی کا نظریہ لیکر چترال پہنچ جاتے ہیں۔بہت سارے بوری بند لاشیں بھی اٹھا چکے ہیں۔تیسری دوسری شادی ہماری بیٹی ہماری بہن ہی کیوں؟ کیا ہماری بیٹیاں بہنیں ہمارے اوپر اتنے بوجھ ہیں کہ ہم انکو کسی بھی شہری بابو کے ساتھ بعیر تحقیق کے بھیج دیتے ہیں۔کیا ہماری بہنوں کو چترال کے اندر کسی معاشی تنگی،معاشرتی استحصال ہا زہنی پریشانی کا سامنا ہے۔کیا ان کو ہر باہر سے آنے والا ان کے سپنوں کا شھزادہ، ان کا گھر جنت اور لواری ٹاپ سے باہر سبز باع نظر آتا ہے۔چترال میں کونسا ایسا مسئلہ ہے جو اپنی زندگی اور جوانی داو پر لگانے کی لئے تیار ہوگئے یہ بھی نہیں دیکھا کہ مستقبل کیا ملے گا۔

میرے چترال کے بھائیوں بہنو جو انسان چترال سے باہر سے چترال میں شادی کرنے آتا ہے وہ یقیناً یا تو دوسری تیسری یا چوتھی شادی کرنے آتا ہے یا ان کو شادی کا شوق ہے یا وہ اپنے کسی جسمانی بیماری کو دور کرنے کے لئے آتا ہے۔کیا ہم اپنی بہن بیٹی یا کسی بھی رشتہ دار کو ایسے کسی لڑکے مرد یا لنگی والے کے ساتھ بھیجنے سے پہلے ان سے یہ نہیں پوچھ سکتے کہ ہم تھوڑا تحقیق کرینگے اپ کا فیملی سٹیٹس آپکا فیملی سٹرکچر آپکا لائف اسٹنڈرڈ اور اپ گھر دیکھیں پھر اگر اپ اہل ہوئے تو اپنی بیٹی اپنی بہن یا اپنا رشتے دار اپ کے ساتھ بیاہنگے؟ ایسی کونسی مجبوری ہے کہ چند پیسوں کے عوض اپنی جوان بیٹی بہن یا رشتہ دار کسی نامعلوم آدمی کے سپرد کردیں؟ ہم کسی پٹھان پنجابی یا سندھی سے شادی کر بھی دیں تو مار دئیے جاتے ہیں لیکن ہم کیوں اپنی بیٹی بہن یا کسی رشتے دار کی بوری بند لاش پھینک کر جانے والے کو لواری ٹاپ سے نہیں لٹکا سکتے ہمارے لئے سوچنے کا مقام ہے اور ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ آئے روز کوئی نہ کوئی چترال کی بیٹی تشدد کا شکار ہوتی ہے اور انکی بوری بند لاش ہمارے حوالے کردی جاتی ہے اور بڑے ادب کے ساتھ ہمارے کان میں سرگوشی کی جاتی ہے کہ چترال کے لوگ تو بڑے شریف ہیں

پلیز چترال سے باہر رشتہ کرواتے وقت ایک نہیں ہزار دفعہ ہر پہلو پر سوچئے جتنا ہو سکے باہر سے آنے والے رشتے کو ٹھکرا دیجئے نہیں تو یہ بوری بند لاش اور یہ واقعات آئے روز ہوتے رہینگے۔اس سلسلے میں چترال کی سول سوسائٹی سوشل ایکٹوسٹ، خواتین، ریڈیو پاکستان، چترال پولیس اور سب سے زیادہ چترال کے علما خضرار جماعت خانوں کے مکھی حضرات اپنی وعظ نصیحت کے ساتھ کردار ادا کر سکتے ہیں۔ریڈیو پاکستان میں پروگرام مختلف این جی اوز واش پروگراموں کے ساتھ اس مسئلے کو بھی اجاگر کر سکتے ہیں۔آئین سب ملکر اپنی بہنوں بیٹیوں کی خفاظت میں اپنا کردار ادا کریں

اے ماؤ بہنو بیٹیو دنیا کی زینت تم سے ہے،

تم گھر کی ہو شھزادیان عمگین دلوں کی شادیاں

دکھ سکھ میں راحت تم سے ہے

Print Friendly, PDF & Email