داد بیداد۔۔۔تاحکم ثانی۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ

بجٹ میں کس کوکیا ملا؟ اور کس نے کیا دیا؟ یہ اعد ا دو شمار کا ایسا گورکھ دھند ا ہے جو عوام کے سمجھنے کے لئے ہر گز نہیں عوام جو کچھ سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ سٹرکیں کیسی ہیں؟ ہسپتال میں کس طرح علاج ہوتا ہے نلکوں کا پانی ٹھیک طرح بروقت آتا ہے یا نہیں؟ بجلی کا نظام درست ہوا یا نہیں؟ تعلیم، سما جی تحفظ، غربت مکا ؤ کے سلسلے میں کیا ہو ا؟ عدالتوں سے انصاف ملتا ہے یا نہیں؟ فیلڈ مارشل ایوب خان، ذولفقار علی بھٹو، جنرل ضیا ء الحق اور جنرل مشرف نے عوام کی نبض پر ہا تھ رکھا، شعیب احمد، ڈاکٹر مبشرحسن، ڈاکٹر محبو ب الحق اور شوکت عزیز نے ہر بجٹ میں عوام کو نظر آنے والی چیزوں پر تو جہ دی اس لئے لوگ اُن کو آج بھی یاد کر تے ہیں بلکہ ”تیر ی یاد آئی تیر ے جا نے کے بعد“ ایک ضر ب المثل کی صورت میں موجود ہے سال 2018-19 ؁ء کے بجٹ اور منی بجٹ کے اندر بہت سی اچھی باتیں لکھی گئی تھیں مگر ان کو ایک ترکیب (Phrase) کھا گئی بجٹ کا اجرا ء کر تے وقت لکھا گیا ”تاحکم ثانی“ اس کو خرچ نہ کیا جائے اس ”تاحکم ثانی“ کے انتظار میں سارے حکام، سب افسر بیٹھے رہے بلکہ ہاتھ پر ہاتھ دھر ے بیٹھے رہے جب حکم ثانی آیا تو لکھا تھا کہ نیا بجٹ آرہا ہے اس فنڈ کو واپس کرو انگر یز ی میں تا حکم ثانی کے لئے ٹل فردر آرڈز (Till further orders) اور فنڈ کو و اپس کر نے کے لئے سرنڈ (Surrender) کا لفظ استعمال ہوتا ہے فنڈ استعمال ہو ئے بغیر واپس کیا جائے تو اس کے لئے تھوڑی سی تکنیکی اختلاف کے ساتھ لیپس (Lapse) کا لفظ بھی بو لا اور لکھا جاتا ہے پہلے زما نے میں حکومت کے ذمہ دار حکام کی کا میابی کا پیما نہ یہ تھا کہ فنڈ کادرست استعمال ہو ہر سہ ما ہی میں اس کا جا ئز ہ لیا جا تا تھا مثلا ً 2002-3 ؁ء کی پہلی سہ ماہی میں فنڈ کا 40 فیصد استعمال ہوا تھا اس کے مقابلے میں 2018-19 ؁ء کی پہلی سہ ماہی جو لا ئی اکتو بر میں فنڈ کا 10 فیصد سے کم استعمال ہوا 2002-3 ؁ء کی آخر ی سہ ماہی (مارچ۔جون) میں فنڈ کا 92 فیصد استعمال ہوا تھا 2018-19 ؁ء کی آخر ی سہ ماہی میں فنڈ کا 38 فیصد استعمال ہوا 62 فیصد سرنڈر (Surrender) یا لیپس (Lapse) کیا گیا اب افسروں کا کارکردگی کا پیما نہ بھی تبدیل ہوا ہے جوافسر بجٹ کو خر چ نہیں کرتا فنڈ کو واپس کرتا ہے اس کو شاباش ملتی ہے سماجی تحفظ موجو دہ حکومت کا ایسا شعبہ ہے جو اولین ترجیحات میں شامل ہے قومی زکو ۃ کونسل، صوبائی زکوۃ کونسل اور ضلعی زکوۃ کمیٹی اس کے نما یاں ادارے ہیں عشر اور زکوۃ کے محکمے میں 2018-19 ؁ ء کے بجٹ میں 538 آسا میاں ایسی تھیں جنکی تنخواہ کا بجٹ دیا گیا تھا مالی سال کے اختتام پر بجٹ کوواپس کر تے ہو ئے لکھا گیا ہے کہ 538 آسا میاں ختم کی گئیں آئیند ہ سال کے لئے بجٹ نہ دیا جا ئے ضلعی زکوۃ کمیٹیوں میں جس کمیٹی کے پاس غریبوں کی تعداد سب سے کم ہے اس کو دو کرو ڑ روپے کا فنڈ جاری کیا گیا تھا ساتھ ہی لکھا گیا تھا کہ ”تاحکم ثانی“ فنڈ کو خرچ نہ کیا جائے 31 مئی 2019 ؁ء کو حکم ثانی آیا تو اس میں لکھا تھا کہ جو فنڈ خرچ نہیں ہوا وہ فوراً واپس کیا جائے چنانچہ 2000 طلباء کے وظا ئف، 43000 مستحقین کے لئے سہ ماہی امداد، 6000 مریضوں کے لئے دواؤں کا خرچہ، 4000 بیو اؤں کے لئے سلائی مشینوں کی رقم 10 مہینے ”حکم ثانی“ کے انتظار میں رکھنے کے بعد بخیر و خولی حکومت کو واپس کی گئی ؎

آخر گلِ اپنی صرف میکد ہ ہو ئی
پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا
واپس کر نے والے افیسر کو یقینا شاباشی بھی ملے گی انعام بھی ملے گا ترقی بھی ملے گی لیکن جن بیماروں، بیواؤں، طالب علموں اور زکوۃ کے دیگر مستحقین کے لئے فنڈ کا اجر اء ہوا تھا ان کو پورا سال انتظار کر انے کے بعد جب اطلاع دی گئی کہ فنڈ واپس کیا گیا تو اُن بے چاروں اور بے نو اوں پر کیا کچھ بیتی ہو گی!1960 ؁ء کے عشر ے میں فلم ”ساتھ لاکھ“ بہت مشہور ہو ئی تھی اس کا ایک مکالمہ یعنی ڈائیلا گ اب تک لوگو ں کو یاد ہے فلم کا ایک کردار دوسرے سے کہتا ہے ”ساتھ لاکھ روپے جنہیں تم صرف گن سکتے ہو“ ضلعی زکوۃٰ کمیٹی کے دو کروڑ روپے جو کاغذات میں جاری ہو ئے ”تاحکم ثانی“ رکھے گئے، اورحکم ثانی آنے پر واپس کئے گئے محکمہ تعمیرات کے ڈیڑھ ارب روپے جو کاغذات میں جاری ہوئے حکم ثانی تک رکھے گئے 10 ماہ بعد حکم ثانی آیا تو واپس کردیے گئے اریگشین، پبلک ہیلتھ انجینئر نگ، تحصیل میو نسپل ایڈ مسٹریشن، محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم کے بڑے بڑے منصو بے التو اء کا شکار ہیں جو ڈیشنل کمپلیکس کی عمارتوں پر کام بند ہے کیونکہ بجٹ کو استعمال کر نے کے لئے حکم ثانی کا انتظار تھا اب حکم ثانی آیا تو فنڈ کو واپس کیا گیا گذشتہ 6 سالوں سے یہی مشق دہر ایا جا رہا ہے صرف ایک ضلع میں 4 ہزار رجسٹر ڈ ٹھیکہ دار بے رو زگار ہیں 40 ہزار ہنر مند افراد کا م کے انتظار میں بیٹھے ہیں اور ایک لاکھ مزدوروں کے پاس روزگار نہیں ہے 20 ارب روپے کی تعمیر اتی مشینر ی بیکار پڑی ہے 62 ارب روپے کے منظور شد ہ منصو بے التو اء کا شکار ہیں اور 46 ارب روپے کے منصوبوں کو ادھورا چھوڑ دیا گیا ہے علم معاشیات، علم تجارت، علم ترقی اور علم عمرانیات کے ماہر ین اس کو جمود اور زوال کا نام دیتے ہیں کسی نے سچ کہا بجٹ کے اعد اد و شمار اُس وقت تک عوام کی سمجھ میں نہیں آتے جب تک بجٹ میں منظور ہو نے والا فنڈ استعمال میں نہ آئے اگر فنڈ ”تاحکم ثانی“ پڑا رہے اور حکم آنے پر واپس کیا جائے تو عوام کو بجٹ سے کیا فائد ہ ہو گا ؎
رگوں میں دوڑ تے پھر نے کے ہم نہیں قائل
جو آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو لہو کیا ہے

Print Friendly, PDF & Email