جامعات سے وابستہ سوشل پیجز اور طلبہ پریشان۔۔۔۔۔تحریر:اسماء طارق گجرات

سوشل میڈیا کا دور ہے  ایسے میں ممکن نہیں کہ کوئی اس سے دور یا باخبر ہو  مگر جیسا کہ یہ رنگ برنگی دنیا ہے جہاں ہر طرح کی معلومات پائی جاتی ہے اب یہ ہم پر کڑی ذمہ داری ہے کہ ہم کسی معلومات چنتے ہیں کیونکہ جیسی معلومات ہم چنے گے ویسی ہی معلومات ہمیں ملے گی ۔۔
آجکل سوشل میڈیا پر بہت سے فضول اور غیر معیاری  صفات کا راج ہے جو کئی لوگوں کی ذاتی زندگیوں میں دخل اندازی کرنے سے گریز نہیں کرتے دوسرے کی ساکھ خراب کر رہے ہیں لوگ اس سے بہت پریشان ہیں مگر کرنے کے وہ کام نہیں کرتے جو کرنے چاہیے۔
اگر سوشل میڈیا پر کوئی ایسی پوسٹ یا تحریر دیکھیں جو اخلاقی حدود کو پامال کرتی ہوئی ملتی ہے تو اس پر اپنے غصیلے اور جذباتی کمنٹس اور غصیلا یا کوئی  تاثر نہ دیا کریں سب سے پہلے تو اسے نظرانداز کریں اور پھر ان فالو (unfollow)  کر دیں اس طرح کرنے سے وہ پوسٹ بہت سے لوگوں کی رسائی تک پہنچنے سے رک جائے گا ۔
آپ کے کمنٹ اور کسی غصیلے تاثر (expression )کے اظہار سے پوسٹ کی تشہیر بڑھتی ہے اور وہ زیادہ لوگوں تک پھیلتی ہے اور نتیجہ کے طور پر ریٹنگ بڑھتی ہے ۔
جیسا کہ آجکل یونیورسٹیوں میں لوگوں نے تفریح    (entertainment )کےلیے بہت سے صفات  (pages ) بنا رکھے ہوئے ہیں جہاں بہت سی چیزیں اخلاقیات سے پرے نشر ہو رہی ہوتی ہیں اور  چاہے یونیورسٹی آف گجرات کے طلباء کے کچھ  pages ہوں یا کسی اور ادارے کے  ۔۔ بہت سے دوسرے طلباء اس سے متاثر ہورہے ہیں اور اس سے پریشان ہیں  جو انکا ہتھیار بن جاتے ہیں ۔۔
اگر دیکھتا جائے تو یہ ہم ہی لوگ ہوتے ہیں جو اس طرح کے صفات (pages ) کو لائک  ( like) اور فالو  (follow) کرتے ہیں اور پوسٹس کو دیکھتے ہیں چاہے وہ leaks ہو یا confession یا اور کوئی پیج اس طرح سے کبھی کوئی ان کا ہتھیار بنتا تو کبھی کوئی۔۔

یہ ایک کرپٹ ذہنیت ہے اور بدقسمتی سے ہم سب بھی اس کا حصہ بن جاتے ہیں کیونکہ ہم ہی لوگ ایسی چیزوں کو پسند کررہے ہوتے ہیں اور انہیں باقاعدگی سے فالو کرتے ہیں ۔ ایسے ہی اگر ہماری سوشل میڈیا کی وال اگر  دیکھی جائے تو وہاں ہمیں  بمشکل کوئی کام کی چیز ملتی ہے  ایسی ہی چیزیں ہونگی جو بیکار ہیں کیونکہ ہم انہیں فالو کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں مگر اس کے علاوہ بھی بہت کام کی چیزیں بھی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر ہی موجود ہیں جنہیں اگر ہم فالو کریں تو ہماری معلومات میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔
لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے report کرانے سے یہ بند نہیں ہوتے ایک تو آپ کوشش تو کریں  اگر پھر بھی ہمارے رپورٹ کرانے سے یہ بند نہ بھی ہو تو ہمارا اور ہمارے دوستوں کا ان فالو ( unfollow) کرنا ہی ایسے صفات  (pages )  کی ریٹنگ  ( rating) کو بہت کم کرسکتا ہے اور کرتا ہے ۔
ایسی پوسٹس پر کمنٹس اور کسی  تاثر کا اظہار نہیں کرتے ہیں ۔ اس طرح اس کی ریٹنگ بڑھتی ہے اور زیادہ لوگوں کی رسائی ممکن ہوتی ہے اور بات چھپانا تھا وہ سارے جگ میں پھیل جاتی ہے ۔
پہلے تو یہ ہے ہی بہت غیر اخلاقی حرکت کہ آپ کسی کی ساکھ کو خراب کرنے کی کوشش کریں اور کسی زندگی میں دخل دیں ۔ دوسروں کے تلاش کرنے کی بجائے خود پر توجہ دیں شاید کچھ بن ہی جائیں۔
کسی نے کیا خوبصورت بات کی ہے کہ ، ” جو لوگ اپنی کھوج میں ہوتے ہیں وہ دوسروں کی زندگیاں نہیں  کھوجتے رہتے کیونکہ ان کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتا ۔”
تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ دوسروں کی زندگیوں کی کھوج رکھنا، ان کے تعاقب میں رہنا، ان کے عیب نکالنا اور اسکی تشہیر کرنا اور کھوج میں رہنا اس سے محظوظ ہونا بیکار اور فارغ لوگوں کا شیوہ ہے جن کے پاس کرنے کو کوشش نہیں ہوتا ۔
ایسی بیکار چیزوں سے دور رہیں اور اپنے اپنوں کو بھی رکھیں ۔نہ انہیں خود پسند کریں اور نہ فالو ایسا کر کے نہ ان کی تشہیر بڑھائیں اور نہ انہیں فروغ دیں کیونکہ یہ لوگ تو سب ریٹنگ کےلیے کر رہے ہوتے ہیں اور وہ چاہے کیسے بھی ملے ۔ اپنے اور اپنے سوشل میڈیا کے  ماحول کو صاف رکھیے اور اچھی اور بامقصد زندگی گذاریں ۔ خود بھی خوش رہیں  اور دوسروں کو بھی خوش رہنے دیں ۔

Print Friendly, PDF & Email