45

خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں انسداد پولیو مہم میں تیزی

پشاور۔۔۔ ملک بھر بالخصوص خیبر پختونخوا میں انسانی جسم کو اپاہج بنانے والی بیماری پولیو سے متاثر ہونے والے مریضوں کے تعداد میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے انسداد پولیومہم کو مزید تیزکرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں انکاری والدین کو بچوں کو پولیوسے بچاؤ کے قطرے پلوانے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔

وزیر اعظم کے انسداد پولیومہم کیلئے فوکل پرسن بابر بن عطاء کاکہنا ہے کہ انکاری والدین کا تعلق صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ہے۔ پشاور ٹوڈے سے بات چیت میں اُنہوں نے کہا کہ اس سال نیورک جیسے شہر میں 2014بچے خسرہ سے متاثر ہوئے ہیں اور اس کی وجہ انکاری والدین ہی تھے۔
بابر بن عطاء کاکہنا کہ انسداد پولیومہم کو موثر بنانے کیلئے علماء کرام، دانشور، لکھاریوں اور ذرائع ابلاع سے تعلق رکھنے والوں لوگوں کے ساتھ مزکرات کا سلسلہ جاری ہے اور کوشش ہے کہ انکاری والدین کو معاشرے کے باشعور افراد کے ذریعے انسداد پولیومیں شریک ہونے اور پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیوسے بچاؤ کے قطرے پلوائے جائے۔

کراچی اور لاہور جیسے اہم شہروں کے علاوہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں انسداد پولیوک خصوصی مہم کے بارے میں بابر بن عطاء نے کہا کہ ہر مہم ان علاقوں میں جلد کی جارہی ہے جہاں پر پچھلے چند مہینوں میں پولیوسے متاثر مریضوں کی تصدیق یا کیسز سامنے آئے ہیں۔ ان علاقوں میں خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع شمالی وزیر ستان بنوں، کرک اور لکی مروت اور شمالی اضلاع شانگلہ،بونیرشامل ہیں۔

انسداد پولیو مہم کے شروع ہونے سے قبل بابر بن عطاء اور محکمہ صحت کے اعلی عہدیداروں نے خیبر پختونخوا کے مختلف جنوبی اور شمالی اضلاع کے علاوہ پشاور میں علماء کرام، دانشوروں او ر زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ساتھ خصوصی مزاکروں میں شرکت کی اور اُنہیں پولیوکیسز میں اضافے سے پیداشدہ صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اسے ملک کے مستقبل کیلئے انتہائی خطرناک قرار دیا ہے۔

خیبرپختونخواہ کے بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن کے ساتھ ساتھ مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن کے کچھ حصوں میں 17جون بروز پیر سے خصوصی انسداد پولیو مہم شروع کرنے کے بارے میں ایک اعلی سطحی اجلاس میں فیصلہ ہوا ہے کہ یہ مہم ضلع بنو، ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت، ٹانک، شمالی اور ضلع جنوبی وزیرستان کے ساتھ ساتھ ضلع شانگلا، بونیر اور تورغر میں بھی محکمہ صحت کے افسران، کمشنران/ ڈپٹی کمشنران اور سکورٹی فراہم کرنے والے اداروں کی سربراہی و سرپرستی میں چلائی جائے گی۔

اعلی سطحی اجلاس ایمر جنسی آپریشن سنٹر خیبر پختونخوا کے کو آرڈینیٹر کیپٹن (ر) کامران احمدآفریدی کی زیر ہ صدارت ہوا ہے۔اجلاس میں ڈا ئر یکٹر ای پی آئی ڈاکٹر اکرم شاہ،ٹیکنیکل فوکل پرسنز،این سٹاپ افسر اور یونیسیف اور عالمی ادارہ صحت کے ٹیم لیڈ بھی موجود تھے۔

اس گھرگھرمہم کے دوران 11 لاکھ 4ہزار23 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے جس کے لئے تربیت یافتہ ہیلتھ ورکرز پر مشتمل 4710ٹیمیں تشکیل دی گیں ہیں جس میں 3ہزار127موبائل،260فکسڈ، 235ٹرانزٹ، 1028 کمونٹی ہیلتھ ورکرز اور60رو منگ ٹیمیں شامل ہیں۔جن کی نگرانی کے لئے 836ایریا انچارجز کی تعیناتی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

اس موقع پرایمر جنسی آپریشن سینٹر خیبرپختونخواہ کے کوآرڈینیٹر کیپٹن (ر) کامران احمدآفریدی نے کہا کہ ہر بچے کو ہر بار انسداد پولیو مہم کے دوران پولیو قطرے پلوانا ہی پولیو خاتمے کے حصول کا واحدذریعہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیو کیسز سامنے آنے کی سب سے بڑی وجہ انکاری والدین ہیں، جن کے زہنوں میں پھیلائی گئی افواہوں، جھوٹی خبروں اور پروپگنڈوں کی وجہ سے پیدا کئے گئے شکوک ہیں۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ افواہوں، جھوٹی خبروں اور پروپگنڈوں پہ کان نہ دھریں کیونکہ پولیو ویکسین محفوظ تریں ویکسین ہے۔
کامران آفریدی نے کہا کہ یہی ویکسین اربوں بچوں کو پلائی جا چکی ہے اور باقی کی دنیا میں اسی ویکسین کی مددسے پولیو وائرس کا خاتمہ کیا گیا ہے۔ پولیو قطروں سے انکار پولیو کیسز کا سبب بنتا ہے جو ہمیں پولیو خاتمہ سے مزید دور لے جاتا ہے۔

حکام کے مطابق اس سال کے دوران اب تک پورے پاکستان میں پولیو کیسز کی تعداد بڑھ کر 24 ہو گئی ہے، جسمیں صوبہ خیبر پختونخواہ کے مختلف اضلاع سے سامنے آنے والے 19 پولیو کیس بھی شامل ہیں۔ جن میں 8 پولیو کیس ضلع بنوں سے، 1 ضلع ہنگو سے، 1 ڈیرہ اسماعیل خان سے، لکی مروت سے ایک، 1 ضلع شانگلا سے، 1 ضلع باجوڑ سے، 1 ضلع خیبر سے اور 5 پولیو کیس شمالی وزیرستان سے سامنے آئے ہیں۔

حکام کے مطابق پولیوکا ایک نیا کیس بنوں کے علاقے جانی خیل سے سامنے آیا ہے جس کے بنیاد پر بنوں ڈویژن میں آج سے پولیوکے روک تھام کے لئے حصوصی مہم چلایا جارہاہے۔ مہم کی نگرانی وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے انسداد پولیو بابربن عطاء کررہے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان دوایسے ممالک ہیں جہاں پر اب بھی پولیوں کے وائرس موجود ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email