18

پاکستان کے عوام خصوصا نوجوانوں کوان افواہوں پر کان نہیں دھرنے چاہئیں/چیرمین تحریک نوجوانان محمد عبداللہ گل

چترال ( محکم الدین ) چیرمین تحریک نوجوانان پاکستان و کشمیر محمد عبداللہ گل نے کہا ہے . کہ پاکستان ایک مضبوط اسلامی ملک ہے . لیکن دشمن اسے مختلف سازشوں اور افواہوں کے ذریعے ناکام ریاست ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے . اس لئے پاکستان کے عوام خصوصا نوجوانوں کوان افواہوں پر کان نہیں دھرنے چاہئیں. اس ملک میں اللہ پاک کا دیا سب کچھ موجود ہے . چار مختلف موسم , بہترین زرخیز زمین, معدنیات سے بھرے پہاڑ اور خوبصورت سیاحتی مقامات و قدیم کلچر اور افرادی قوت اس کے وہ خزانےہیں . جنہیں بہتر طور پر استعمال کرکے آج بھی ہم خود کفیل ہو سکتے ہیں . اور ہمیں کسی سے بھی بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں پڑے گی . لیکن شرط یہ ہے کہ اس ملک کو دیانتدار , صاحب بصیرت اور سادہ شعار قیادت میسر ہو . جس سے یہ آج تک محروم ہے . ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دورہ چترال کے دوران چترال پر یس کلب کے پروگرام مہراکہ سے خطاب کرتے ہوئےکیا . جس میں رہنما پاکستان تحریک انصاف چترال رحمت غازی , رجسٹرار چترال یونیورسٹی ڈاکٹر تاج الدین اعزازی مہمان اور ڈاکٹر حبیب الرحمن نے تلخیص کار کے فرائض انجام دیے . مہراکہ میں چترال کے مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے انٹلیکچولز نے شرکت کی . صدرپریس کلب ظہیر الدین نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا . جبکہ بہاراحمد نے مہمان سپیکر محمد عبداللہ کا تعارف پیش کیا . اور ان کے والد گرامی معروف عسکری شخصیت جنرل حمیدگل مرحوم کی پاکستان کیلئے خدمات اور چترال سے ان کی دلی محبت پر روشنی ڈالی . محمد عبد اللہ گل نے اپنے خطاب میں کہا . کہ موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی دیانتداری اور ملکی ترقی کئلیے ان کے جذبے پر شک نہیں کیا جا سکتا . لیکن اقتدار میں آ نے کے بعد ان لوگوں کو انہوں نے اپنے ساتھ شامل کرلیا جو شریک سفر نہ تھے . اس سے جس انقلابی تبدیلی کی توقع کی جارہی تھی . وہ بری طرح متاثر ہوئی .عمران خان کو اپنے ان ساتھیوں پر ہی انحصار کرنا چاہیے تھا . جنہوں نے اپنے وسائل وقت اور جذبوں کی قربانی دی تھی . انہوں نے کہا . کہ موجودہ لوگ عمران خان کو ناکام کرنے کیلئے کافی ہیں . عبداللہ گل نے کہا . کہ پاکستان ایک عظیم ریاست ہے . جس نے باوجود ایک بازو کے ٹوٹنے کے اس خطے میں اہم کردار ادا کیا . روس کو سولہ ٹکڑوں میں تقسیم کیا .اور گرم پانیوں تک پہنچنے کی ان کی آرزو خاک میں ملادی . اور ٹیکنیکی طور پر یہ جنگ پاکستان کی سرحدوں سے باہر لڑ نے میں کامیاب رہے . جبکہ دوسری بار انکل سام کےارادے خاک میں ملادیے . گوکہ یہ جنگ غلط پالیسی کی بنا پر ملک کے اندر داخل ہوئی . اور بڑے پیمانے پر ہمیں جانی اور مالی نقصانات اٹھانے پڑے. تاہم ملک دشمنوں کو شکست دینے میں کامیاب رہے . یہ اس ملک کی عسکری صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے . جسے پوری دنیا مانتی ہے . اور بہت سے ممالک میں پاکستان کی ان جنگی کامیابیوں سے حاصل ہونے والے تجربات کو عسکری سکولوں میں بطور مضمون پڑھایا جاتا ہے . عبد اللہ گل نے کہا . کہ پاکستان ایک نظریاتی اساس کا حامل ملک ہے . لیکن افسوس کا مقام ہے . کہ اس کے اسلامی تشخص کو جمہوریت اور سیکولرزم کے لبادے میں متاثر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے . اور یہی اس کے مسائل کی بنیاد ہے . انہوں نے کہا . کہ ہمیں بابائے قوم قائد اعظم کی کفایت شعاری , اور دیانتداری کے اصولوں پرعمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے . ہمیں چاہیے کہ سادگی کو شعار بنائیں . اور لوگوں کے ساتھ اپنائیت پیدا کرکے محبت کا برتاؤ کریں . عبداللہ گل عدالتوں کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا. کہ آج عالم یہ ہے . کہ عوام کا اعتماد عدالتوں پر سے اٹھ چکا ہے . کیونکہ عدالتیں عوام کو انصاف فراہم نہیں کر رہیں . جبکہ ہمارے وزیر اعظم ریاست مدینہ کی بات کر رہے ہیں . حال یہ ہے . کہ سود کو فروغ دیا جارہا ہے . اور اللہ کے واضح احکامات کو روزانہ توڑا جا رہا ہے . اور دعوے بھی کئے جا رہے ہیں .
عبداللہ حمید گل نے نوجوانوں سے اپیل کی . کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں . کیونکہ مستقبل نوجوانوں کا ہے . اس لئے اپنی شناخت برقرار رکھیں . بصورت دیگر مغربی سحر خیزیوں میں شناخت گم ہوجائے گا . ہمیں سوچناچاہیے . کہ قیام پاکستان کا مقصد کیا تھا . اور ہم اللہ پاک سے اپنے کئے وعدے کہاں تک پورے کر سکے . ہم نے تو اس کو وہ پاکستان بھی نہیں رہنے دیا . جس کے تجربات سے سبق سیکھ کر چین اور کوریا ترقی کی بلندیوں تک پہنچ گئے . اس کے باوجود بھی ڈگمگاتی یہ ناؤ دشمنوں کی انکھوں میں کھٹکتی ہے . انہوں نے کہا . کہ ہمیں دوبارہ ایک عظیم ملک بنانا ہو گا . جس میں انصاف ہو . لوگوں کو روزگار اور عزت کے زندگی گزارنے کے مواقع میسر ہوسکیں . اور وہ با اثر لوگوں کے شر سے اپنے آپ کو محفوظ تصور کریں . اسلئے اس بات کی اشد ضرورت ہے . کہ تمام نوجوان ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں . تاکہ مشتر کہ جدوجہد کے ذریعے قیام پاکستان کے مقاصد حاصل کئے جا سکیں . انہوں نے کہا . کہ انہیں خوشی ہے . کہ چترال کے لوگ ان کےمرحوم والد جنرل حمید گل سے دلی محبت وعقیدت رکھتے ہیں. چترال کے لوگ انتہائی باشعور ہیں . ان سے محبت یقینا ملک کیلئے ان کی خدمات کے اعتراف میں کی جاتی ہے . جنہوں نے اپنی عسکری زندگی میں ملک کیلئے وہ کام کئے . جو ملک کی تاریخ کا روشن باب ہیں . پروگرام کے دوران وقاص احمد ایڈوکیٹ , پروفیسر فداالرحمن, صلاح الدین صالح , محکم الدین وغیرہ نے سوالات کئے . جن کے مہمان عبد اللہ گل نے جوابات دیے . مہراکہ کے اختتام پر تلخیص کار ڈاکٹر حبیب الرحمن نے بھی خطاب کیا .

Print Friendly, PDF & Email

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں