فوجی۔۔۔تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

رات کا آخری پہر بھی دھیرے دھیرے سرک رہا تھا‘ سارے لوگ نرم و گداز بستروں میں دبکے سو رہے تھے لیکن میں کوہ مری کی گلیات میں پہاڑ کی چوٹی پر صحت افزا ٹھنڈے مقام پر ابھی تک جاگ رہا تھاپچھلے تین گھنٹوں سے مسلسل بارش جاری تھی درمیان میں وقفے وقفے سے ژالہ باری بھی ہو رہی تھی بادلوں کے برسنے سے موسم خوشگوار یت سے تیز سردی میں بدل گیا‘ میں جائے نماز پر عبادت مراقبہ ذکر اذکار کر نے کے بعد اب آرام دہ گداز صوفے پر کمبل لپیٹ کر بیٹھا تھامیری دائیں طرف شیشے کی کھڑکی پر بارش کی بوندیں روشن موتیوں کی طرح چمک رہی تھیں چند گز کے فاصلے پر تیز سرچ لائٹ جل رہی تھی اِس لیے باہر کا منظر بخوبی نظر آرہا تھا تیز بارش کے بعد اب بارش کا زور تھم چکا تھا اب ہلکی ہلکی بوندا باندی جاری تھی کچھ دیر بعد یہ بوندا باندی پھر رک گئی ٹھنڈ کی وجہ سے کمبل نے جیسے ہی میرے جسم کو حرارت پہنچائی جسم گرم ہوا تو نیند کی دیوی آنکھوں پر دستک دینے لگی میں نے آنکھیں موند لیں ہاتھوں میں تسبیح کے دانوں پر انگلیوں کی گردش جاری تھی میں بھی سونے کی کوشش کر نے لگا تو میری زندگی کے دو نایاب اعلیٰ نسل کے انسانوں کے روشن چہرے اور آنکھیں میری آنکھوں کے سامنے تیز روشنیوں کی طرح جھلملانے لگے موجودہ دورمصنوعی ترقی روشنیوں اور مادیت پرستی کا دور ہے جس میں ہر انسان ما دیت پرستی کے طلسم ہو شربا میں دھنستا ہی جا رہا ہے‘ اعلی اقدار اخلاقیات انسان کا حقیقی کر دار روئیے تو کب کے کہیں دور دفن ہو چکے‘ آجکل تو دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جانور نما انسانوں کا راج ہے جو اپنی بقا اور دوسروں کو پاؤں تلے کچلنے پر لگے ہو ئے ہیں طاقت اور اقتدار کے نشے نے مغربی دنیا کے حکمرانوں اور ملکوں کو فرعون بنا دیا ہے اِس لیے وہ تیسری دنیا کے ترقی پذیر ملکوں کو اپنی محکوم رعایا بلکہ غلام سمجھ کر اپنی مرضی اور برتری تسلیم کرانا چاہتے ہیں مسلمانوں کے جذبہ حریت اور اسلام کے عالمگیر افاقیت اور پھیلاؤ سے تنگ آکر دہشت گر دی کا الزام لگا کر پچھلے کئی عشروں سے فلسطین کشمیر افغانستان شام عراق میں لاکھوں انسانوں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح مسل رہا ہے دنیا کے تمام تر قی یافتہ اور مہذبی ملکوں کا حقیقی چہرہ اس وقت نظر آتا ہے جب ظالم بد معاش اسرائیل نہتے فلسطینیوں پر بمباری کر تا ہے معصوم بچوں کے نازک جسموں میں سوراخ کر تا ہے حضرت مریم ؑ جیسی پاک باز لڑکیوں کی عزت تار تار کر تا ہے کمزور بوڑھوں کا قیمہ بنا دیتا ہے اور مہذب ترقی یافتہ ملک خاموش رہتے ہیں یا پھر اسرائیل کا اپنے دفاع کا پورا حق ہے کا نعرہ لگاتے ہیں اور موجودہ دور کے دجال بڑے فرعون امریکہ کو کون نہیں جانتا جو بدمعاش اعظم بنا ہوا ہے اپنی مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے بد معاش کا جس ملک پر دل کر تا ہے دھاوا بول دیتا ہے گوری چمڑی والے نہتے نمازیوں کو بھون دیں اُن کو نفسیاتی مریض قرار دے کر چھوڑ دیا جا تا ہے اور اگر مسلمان اپنے دفاع میں کچھ کریں تو دہشت گر دی کا لیبل لگا کر خوفناک طاقتور ہتھیاروں کے ساتھ اُس ملک پر چڑھ دوڑتا ہے شمالی کو ریا اور چین آنکھیں دکھائے تو چپ ہو جاتا ہے اور اگر مسلمان دبا دبا سا احتجاج بھی کریں تو پتھر کے زمانے میں دھکیل دینے کی دھمکی دے دیتاہے یہ تو کفار کا اصلی چہرہ ہے اگر اب اسلامی دنیا کے باہمی تعلقات پر نظر دوڑایں تو یہاں بھی منافقت ہی منافقت نظر آتی ہے مسلما ن ملکوں کے حکمران عیاشیوں میں غرق اپنی ہی دھن میں مست ہیں پاکستان میں اگر نظر دوڑائیں تو نام نہاد علماکرام نے نفرت تفرقہ بازی کی ایسی پنیری کاشت کی جواب ایک تن آور فصل کا روپ دھا چکی ہے دوسروں پر کفر کی گو لہ باری کر کے قوم کو مختلف تفرقوں میں تقسیم کر دیا ہے نفرت کینہ بغض نفرت دوسروں پر ظلم ہما ری فطرت کا حصہ بن گیا ہے آجکل وطن عزیز میں بھی صالح انسان ختم ہو گئے ہیں اب یہاں بھی مہذب لبادوں میں جانور نما انسان ہیں جو موقع کی تلاش میں نشانہ لگا کر بیٹھے ہو تے ہیں جیسے ہی موقع ملا دوسروں تو چیر پھاڑ دیا یا اُس کی جائیداد دولت پر قبضہ جما لیااچھے انسانوں کی جگہ اب مہذب بھیڑیے ہیں جو موقع ملنے پر ہی کمزور کا گلا دبو چ کر اُس کی رگوں سے خون نچوڑ لیتے ہیں موجودہ دور کا انسان جس طرح ایک دوسرے کے خون کا ویری ہو چکا ہے انسان سے خونی جانور کا روپ دھار چکا ہے یہ دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے کبھی کبھار زندگی میں کسی ایسے انسان سے بھی ملاقات ہو جاتی ہے جو انسان کے حقیقی روپ میں ہو تا ہے جو ان تمام برائیوں خامیون سے پاک ہو تا ہے جس میں محبت پیار اخوت رواداری پیار درگزر خدمت خلق خدا اور اُس کے بندوں سے حقیقی پیار نظر آتا ہے میں ایسے ہی انسانوں کی تلاش میں رہتا ہوں جہاں بھی ایسے انسان ملتے ہیں میں اُن کے پاس بیٹھ کر اپنی ذات کا تعفن دور کر تا ہوں اُن کے کردار کی خوشبو سے اپنے ظاہر و باطن کو مہکا تا ہوں خوش قسمتی سے پچھلے دو دنوں میں میری ملاقات شہید میاں اور شہید بیٹے کی ماں سے ہو ئی اور پھر شہید بیٹے کے باپ سے جو دو اور بیٹے وطن پر قربان کر نے کے لیے تیار بیٹھا تھا جانور نما انسانوں کے اِس ہجوم میں یہ دوانسان پہاڑی کے چراغ کی مانند نظر آئے جو زمانوں کی تاریکیاں دور کر رہے تھے دونوں بو ڑھے تھے لیکن شہادت کی آرزو اُن کی بوڑھی دھندلائی آنکھوں میں چراغ کی طرح روشن تھی بارش رک چکی تھی میں اٹھا اور کمرے سے باہر آکر کر سی پر بیٹھ گیا اچانک انسانوں کے چلتے قدموں کی آواز آئی تو تین چاک و چوبند فوجی ہتھیاروں سے لیس گشت کر تے گزرے میں آگے بڑھا انہیں سلام کیا اورپوچھا رات کے آخری پہر آپ کیا کر رہے ہیں تو ایک بولا آپ لوگ سو رہے ہیں ہم جاگ کر آپ لوگوں کی حفاظت کر رہے ہیں یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گئے لیکن میرے لیے سوچ کی کھڑکیاں کھول گئے کہ رات کے اِس پہر پاک فوج کے جوان فضائیہ کے جوان اور بحری فوج کے جانباز اپنی اپنی عطا کر دہ ڈیوٹیاں مہارت سے دے رہے ہونگے تاکہ پاکستان کے عوام سکھ چین کی نیند سو سکیں اِسی دوران میری نظر سامنے کھڑے فوجی جوان پر پڑی جو کبھی دوقدم آگے پیچھے چل کر پھر کھڑا ہو جاتا میں چلتا ہوا اُس کے پاس پہنچا سلا م کیا اور پوچھا اے محافظ آپ کا علاقہ کون سا رہے تو وہ ٹوٹی پھوٹی اردو میں بولا میں وزیرستان سے ہوں اُس کی عمر تیس سال سے کم تھی میں نے اُس سے گپ شپ شروع کر دی و ہ بتا رہا تھا اُس کی شادی کو پانچ سال ہو گئے اُس کا ایک بیٹا اور چھوٹی بیٹی ہے پھر اُس نے بٹوے میں لگی اپنے بچوں کی تصویر یں اپنی بیوی اور ماں باپ کی تصویریں دکھا ئی وہ بتا رہا تھا اُس کا باپ امام مسجد ہے اُس کی خواہش تھی وہ میدان جنگ میں اپنی جان کا نذرانہ خدا کے حضور پیش کر ے لیکن اُس کا خواب جب پورا نہ ہوا تو اُس نے مجھے فوج میں سپاہی بھرتی کرا دیا پھر مجھے کہا وطن کی سرحدوں کی حفاظت کر تے ہو ئے اگر جان بھی جائے تو پروا نہ کر تا اگر تم شہید ہو کر آؤ گے تو میں تمہارا استقبال اِس طرح کروں گا جیسے فاتح زمانہ کا کرتے ہیں وہ باپ کی باتیں کر رہا تھا جب خوب بول چکا تو میں نے پو چھا تم کو موت سے ڈر نہیں لگتا تو وہ آہنی لہجے میں بولا موت تو آنی ہے بستر پر آئی تو کیڑے مکوڑے کی میدان جنگ میں آئی تو شیر کی موت ہو گی اُس کی بات سن کر مجھے لگا وہ کو ہ ہما لیہ ہے اور میں بو نا انسان اُس سے جپھی ڈالی اور آکر سوگیا کیونکہ پاک فوج کے فوجی پہرے پر موجود تھے۔

Print Friendly, PDF & Email