85

خوراک کی قلت کے پیش نظر لواری ٹنل سے گندم کی ترسیل کی اجازت اور روزانہ دو گھنٹے عام مسافروں کیلئے مختص کئے جائیں/چترال چیمبر آف کامر

چترال(ڈیلی چترال نیوز)چترال چیمبر آف کامرس کے صدر حاجی محمد خان ، سینئر نائب صدر سرتاج احمد خان، ایگزیکٹیو ممبران محمد وزیر خان،سابق ناظم امیراللہ اور معراج حسین لال نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور چیئر مین این ایچ اے سے مطالبہ کیا ہے کہ چترال میں خوراک کی قلت کے خدشے کے پیش نظرہنگامی بنیادوں پر گندم کی ترسیل کیلئے لواری ٹنل کو کھول دیا جائے تاکہ گندم کے سو ٹرکوں پر مشتمل کھیپ کو چترال پہنچاکر غذائی قلت کو دور کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ گندم کی ترسیل فوری طور پر نہ ہونے کی صورت میں بالائی چترال کے دور دراز علاقوں میں شدید قحط پڑنے کا خدشہ ہے اس لئے وقت ضائع کئے بغیر گندم کا اسٹاک بالائی چترال پہنچانا نہایت ضروری ہے تاکہکسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔DSC00715اْنہوں نے کہا کہ نومبر کے مہینے میں برفباری سے لواری ٹاپ روڈ کی بندش کی وجہ سے فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے ٹھیکہ دار مطلوبہ مقدار کو چترال نہ پہنچاسکا جبکہ ٹینڈر بھی مئی جون کی بجائے اکتوبر کے مہینے میں ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ لواری ٹنل کو ہفتے میں دو دن کھولنے کی بجائے روزانہ صبح اور شام کے وقت شفٹ کی تبدیلی کے موقع پر دو، دو گھنٹے آمدورفت کیلئے کھولا جائے تاکہ مسافروں ،ٹنل میں تعینات عملہ اور تعمیراتی کمپنی تینوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے لواری کے چھوٹے ٹنل کو کھولنے کا مطالبہ بھی کیا۔ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداران نے مطالبہ کیا کہ لواری ٹاپ پر سفر فوری طور پر بند کیا جائے کیونکہ اس وقت اس پر سے سفر کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے اورخدا نخواستہ حادثے کی صورت میں تمام تر ذمہ داری این ایچ اے اور دیگر متعلقہ اداروں پر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ لواری کا مسئلہ چترال کی لائف لائن سے تعلق رکھتا ہے ، شیڈول کے دن چترالی ضروریات کیلئے انتہائی ناکافی ہیں اس لئے روزانہ صبح شام دو دو گھنٹے شفٹنگ کے ٹائم پر ٹنل کھولنے سے چترال کے لوگوں کا مسئلہ بھی حل ہوگا اور متعلقہ تعمیراتی کمپنی کو بھی ہر وقت مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں