اوشکھنداس آغا خان ایجوکیشن سروس کے خلاف سینکڑوں والدین نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا

گلگت/اوشکھنداس آغا خان ایجوکیشن سروس کے خلاف سینکڑوں والدین نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔نرسری سے لیکر پرائمری اسکول تک تین ہزار روپے فیس وصول کیا جارہا ہے تمام ٹیچر میٹرک اور انٹر پاس ہے سکول کو ہائیر سکنیڈری کا نام دے کر والدین کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے ہائیر اسکنیڈری کے لیے تاحال کوئی ٹیچر تعنیات نہیں کیاگیا ہے۔ان خیالات کا اظہار جمال حسین، محمد سلیم، شیر عالم اور دیگر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ
اوشکھنداس آغا خان ایجوکیشن سروس کا نظام درہم برہم ہے ۔پرنسپل کی غفلت و لاپرواہی کی وجہ سے نظام تعلیم مفلوج ہوکر رہ گئی ہے ۔پرنسپل کی بے حسی کے باعث فرسٹ ایئر کے اکثر طلبہ و طالبات امتحانات سے محروم ہوگئے ہیں پیسے بچانے کے لیے کم تعلیم یافتہ اساتذہ تعنیات کیا گیا ہے جس کی وجہ سے اسٹوڈنٹس کو صحیح پڑھائی میسر نہیں ہو پاتی ۔اور فیسوں کی بات کی جائے تو گلگت بلتستان کے تمام پرائیویٹ اسکولوں سے زیادہ اور تعلیمی معیار بالکل صفر ہے ۔جو کہ غریب والدین کے اوپر ظلم ہے ۔والدین کا مزید کہنا ہے کہ اگر فیس مہینے کی 10 تاریخ سے پہلے ادا نہیں کی گئی تو ہمارے بچوں کو سکول سے نکال دیتے ہیں اس بارے میں اسکول اور ویلج ایجوکیشن کمیٹی سے کئی بار رابطہ کیا گیا لیکن کوئی عملی اقدام نہیں ہوا۔ بالا بالآخر والدین نے مجبور ہو کر عدالت سے رجوع کرنے کا فصلہ کیا ہے۔اور ادارے کے ذمہ دار افراد سے گذارش کیا ہے کہ ایسے غیر ذمہ دار لوگوں کو ادارے سے ہٹایا جائے تاکہ یہ مقدس ادارہ بدنام ہونے سے بچ سکے ۔
والدین نےوزیراعلیٰ گلگت بلتستان، چیف سیکرٹری ، سیکرٹری ایجوکیشن اور ادارے کے ذمہ دار افراد سے جلد نوٹس لینے کی اپیل کیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email