84

چترال بازار تجاوزات کے حوالے سے مذاکرات کامیاب ہو گئے

چترال(نامہ نگار)چترال میں موجودہ دنوں کے سب سے اہم مسئلے کا بالآخر پر امن حل نکل آیا ۔ تفصیلات کے مطابق چترال بازار میں تجاوزات کے خلاف مہم کے سلسلے میں ضلعی انتظامیہ اور تجار یونین کے درمیان کشیدگی کا پرامن حل نکل آیا ہے۔ منگل کے روز ضلعی انتظامیہ کی طرف سے سخت موقف کے بعد تجار یونین نے بھی چترال میں مختلف شخصیات سے ملاقاتیں کیں جنمیں کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس بھی شامل ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے بدھ کے روز دکانات کے نشا ن کردہ حصوں کو منہدم کرنے کے لئے ایکسکویٹر لائے گئے مگر اس موقع پر تجار برادری نے بھی دھرنا دیا اور ہڑتال کی جبکہ بعض دکانداروں نے علامتی کفن پہن رکھے تھے تاہم اس سلسلے میں کئے جانے والی کوششیں بدھ کے روز بالآخر کامیاب ہوگئیں اور ضلعی انتظامیہ و تجار برادری کے درمیان برا ہ راست مذاکرات کے بعد ایک معاہدہ طے پایا جسکی روسے چترال کے بازار میں دکانوں کے اندر نشان کرہ چار چار فٹ کے حصوں کو دکانداروں کی ملکیت تسلیم کی گئی جبکہ اس ضمن میں بازار کے دونوں سائیڈوں پر موجود نالیوں کو حد بندی تسلیم کردی گئی تاہم دکانداروں نے اپنے دکانوں کے برآمدوں پر موجود مختلف تعمیرات ، دروازوں وغیرہ کو ہٹاکر اسے فٹ پاتھ بنانے پر اتفاق کیا اور یہ کام فوری شروع کر دیا جائیگا۔ معاہدے کیمطابق مستقبل میں اگر مذکورہ برآمدوں کو سڑک میں شامل کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی تو اسکے لئے دکانداروں کو معاوضہ دیا جائیگا۔ معاہدہ کا اطلاق شاہی بازار، نیو بازار، اتالیق بازار اور کڑپ رشت بازار پر ہوگی۔
تجار یونین اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان معاملات خوش اسلوبی سے طے ہونا دونوں فریقوں کی طرف سے نہایت مثبت پیش رفت ہے جس بعد بعض ایسے قوتوں کو یقینی طور پر مایوسی ہوگئی جو کہ اس معاملے کو اپنے مخصوص مفاد کے لئے استعمال کرنے کی کوششوں میں مصروف رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں