فرسٹ ڈیفنس لائن کے قیام کے اکہتر سال اور مظفرآبادمیں مارخورکا مجسمہ۔۔۔ آغا سفیرحسین کاظمی

قارئن!گذشتہ روز پاکستان کے معروف حساس ادارے آئی ایس آئی کے قیام کو 71سال ہوگئے ہیں۔یہ ادارہ جسے پاکستان کی ”فرسٹ ڈیفنس لائن“کا کردار حاصل ہے 14 جولائی1948 کو قائم کیا گیا تھا۔لہذا اپنے قیام سے اب تک پاکستان کی ”فرسٹ ڈیفنس لائن“ نے اپنے کردار سے ثابت کیا ہے کہ وہ ملکی نظریاتی سرحدوں کامحافظ ہے۔اور چاہے سپر پاور ہی کیوں نہ ہو جو اس طرف میلی آنکھ سے دیکھے۔اُسکو معاف نہیں کیا جائیگا۔ ”فرسٹ ڈیفنس لائن“کے یوم تاسیس پر اِسکے شہیدوں کو خراج عقیدت،غازیوں کو خراج تحسین اور اِنکے عظیم مقصد کی جہد مسلسل میں سرخروئی کے مذید ابواب میں اضافے کی دعا ہر مُحب وطن کے دل سے ہی نکلے گی۔ہماری مسلح افواج کا ہر ہر پیشہ وارانہ عمل ”قرآن اور صاحب قرآن“کی آیات و احادیث مبارکہ سے فکری و نظریاتی عسکری ”قوت“پاتا ہے۔اورایسا کون ہوگا جو ”ایمان تقوی جہاد فی سبیل اللہ“کے نصب العین سے بیزار ہو۔یقینی طور پر ایسا کوئی بھی نہیں ہے۔اورپھرمسلح افواج پاکستان کی خدمات اور قربانیوں سے کوئی بھی پاکستانی یا کشمیری کیسے انکار کرسکتا ہے۔کہ جب اُسکا حصہ دفاع وطن میں شامل ہو۔البتہ جن کا اپنا یا اُنکے بزرگوں کا دفاع،امن و ترقی و استحکام پاکستان میں کوئی حصہ نہیں وہ بھی ایساجواز نہیں رکھ سکتے کہ اداروں پر انگشت نمائی کرنے لگیں۔اور اگر کہیں کچھ لوگ اپنی حیثیت،طاقت و اختیارات کا من چاہا استعمال کرکے ایسا ماحول بناتے ہوں۔جس سے وطن اور دفاع وطن کے خیر خواہوں میں کمی،بدخواہوں میں اضافہ ہوسکتا ہوتوایسے لوگ بے نقاب کرنے میں ذرا بھی تامل نہیں کیا جاسکتا۔کیونکہ سوال ملک و قوم،دفاع اور اداروں کی ساکھ اور وقار کا ہوتا ہے۔ حقیقت پسند چاہے اپنے ہوں یا دشمن قوتوں میں سے ہوں،سب اس حقیقت سے بخوبی آشنا ہیں کہ کسی بھی فوجی قوت میں انٹلی جنس کی کیا اہمیت ہوتی ہے؟اگر انٹلی جنس موثر نہ ہوتو چاہے کتنا بھی جدید اسلحہ سازو سامان موجود ہو۔اہداف کا حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ پاکستان نے انٹلی جنس کے بل بوتے پر ظاہرہ و پوشیدہ طور پر دشمن کی مسلط کردہ جنگوں کے اہداف ناممکن بنانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔چنانچہ انٹلی جنس یعنی ”فرسٹ ڈیفنس لائن“کی ہر کامیابی پبلک بھی نہیں ہوتی۔لیکن عسکری تاریخ کا حصہ ضرور بنجاتی ہے جو مناسب وقتوں میں سب کے علم میں بھی لائی جاتی ہے۔اس لئے مختصراََکہا جائے تو دُنیا کی ہر جنگ اُسکی”فرسٹ ڈیفنس لائن“ کے کردار سے مشروط ہے۔کردار جتنابھرپور ہوگا،اہداف کا حصول اتنا ہی آسان۔۔۔یہ تو انسانی جنگی تاریخ کی حقیقت ہے۔جبکہ آج ہم جس دور میں ہیں یہاں ”فرسٹ ڈیفنس لائن“ کی اہمیت و افادیت مذید بڑھ جاتی ہے۔کیونکہ اب اسکے محاذبھی وسعت اختیار کرچکے ہیں۔نئے محاذ کو سوشل میڈیا کہتے ہیں۔اور اس محاذ پر بھی ”فرسٹ ڈیفنس لائن“ کا کام بہت اہم ہے۔قارئن کو یاد ہوگا چند ماہ پہلے جبکہ پلامہ ڈرامہ ہوچکا تھا۔ہماری فرسٹ ڈیفنس لائن نے دشمن کی ایک ٹاپ موسٹ پرسنالٹیز کی میٹنگ کا سرغ بھی لگالیا تھا۔اور عین وقت پر مذکورہ مقام کے ارد گردٹارگٹ فکس کرکے زبردست پیغام بھی دیدیا تھا۔ہماری فرسٹ ڈیفنس لائن کے عقل و دانش اور دُنیا کی عسکری و انٹلی جنس کی تاریخ کو حیران کردینے والے ایسے سینکٹروں،ہزاروں واقعات تاریخ کا حصہ ہیں جنہیں ہماری ملکی دفاعی عسکری تاریخ کا قابل رشک باب کہا جاتا ہے۔ پاکستان کی مل فرسٹ ڈیفنس لائن ”انٹر سروسز انٹلی جنس“آئی ایس آئی کالوگو پر ”مارخور“ثبت ہے۔چنانچہ جب بھی آئی ایس آئی کا تذکرہ آئے دشمن و دوست کے ذہن میں ”ماخور“کی وہ تصویر اُبھرنے لگتی ہے جس میں اُسکے میں سانپ دبوچاہوا ہے۔اور لوگو پر صاف دکھائی دیتا ہے۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ کافی ہیبت ناک بھی لگے گا۔بِلاشُبہ پاکستان کا دشمن سانپ کی مانند ہے۔ اُسکے گھناؤنے عزائم”مارخور کے کردار“نے ہی ہمیشہ ناکامی سے دوچار کئے ہیں۔ ”فرسٹ ڈیفنس لائن“کی مثال”مار خور“جیسی ہی ہے۔کہتے ہیں ”مارخور“ بہت ہی خطرناک پہاڑی سلسلوں میں رہتا ہے۔اور اِسکی پسندیدہ خوراک سانپ ہیں۔جب اسے بھوک لگتی ہے تواپنے پسندیدہ شکار پرجھپٹتا ہے۔اگر نظر میں نہ آئے تو یہ سانپ کے بل میں مُنہ ڈال کر سانس کے ذریعے سانپ کو باہر کھینچ لیتا ہے۔اور پھر اپنی خوراک بناتا ہے۔شاید کم لوگ جانتے ہیں کہ”ماخور“ ہمارے قومی جانور کا سٹیٹس رکھتا ہے۔ ریاستی دارالحکومت مظفرآباد میں نیو سیکرٹریٹ چوک جسے ”ختم نبوت چوک“قرار دیا گیا ہے۔وہاں مارخور کا مجسمہ نصب کیا گیا ہے۔مجسمہ نصب ہونا یقینی طور پر دشمن کیلئے ایک اچھا پیغام بھی ہے۔مگر جس مقام پر نصب کیا گیا اُس کے حوالے سے ایک حکومتی نوٹیفکیشن کا ذکر بھی آتا ہے۔جسکے تحت مذکورہ چوک کا نام ”ختم نبوتؐ چوک“رکھا گیا۔اسمبلی میں قادیانیوں کیخلاف اقدام کے بعد چوک کو نام دینے کی کیا حکمت ہوگی یہ تو وہی جانیں جنہوں نے ترنگ میں آکر واہ واہ سمیٹی۔ہر وہ حلقہ جو پاکستان،پاکستانیت اور تحریک آزادی سے لگاؤ رکھتا ہے اور بھارت سمیت ہر جابر قوت کا مخالف ہے وہ ”فرسٹ ڈیفنس لائن“کے مارخور کا مجسمہ ریاست کے ہر چوک چورائے پر دیکھنا چاہتا ہے۔لیکن چھتر دومیل کے اس چوک میں ”مارخور“کا مجسمہ نصب کرنے سے پہلے چوک کانام رکھنے کے محرک لوگوں کو اعتماد میں لے لیا جاتا تو کیا حرج تھا۔آخر کیا وجہ ہے کہ ہر وہ کام جو بظاہر اچھا ہو اُسکی مخالفت کا سامان بھی ساتھ ہی کردیا جاتا ہے۔کہیں ایسا تو نہیں کہ کچھ لوگوں کیخلاف سازش رچائی گئی ہوکہ۔۔۔۔مجسمہ نصب ہونے کے بعدایسا ردعمل آئے،جس سے یہاں بھی علماء کے حوالے سے ایک ماحول بنے پھر علماء میں سے ہی کچھ معززین سے چوک کا نام رکھے جانے پر شرعی حوالے سے موقف لیا جائیگا۔اورکچھ لوگوں کوغیرمحسوس انداز میں احتجاج پر لگاکر اداروں کو رگیدہ جائے۔سوال یہ ہے کون ہوگا۔ جوایسے ماحول کا منتظرہے؟تا کہ جو لوگ منفی طور پر ردعمل دکھائیں گے اُنکا ”مکوٹھپا“ جائے۔ مارخور مجسمہ بارے اب تک کئی قابل ذکردینی شخصیات سے بات ہوئی۔اُنکا یہی کہنا ہے کہ چوک کا نام ختم نبوت ؐ ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔اصل معاملہ قادیانیوں کے کافر ہونے کا ہے۔اُس بارے آزاد کشمیر اسمبلی نے موجودہ دور میں ایک تاریخی اقدام کردیا۔یہ ریاست کا کام ہے کہ وہ اپنے اقدامات سے طاقت کا اظہار کرے۔ قادیانیوں کو ریاست نے کافر قرار دیا۔جس پر تمام مسلم مکاتب فکر کا اتفاق ہے۔۔۔شدت پسندی کی بات کی جائے تو آج بھی کافر کافر کے نعرے ”عقیدے کا درجہ“رکھتے ہیں۔اور اگر سب کے عقیدے کا جائزہ لیا جائے توایک دوسرے کے نزدیک زیادہ تر کافر ہی ملیں گے۔۔۔۔بہرحال مارخورکے مجسمہ کے حوالے سے احتجاج بھی ہوچکا۔لیکن چوک کے نام کے محرک ہمارے محترم دینی رہنماء جن سے میرا بہت ہی احترام کا رشتہ ہے۔ جب تک وہ ”مجسمہ“نصب ہونے سے پیدا ہونیوالے اس معاملہ کے ہر پہلو کا جائزہ نہیں لیں گے۔بہت سے لوگ خاص اُمید“لگائے رہیں گے۔جبکہ جلتی پر تیل کاکام کرنے والی غیر ذمہ دارانہ بیان بازی ہوتی رہیگی۔ جیسے بیرون ملک سے ایک صاحب نے بیان دیا(ّجوکہ یہاں ہی چھپا) کہ مجسمہ نصب کرنا قادیانیوں کی سازش ہے۔موصوف نے یہ وضاحت نہیں کی کہ کیسے سازش ہے؟۔ساتھ ہی کہا کہ یہ اداروں کیخلاف سازش ہے۔چلیں جب آپکو پتہ چل گیا سازش ہے تو پھر آپ بیان بازی کے بجائے کسی دوسرے ذریعے سے بات کرتے۔ساتھ ہی مطالبہ کرتے ہیں کہ قرآن پاک کا ماڈل نصب کیا جائے۔۔۔ایک دوسرے صاحب نے مجسمہ پر اُٹھنے والے اخراجات کی بات کی ہے۔اور تاثر دیا ہے جیسے کسی حکومتی شخصیت نے اقرباپروری کرتے ہوئے 20لاکھ روپے مجسمہ کی تنصیب پر خرچ کئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ایک صاحب نے قرار دیا ہے ”جب ذمہ دار حکومتی سیاسی شخصیات دُور اندیشی کی صفت سے محروم ہوں،سارا نظام حکومت تشہیری ذرائع میں پروپگنڈؤں سے چلایا جاتا ہے۔ تو حکومت کے بڑے بغیر سوچے سمجھے ایسے اعلانات و اقدامات کرجاتے ہیں جن سے لوگ تعریفیں کریں۔حالانکہ ایسی تعریفیں محض وقتی ہوتی ہیں۔ان صاحب نے یہ بھی کہا ہے کہ قادیانیوں کے معاملہ پر تمام مکاتب فکر کا یکساں عقیدہ ہے کہ وہ کافر ہیں۔پاکستان میں بھی،آزادکشمیرمیں بھی،اسکے باوجود قانون ساز اسمبلی میں قادیانیوں کیخلاف اقدام ہوا اچھی بات ہے،لیکن ترنگ میں آکر کی گئی باتیں،اعلانات،وعدہ اکثر گلے بھی پڑ جایاکرتے ہیں۔شاید یہاں بھی یہی ہوا ہے۔اب ماخور کو مجسمہ نصب ہوچکا۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ”فرسٹ ڈیفنس لائن“کو موضوع بنادیا گیا ہے۔دیکھتے ہیں یہ معاملہ کس طرح نمٹتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Print Friendly, PDF & Email