109

حکمران کس کے ساتھ ؟۔۔۔۔۔۔ایم سرورصدیقی

OOOلاہورکی ایک پسماندہ آبادی کے بے ترتیب محلے کی دکان پر ایک شخص کھڑا تھا اس کے چہرے پر آڑھی ترچھی اتنی لکیریں تھیں جیسے دنیا بھر کے تفکرات اور غم اسی کا نصیب ہوں اس نے رس،دودھ کا بے بی ڈبہ، کلو آٹا ،آدھ پاؤ دال چنا اورچائے کی پتی کا پیکٹ خریدا دکاندار سے پوچھا کتنے پیسے ہوئے؟ ۔۔۔دکاندار نے اشیاءِ خوردو نوش کی قیمت بتائی تو اس شخص کے چہرے پرآڑھی ترچھی لکیریں اور نمایاں ہوگئیں۔۔۔اس نے مری سی آواز میں پوچھا کیا ریٹ لگائے ہیں دکاندارنے ناگواری سے اس کی طرف دیکھا جیسے گھور رہاہو ۔۔۔20کی چائے کی پتی،45کا آٹا10کے رس۔۔۔
بھائی۔۔ اس شخص نے پھنسی پھنسی آوازمیں کہا چنددن پہلے تو چائے کی پتی15کی تھی۔۔۔اب کیا افتاد آن پڑی ہے
یہاں۔۔۔۔دکاندار نے لڑنے کے سے انداز میں کہاچیزوں کی قیمتیں روزانہ کی بنیادپر بڑھتی ہیں آج جو چیز جس نرخ پر دستیاب ہے کل اس قیمت پر نہیں ملے گی بھولے بادشاہ یہ پاکستان ہے پاکستان۔۔اس نے Tea whitener کے ڈبے کو پکڑا مشکوک سے لہجے میں پوچھا یہ دودھ ہی ہے نا۔۔۔ دکاندار اس کی بات سن کر کاٹ کھانے کودوڑا ۔۔۔اور بولا تمہیں15روپے میں بھینس دے دوں کیا؟۔۔۔اس سخص نے اپنی مٹھی میں دبے نوٹ گنے پھرجیب سے کچھ ریزگاری نکال کر دکاندارکو دی اوربڑبڑاتاہوا اپنے گھرکی جانب چلا گیا۔۔یہ زمینی حقائق پاکستان کی پسماندہ آبادیوں میں رہنے والے ہرفردکی کہانی ہے جن کے مسائل بڑے اور وسائل نہ ہونے کے برابرہیں یہ وہ لوگ ہیں عید، شبِ برات،بیماری یاعزیزو اقارب میں شادی آجائے تو ان کے مسائل میں دو چند اضافہ ہوجاتاہے یہی لوگ اصل پاکستانی اور پاکستان کی حقیقت ہیں یہ وہ بدنصیب ہیں جن کیلئے کسی حکمران نے کچھ نہیں کیا بھوک سے بلکتے،سسکتے اور محرومیوں کے مارے لوگ ملٹی نیشنل کمپنیوں،سرمایہ داروں اور بڑے بڑے اداروں کا خاص ہدف ہیں یہ پاکستانی غربت کے ہاتھوں مجبورورکر سستی سے سستی اشیائے ضرورت خریدنے پر مجبورہیں اسی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بالخصوص ملٹی نیشنل کمپنیوں نے اندھیر مچارکھاہے اوراپنی پراڈکٹ کے چھوٹے سے چھوٹے پیک متعارف کروادئیے ہیں کہ دکانداری چلتی رہے۔۔دودھ ہی کو لے لیجئے یہ ہرشخص اورہر گھرکی بنیادی ضرورت ہے دودھ کے نام جو زہر ہم پی رہے ہیں اس کے نقصان کا کسی کو اندازہ ہی نہیں ہے دودھ کی اتنی اقسام ہیں کہ شمار ممکن نہیں اس وقت ملک بھر میں کیمیکل سے بنا دودھ سب سے زیادہ فروخت ہورہاہے خوشنما ڈبوں میں بند موت دھڑلے سے بیچی جارہی ہے کوئی پوچھنے والا نہیں سنجیدہ حلقوں میں ایک کہرام مچاہواہے گوالے کریم نکال کر الگ فروخت کردیتے ہیں اورپھرخشک دودھ گرینڈ کرکے مکس کرکے گھروں میں سپلائی کردیتے ہیں اس کہتے ہیں چوپڑیاں نالے دو دو۔۔۔پاکستان میں عوام کو Milk اورTea whitenerکے نام پر اتنا بڑا دھوکہ دیا جارہاہے ہماری حکومتیں اس معاملہ میں بالکل گونگی بنی ہوئی ہیں نہ جانے اشرافیہ کے کون سے مفادات وابستہ ہیں کہ کوئی کچھ نہیں بولتا بازار میں طرح طرح کے برانڈ ملتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ دن بہ دن ان کی تعداد میں اضافہ ہوتاجارہاہےTea whitener کو دودھ کہہ کربیچاجارہاہے حالانکہ یہ دودھ ہے ہی نہیں ڈبے پر بھی دودھ نہیں لکھا جاتا فقط Tea whitener تحریرہے حسین اداکاروں کے جھرمٹ میں ٹی وی کے خوشنما اشتہاروں میں ایسے ظاہر کیا جاتاہے جیسے یہ کوئی امرت ہے حالانکہ سارے کے سارے Tea whitener نرے کیمیکل ہیں اس کے علاوہdary pure اور اس سے ملتے جلتے کئی برانڈ جس میں دعویٰ کیا جاتاہے کہ یہ قدرت سا شفاف ہے کھلی آنکھوں میں مٹی ڈالنے والی بات ہے جب یہ دودھ ہے ہی نہیں تو اسے کیونکر فروخت کرنے کی اجازت دی گئی ہے کئی سال پہلے عدالتِ عالیہ نے ازخود نوٹس لے کر ان نام نہاد دودھ کے برانڈکا جرمنی سے’’ طبی معائنہ‘‘ (فرانزک رپورٹ) منگوائی تھی اس میں دل کو ہلا دینے والے ہوشربا انکشافات کئے گئے تھے ان کمپنیوں نے عدالت سے درخواست کی کہ اس رپورٹ کو منظرِ عام نہ لایا جائے لہذا ان کی درخواست مان لی گئی حالانکہ عوامی مفاد میں اسے سامنے لانا ضروری تھا عدالتِ عالیہ سے التماس ہے کہ یہ رپورٹ منظرِ عام پر لاکر دودھ کے نام بکنے والی اس ‘‘ چیز’’ کے بارے میں فیصلہ دیا جائے۔۔۔ چندسال بیشترپنجاب فوڈ اتھارٹی نے بڑی بڑی معروف کمپنیوں کے جام ، جیلی،مارملیڈ،ٹماٹو کیچپ اور مایونیز کو مضرِ صحت اور دو نمبرقراردے کر پنجاب میں بیچنا ممنوع قراردیدیا تھا پھر نہ جانے کیا ہوا ان اداروں کی پراڈکٹ بکنے لگ گئیں حقیقتِ حال یہ ہے کہ پاکستان میں ملنے والی اکثر جام ، جیلی،مارملیڈ،ٹماٹو کیچپ اور مایونیز پانی اور کیمیکلز کا ملغوبہ ہے ان میں فروٹ نام کی کوئی چیز شامل نہیں ہوتی کنٹینر پہ کنٹینرمال تیارکرنے والی ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کی فیکٹریوں میں کبھی کسی نے ایک ٹرک بھی فروٹ کا جاتے نہیں دیکھا سوچنے کی بات یہ ہے کہ پھر یہ جام ، جیلی،مارملیڈ،ٹماٹو کیچپ اور مایونیز کیسے تیارہوتی ہے۔۔۔۔ عوام میں سے کوئی نہیں جانتا ۔۔۔یہی حال ہرکھانے والی اشیاء کا ہے نہ جانے حکومتی ادارے کہا ں سوئے ہوئے ہیں جس ملک میں ایک عرصہ سے لوگوں کو حرام گوشت کھلایا جارہاہو۔۔۔ادرک تیزاب میں ڈال کر تیار کیا جاتاہو۔۔۔دکانوں پر حلیم میں گوشت کی جگہ روئی ڈال کر فروخت ہورہا ہو،مرچ، ہلدی اور دیگر مصالحہ جات میں اینٹوں کا برادہ اورلکڑی کے برادے کی ملاوٹ ہورہی ہو وہاں بہتری کی امید عبث ہے فکر کی بات یہ ہے کہ جس ملک میں دودھ دونمبر،گوشت دونمبر، دوائیاں دونمبر،صابن ،شیمپودونمبر،گھی ،آٹا دالیں دونمبر،مشروبات دونمبر ملتے ہوں وہاں کوئی کیا کرے۔۔۔اب تو سنا ہے تربوز اور خربوزے کو بھی سکرین کے انجکشن لگاکر’’ شرطیہ مٹھے‘‘ بناکر بیچا جاتاہے۔۔۔۔ حالانکہ ہمارے مذہب اسلام نے ملاوٹ کرنے سے سخت منع فرمایاہے نبیئ معظم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔۔۔دولت کی ہوس نے ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیوں کو چھین لیاہے ان تمام ترخرابیوں کی اصل ذمہ دار حکومت ہے جس نے عوام کو دونمبر لوگوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیاہے اور عوام اسی وجہ سے سانس ،پیٹ اور معدے کی عجیب عجیب بیماریوں کا شکارہورہے ہیں۔ جن ملکوں کو ہم کافر کہتے نہیں تھکتے وہاں فوڈ ایٹمزکیلئے سخت قوانین موجودہیں اور ان پرعمل درآمد ہوتا نظر بھی آتاہے۔۔یہ بات طے ہے کہ ظالم لوگ اشرافیہ کی سرپرستی کے بغیر اتنی دونمبری نہیں کرسکتے اب وقت آگیاہے کہ حکمران اس بات کااعلان کریں کہ وہ کس کے ساتھ ہیں عوام کے ساتھ یادونمبر لوگوں کے ساتھ۔۔۔اگروہ عوام کے ساتھ ہیں تو ملاوٹ کرنے والے ہرشخص کا بے رحم احتساب کیا جائے ملک بھر میں ہر قسم کے Tea whitener یا اس سے ملتے جلتےMilk کی تیاری اور فروخت پر پابندی عائدکردی جائے۔۔ کھانے پینے کی تمام اشیاء بالخصوص دودھ،گوشت، ادوایات ،گھی ،آٹا دالوں کی خالص فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے سخت فیصلے بھی کرنا پڑیں تو گریزنہ کیا جائے حکومت صرف یہ کام کرلے تو یقین سے کہا جا سکتاہے ہسپتالوں میں مریضوں کی تعدادمیں نمایاں کمی واقع ہو جائے گی۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں