69

دادبیداد۔۔۔۔تبدیلی ممکن ہے۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

قبا ئلی علا قوں کے عوام کے لئے 20جو لائی 2019ء کا دن تاریخی دن تھا اس روز تاریخ میں پہلی بار صو بائی اسمبلی کی 16نشستوں کے لئے با لغ رائے دہی کی بنیاد پر انتخا بات ہوئے جن میں خوا تین نے نہ صرف ووٹ کا حق استعمال کیا بلکہ دو خوا تین نے جنرل نشستوں پر اُمید وار کی حیثیت سے انتخابی مہم بھی چلا ئی غیر حتمی نتا ئج کے مطا بق 16میں سے 6نشستوں پر آزاد اُمید واروں کا پلہ بھاری رہا 5نشستوں پر بر سر اقتدار جما عت تحریک انصاف سب سے آگے آئی تین نشستوں پر جمعیتہ العلماء اسلام کا پلہ بھاری رہا جبکہ ایک ایک نشست عوا می نیشنل پار ٹی اور جما عت اسلامی کو ملی گو یا تبدیلی نہیں آئی جو صورت حال پہلے تھی وہی صورت حال بر قراررہی مثلاً آزاد اُمید وار وں کی سب سے زیا دہ تعداد میں کامیا بی قبا ئلی علا قوں کی پرانی روا یت ہے مثا ل کے طور پر حکمران جما عت کو جتوا نا بھی قبا ئل کے بز رگوں کا وطیرہ رہا ہے مذہبی جما عتوں اور قوم پر ست پارٹیوں کی حما یت بھی قبا ئل کی دیرینہ روا یت ہے چند سال پہلے نئے سال کی آمد پر اسرار اتل کی ایک پشتو نظم مشہور ہوئی تھی نظم میں شاعر نے اسی حقیقت کا اظہار کیا تھا کہ نئے سال کی آمد پر تم کس لئے خوش ہو، نیا سال آنے پر تو کچھ بھی نہیں بد لا، میری بوڑھی ماں اُسی طرح کھا نستی ہے اُس کا کھانسی کا کوئی علاج نئے سال بھی نہ ہو سکا میری بہن اپنے سر پر چارے کا بوجھ اٹھا ئے اب بھی گھر آتی ہے اُس کا بو جھ سر سے نہیں اترا، میں کیسے کہہ دو ں کہ نیا سال مبارک ہو؟ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبا ئلی علا قوں میں صو بائی اسمبلی کے پہلے انتخا بات پر یہی بات صادق آتی ہے تاریخ کے پہلے انتخا بات میں تبدیلی نہیں آئی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تبدیلی ممکن نہیں ہے تبدیلی ممکن ہے اور با لکل ممکن ہے صرف عوام کی قسمت میں تبدیلی کا پھل نہیں لکھا، عوام کو ہمیشہ یہ شکا یت رہی ہے کہ ہمارے ہاتھوں کے تراشے ہوئے بُت صنم خا نوں میں جا کر خدا بن جاتے ہیں پھر ہماری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے وہ آنکھ اٹھا کر کیوں دیکھینگے اُن کا حا ل امیر خسرو نے اپنے محبوب سے خطا ب کر کے ایک شعر میں یوں بیاں کیا ہے ؎
ہر دو عا لم قیمت خود گفتہ ای
نر خ با لا کن کہ ارزنی ہنوز
اے محبوب! تم نے اپنی قیمت دو نوں جہانوں کے برا بر بتائی ہے میرا مشورہ ہے کہ نرخ مزید بڑھا ؤ اب بھی تیرے دام پورے نہیں ہیں حکومت بھی مشکلات سے دو چار ہے ایک طرف سینٹ کے چیئر مین کو عدم اعتماد کی تحریک سے بچا نے کے لئے گھو ڑوں کی منڈی لگی ہوئی ہے بات کروڑوں سے آگے جا چکی ہے اب اربوں کے حساب سے مو ل تول ہورہی ہے دوسری طرف خیبر پختونخوا کی اسمبلی میں مزید اکثریت اور سابقہ فا ٹا کی حما یت دکھا نے کے لئے نیا لین دین شروع ہونے کی پیشگو ئی کی جا رہی ہے کوئی تیر آزما ئے گا کوئی جگر آزمائے گا میدان سجے گا یہ بھی پرانا دستور ہے شا ید کچھ بھی نہیں بد لا مگر ہمیں ما یوس نہیں ہو نا چا ہئیے تبدیلی آئے گی اور ڈنکے کی چوٹ آئے گی اس بات میں کسی کو شک نہیں ہونا چا ہئیے یو رپ میں تبدیلی کے حو الے سے دوسری جنگ عظیم کا ایک وا قعہ مشہور ہے کہتے ہیں فو جیوں کے دستے جنگلوں میں کئی مہینوں تک ڈیو ٹی دیتے رہے بھاری بو ٹوں کے اندر ان کی او نی جرابیں میلی ہو گئیں، تعفن اور بد بو پھیلنے لگی، سارے فو جی اپنی جرا بوں سے تنگ آگئے جب بھی فو جیوں کو رول کال کے لئے جمع کیا جا تا وہ ایک ہی مطا لبہ کرتے کہ جرا بیں بدل دی جائیں کمانڈ نگ افیسر کہتا گھبر اؤ مت کچھ دن صبر کرو بہت جلد تمہیں جرا بیں تبدیل ہو نے کی خو شخبری سنا ئی جائیگی آخر خدا خدا کرکے وہ دن آیا کمانڈ نگ افیسر نے کہا آج میں تمہیں خو ش خبری سنا تا ہوں تم بیر کوں میں واپس جا و گے تو جر ابوں کی تبد یلی کا حکم تمہیں مل جائے گا فو جی بہت خو ش ہوئے، سب نے ایک دسرے کو مبا رکباد دی، خو شی خوشی بیر کوں میں جا کر حکم کا انتظار کرنے لگے حکم آیا تو سب ششدر رہ گئے حکم یہ تھا کہ”ہر فو جی اپنی جر ابیں دوسرے فو جی کے جرا بوں سے بد ل دے“کمانڈ نگ افیسر ہر روز ان کو تسلی دے کر یہی کہتا تھا کہ ”تبدیلی ممکن ہے“ ستمبر 2004 میں ہمارا گروپ جر منی کے دورے پر تھا امریکی انتخا بات میں ڈیڑھ مہینہ باقی تھا با راک اوبامہ کی یہ پہلی انتخا بی مہم تھی ان کا نعرہ تھا ”تبدیلی؟ ہاں ہم لا سکتے ہیں“ اس نعرے کو انگریزی کے ساتھ ساتھ جرمن زبان میں بھی قمیصو ں پر چھپوا یا گیا تھا، ٹو ییو ں پر لگوا یا گیا تھا باراک اوبامہ صدر منتخب ہوا 3سال بعد اخبار نویس نے او بامہ سے پو چھا تم نے جس تبدیلی کا وعدہ کیاتھا وہ کدھر ہے؟ او بامہ نے بر جستہ جواب دیا ایک سیاہ فام تمہار ا صدر بن گیا ہے کیا یہ تبد یلی نہیں؟ اگر قبائلی علا قوں کے حا لیہ انتخا بات میں تبدیلی نظر نہیں آئی تو تشویش کی کوئی بات نہیں تبدیلی ممکن ہے چاہے جرابوں کی تبدیلی کی طرح ہو یا سیا ہ فام صدر کی صورت میں ہو تبدیلی آئے گی اور ضرور آئے گی

Print Friendly, PDF & Email