64

مخلص دوست عظیم نعمت…… تحریر: رانا اعجاز حسین چوہان

یوں تو کسی بھی زمانے میں دوستوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں رہا، لیکن موجودہ دور میں جب افراتفری، انتشار، خلفشار، باہمی تنازعات کے باعث خونی رشتوں کی قدریں کم ہورہی ہیں، اور دولت تو کہیں شہرت رشتوں کا معیار بنتے جارہے ہیں، ان گھمبیر حالات نے دوستی کے رشتے کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ بلاشبہ نیک و مخلص دوست کسی نعمت سے کم نہیں، کیونکہ نیک سیرت اور مخلص دوست کے مفید مشوروں، مدد اور معاونت سے زندگی میں آسانیاں اور سہولتیں آجاتی ہیں۔ معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے اطمینانی،ناگواری کی کیفیت، مایوسی، گھریلو رنجشیں، مالی تنگد ستی، فکرمعاش، افلاس، احساس محرومی اور معاشرتی ناہمواریاں تیزی سے لو گوں میں ذہنی دباؤ اور افسردگی کا باعث بن رہی ہیں، ان گھمبیر حالات میں اگر کسی مخلص دوست کی رفاقت میسر ہوتو کٹھن سے کٹھن راستہ بھی آسان معلوم ہوتا ہے، دوستی زندگی کے مایوس کن لمحوں میں جینے کی امید دیتی ہے۔ بلاشبہ دوستی بھی انسان کے عزیز ترین رشتوں میں سے ایک رشتہ ہے کیو نکہ ہر دورمیں ہر انسان ایک مخلص اور سچا دوست چاہتا ہے، جو باتیں ہم والدین، بھائی بہن سے شیئر نہیں کر سکتے ان کا حل اپنے مخلص دوست سے پوچھ سکتے ہیں۔ وہ تمام خوبیاں جو ہم مختلف رشتوں میں علیحدہ علیحدہ ڈھونڈتے ہیں وہ تمام مخلص دوست میں مل سکتی ہیں۔ اور وہ شخص دنیا میں غریب تصور کیا جاتا ہے جس کے پاس مخلص دوست نہ ہو۔ لیکن آج ہمارے معاشرے میں مخلص دوست کا ملنا بھی قدرے مشکل ہوچکا ہے جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم خود لوگوں کے ساتھ مخلص نہیں رہے اور صرف غرض کے لوگوں سے تعلق رکھنے کو پسند کرتے ہیں۔ سنہ 2011ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ہر سال 30 جولائی کو دوستی کا عالمی دن منانے کا فیصلہ کیا تھا۔ معاملات زندگی میں دوستوں کی اہمیت،اور دوستی جیسے انمول رشتے کو مزید تقویت دینے کے حوالے سے دوستی کے عالمی دن کو دن بدن اہمیت حاصل ہو رہی ہے اور دوستی کے اس دن کو امن، بھائی چارے اور سکون کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد دوستی کے رشتوں کو مزید مضبوط بنانا اور موجودہ بد امنی اور انتشار کے دور میں دوستی کو دوسرے معاشروں، ممالک اور قوموں کے درمیان پروان چڑھانا ہے تاکہ مختلف اقوام کے درمیان جاری تنازعات کم ہو سکیں۔ یہ دن اس عزم کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ لوگوں، ممالک اور مختلف ثقافتوں کے مابین دوستی سے امن کی کوششوں کو فروغ دیا جائے گا۔
اگر ہم اسلامی تعلیمات کی روشنی میں دوستی جیسے انمول رشتے کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ ربّ العزت نے تمام مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا ہے۔سنن ابوداؤد کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ایک مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہے اور ایک مومن دوسرے مومن کا بھائی ہے، ضرر کو اس سے دفع کرتا ہے،اور اس کی پاسبانی اور نگرانی کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوستی زندگی کا سب سے بڑا، وفادار اور قیمتی رشتہ ہے۔ جس کے سامنے ہیرے، سونا، چاندی غرض ہر مہنگی چیز کی کوئی قیمت نہیں رہتی۔ اگر دوستی کے رشتے میں ہمدردی، محبت، اعتماد کے موتی پروئے جائیں تو کبھی نہیں ٹوٹتی اگر حسد، بغض و کینہ عداوت، نفرت کے موتی پروئے جائیں تو یوں بکھر جاتی ہے جیسے سوکھے پتے بکھر جاتے ہیں۔ ایک دوسری حدیث میں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سارے مسلمان (ایک اللہ، ایک رسول، اور ایک دین کے ماننے کی وجہ سے)ایک شخص (کے اعضاء و بدن) کے مانند ہیں، کہ اگر ایک کی آنکھ درد ہوتی ہے تو سارا بدن بے چین ہو جاتا ہے۔ اور اگر اس کا سر درد کرتا ہے تو اس کا سارا بدن تکلیف محسوس کرتا ہے(صحیح مسلم)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایامسلمان تو وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ ہے۔ آج اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہمیں اپنی سیرت و کردار پر غور کرنا چاہیے اور بغض و عناد، کینہ کو سینے سے نکال کر اپنی شخصیت کو اس قدر بہتر بنانا چاہیے کہ ہم باہم اتفاق، اخوت و بھلائی، بھائی چارے اور امن و سلامتی کے فروغ کے لئے کردا ر ادا کرنے والے بنیں، اگر دوستوں کے درمیان وفاداری، دیانتداری، سچائی اور تابعداری قائم رہے تو اس رشتے کو نبھانا بہت آسان ہوتا ہے۔ جب ہمارے اندر یہ اوصاف پیدا ہوں گے تو ہمارا شمار ان لوگوں میں ہوگا جو بہت زیادہ مخلص دوست رکھتے ہیں۔ اور بلاشبہ امیر ترین شخص وہ نہیں جس کے پاس مال و دولت زیادہ ہو، بلکہ امیر ترین وہ شخص ہے جس کے دوست سب سے زیادہ ہوں، اس لیے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ دوستی کے رشتے کی حفاظت کرے، برے دوستوں کی صحبت سے اجتناب برتتے ہوئے اپنے مخلص دوستوں کے ہر دکھ سکھ میں شریک ہو تاکہ وہ زندگی کے کسی موڑ پر بھی خود کو تنہا محسوس نہ کرے۔

Print Friendly, PDF & Email