113

لمحہ فکریہ۔۔۔ مشتہری ہوشیار باش۔۔۔۔۔ سماجی کارکن عنایت اللہ اسیر

اب اگر لواری ٹاپ سے گزرتے ہو کوئی حادثہ ہوا تو SAMBO اور NHA سے ایک کروڑ روپیہ فی جانی نقصان کے حساب سے حرجانہ لیا جائیگا
اب چونکہ ٹنل کے اندر صرف صفائی ستھرائی اور بہت ہی کم جگہوں پر بلاسٹنگ کا کام ہورہا ہے۔ لہذا چترال کے باشندوں کی مجبوریوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے رات ۸بجے سے ۱۲ بجے تک چترال سے دیر اور رات ۱۲ بجے سے صبح ۸ بجے تک دیر سے چترال کے لیے روزانہ بذریعہ ٹنل ٹریفک کو چھوڑا جائے۔
دن کو صبح ۸ بجے سے رات ۸ بجے تک روزانہ کام جاری رکھا جائے تو چترال کے باشندوں کو جان پر کھیل کر یخ بستہ لواری کے موڑوں ، اترائی اور چڑائی سے گزرنے کی ضرورت نہ ہوگی۔ اگر لواری ٹنل چترال کے باشندوں کی سہولت کے لیے بنایا جارہا ہے تو پھر اس کے ہوتے ہوئے ہمیں اس طرح مشکلات میں ڈالنے کا کیا تُک بنتاہے۔
چترال کا فعال سول انتظامیہ اور پاک آرمی کے جانباز فورس کے ذمہ داران بھی ایک ٹھیکیدار کے سامنے بے بس اور ہمارے قومی، صوبائی اور ضلعی حکومت کے نمائیندے لب بستہ و دست بستہ SAMBO کی غلامی قبول کی ہے۔
چترال کے مرد ، خواتین، بچے ،بوڑھے فوجی جوان سول محکموں کے ملازمین سب یکساں جان کے خطرے پر لواری ٹاپ کے اوپر سے آنے جانے پر مجبور ہیں۔
انسانی جانوں کی کوئی قیمت نہیں ۔ اگر لواری ٹنل سے گاڑیوں کو رات کے گزارنا یا ہفتے میں اتوار، منگل اور جمعرات اور جمعتہ المبارک کو شیڈول بنا کر گزارنا کسی کے بس کی بات نہیں تو پھر افغانستان اور پاکستان کے تعلقات بہتری کی طرف گامزن ہیں۔ تو اسی راستے کوارندوسے خیبر پاس اور نوا پاس تک کھولا جائے۔ ہم نے عین حالت جنگ میں بھی 1980 سے 2005 تک اس راستے کو استعمال کیا ہے۔ کابل کے علاقے میں کوئی بڑا حادثہ یا قابل تذکرہ واقعہ رونما نہیں ہوا۔ افغانستان کے صوبہ کنڑ اور ننگراھار کے باشندوں نے انتہائی مہمان نوازی اور ادب عزت سے چترال کے مسافروں کو گاڑیوں کی سہولت اور ہوٹلوں میں کھانا پینا اور رہائش فراہم کیے۔ اب بھی جلد ازجلد مرکزی حکومت اور صوبائی حکومت ارندوسے براستہ افغانستان پشاور آمد کی راہیں ہموار کر سکتے ہیں۔
لہذا کس بڑے حادثے اور جانوں کے ضیائع کا انتظار کیے بے غیر چترال کے پاکستان سے محبت رکھنے والے پر امن شہریوں کی جان و مال کی حفاظت اور باعزت رفت و آمد کا بندوبست کیا جائے۔
ہمارے قومی ، صوبائی اور ضلعی نمائیندگان پر لازم ہے کہ وہ راست اقدام اٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں۔ ان کا معذرت خواہانہ رویہ ہماری سوچ اور سمجھ سے بالاتر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں