سینٹ الیکشن اور قائدین کے اصولی سیاست کا امتحان…….. تحریر : این ڈی ایس ایڈوکیٹ

صادق سنجرانی کو سینٹ کے چیئرمین شپ سے ہٹانے لئے تمام اپوزیشن اکھٹی ہو گئی بڑے اعتماد کے ساتھ کسی لیڈر نے پہلے ہی مستعفی ہونے کا کہا تو کسی نے بزنجو صاحب کو وقت سے پہلے ہی چیئرمین سینٹ بنا ڈالا ،اپوزیشن کے 64 سینٹرز کو کبھی ظہرانہ تو کبھی عشائیہ کھلا پیلا کے بڑے اعتماد کے ساتھ بھیج دیئے جب رزلٹ اناءونس ہوا تو حیرت کی انتہا نہ رہی اپوزیشن اپنی چال میں بری طرح ناکام ہو چکی تھی اور حیرت کی بات یہ تھی ک ناکامی کے بعد جس جس پارٹیز نے اپنے اراکین کا اجلاس بلایا تو سارے سینٹرز موجود تھے کتنے افسوس کی بات ہے کہ ملک کے سب سے بڑے آئینی ادارے میں ایسے لوگ پہنچتے ہیں جن کا کوئی اخلاقی معیار نہیں ہوتا ، بھاءو وہاں لگتا ہے جہاں چیزیں فروخت ہوتی ہو ورنہ کسی کی کیا مجال کہ کسی کو بھیڑ بکری سمجھ کر سودا کرے اور بھی تو سینٹرز تھے ،انویسٹیگیشن کے صحافی عمر چیمہ کے مطابق ان بکنے والے سینٹر ز کو ایک بڑی پارٹی کے لیڈر کی پشت پناہی بھی حاصل تھی اگر یہ بات صحیح ہے تو اسکا مطلب لیڈر کو اپنی پارٹی کے ڈھیلے کردار والوں کا اور ضمیر فروشوں کا پتہ تھا کیونکہ مالک کو پتہ ہوتا ہے کہ کونسا جانور منڈی میں فروخت کے لئے بھیجنا ہوتا ہے کوئ بھی پارٹی اگر اس رسوائی سے خود کو بچانا چاہتی ہے ان کو چاہئے ہو گا کہ وہ جلدی ان کرپٹ آور اخلاقی پستی کا مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے ورنہ اس پارٹی کا چہرہ خود بخود عوام کے سامنے بےنقاب ہو گا ،یہ ان لیڈرز کے جمہوریت اور اصول کا امتحان بھی ہے اس سے پہلے کے پی کے میں یہ معجزہ پی پی پی نے چار ممبرز پہ دو سینٹر منتخب کروا کہ کیا تھا پر اس وقت خان صاحب نے بہت بولڈ اور قابل تحسین قدم اٹھایا اور انویسٹیگیشن کر کہ پریس کانفرنس میں نام لے لے کہ ان تمام ضمیر فروشوں کو کٹہرے میں کھڑا کر کے بے نقاب کیا اور اپنی پارٹی سے نکال باہر کیا اور ایک مثال قائم کی اب ان پارٹیز کے لیڈر میں اتنی جرت ہے یا نہیں یہ وقت بتائے گا، ہمارے ملک کی سیاست اور نظام اتنا بدبودار ہو چکا ہے اس کو دھونے کے لئے شاید اس ملک کو تیزاب کی ضرورت پڑے اور بدقستمی سے اس معاشرے کی ذہنی پستی وہاں گامزن ہے جہاں اچھے برے ایمانداری اور بے ایمانی میں تمیز ختم ہوتا جا رہا ہے، اور ایک طبقہ ایسا بھی پایا جاتا ہے جس کو کسی بات کا پتہ نہیں ہوتا لیکن کرپٹ لوگوں کی حمایت ان کی ذمہ داری اور فرض میں شامل ہے کہا گیا کہ کسی غلط چیز کو اگر روک نہیں سکتے تو دل میں اس کو برا سمجھو ، یہاں معیار یہ ہے کرپشن کے کیسز پہ وکٹری کا نشان بے شک وہ الزامات ہی کیوں نہ ہوں لیکن شرم اور حیا بھی کوئی چیز ہوتی ہے اس کے لئے میں مانتی ہوں شریف ہونا ضروری ہے پر پھر بھی اتنا شعور ہونا چاہیے کہ ایسے الزامات پر سر جھکا کے چلناچاہیے، یہ ہمارے سیاست کے چمکتے دمکتے فائیو سٹار منڈیلا اور مرسی ہیں ( منڈیلا اور مرسی سے معذرت کے ساتھ) جب لیڈرز ہی ایسے غیر سنجیدہ ہو تو ان کے پیچھے چلنے والے لوگوں کا حال یہی ہو سکتا ہے ،ہاتھ کھڑا کر کے دغا بازی بکنے کے بعد اجلاس میں شریک اور اپنی جسٹیفیکشن بھی دیتے پھر رہے ہونگے،بھئی جن کو خریدنا آتا ہے ان کو ووٹ لینا بھی بہت اچھی طرح آتا ہے ، یہ چودہ سینٹر ان جماعتوں کے اصل چہرے ہیں کیونکہ ان جماعتوں میں ٹکٹ دینے کا معیار بھی یہی ہے یہ کبھی بھی اپنے کسی نوجوان کارکن کو ٹکٹ نہیں دینگے ان کی پارٹیز میں دس پشتون سے ممبر ابن ممبر وزیر ابن وزیر اور موروثی ہونا ضروری ہے ان میں سے ایک لیڈر کے غرور اور وڈیرہ ذہنیت کا اندازہ یہاں سے لگائے کہ ان کو مستقبل میں بھی سیاست میں دو موروثی نوجوان ہی نظر آرہے ہیں۔ ہیں پہلے ان کے ساتھ ان کو الطاف حسین کی بیٹی جنت بھی مستقبل نظر آتی تھی چونکہ یہی غرور الطاف حسین کو لے ڈوبی ہے اس لئے ان کی بیٹی کا چانس نظر نہیں آتا، یہ تو عمران خان کا بھلا ہو کہ انہوں نے نہ صرف کرپشن کے خلاف لوگوں کے ضمیر کو جگایا بلکہ بہت سے عام پڑھے لکھے نوجوانوں کو اسمبلی تک پہنچایا، ماشااللہ ازاد اور بے لگام اتنے ہیں جب ان کی منشا کے مطابق فیصلے نہ ہو تو یہ کسی بھی معزز ادارے پر نہ صرف الزامات لگا سکتے ہیں بلکہ ان کو بہت آرام سے بلیک میل بھی کر سکتے ہیں انکا دل کرے تو یہ دشمن ملک کے ہاں میں بھی ہاں ملا سکتے ہیں بے شک ملک حالات جنگ میں ہو ،خوشی کی بات یہ ہے کہ پاکستان کا نوجوان اب بہت باشعور ہے اور انکو اپنے ملک کو غلط لوگوں سے بچانے کے لئے مزید کھڑا ہونا ہو گا اور ہر فورم پر غلط کی حوصلہ شکنی کرنی ہو گی کیونکہ یہ ہمارا ملک ہی نہیں ہمارا آخری آرام گاہ بھی ہے اس کو سچ میں پاک سر زمیں بننا ہے انشااللہ
آخر میں یہ کہوں گی وہ ضمیر ہی کیا جو بک جائے
ضمیر بھیج کر مسند خریدنے والوں
نگاہ اہل وفا میں بہت حقیر ہو تم
پاس وفا تم سے نہ ہوا نہ ہو گا
کہ تم غرض کے بندے ہو
بڑے بےضمیر ہو تم

Print Friendly, PDF & Email