سوشل میڈیاپر مبینہ جنسی تشددکی وائرل ہونے والی ویڈیو مگر کیوں؟۔۔۔۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

اگرچہ روزمرہ زندگی میں ہمارے اردگردقانون شکنی اور انسانی حقوق کی پامالی کے بہت سارے معاملات اور پیش آنے والے واقعات یقینی طورپر مبنی برحقیقت ہوتے ہیں مگرعلاقائی پس منظر،معاشرتی روایات اور اخلاقی اقدارسمیت کئی دیگر عوامل کے پیش نظرانہیں سرعام بتایا،دکھایااورسنایانہیں جاسکتا،ذکرہو پختون معاشرے کاتوگھر کے مردوزن بوڑھے،بچے اور جوان مل بیٹھ کر ٹی وی پر فلم اور ڈارامہ نہیں دیکھ سکتے، خواتین کی موجودگی میں دواران گفتگواحتیاط کی جاتی ہے کہ منہ سے کوئی نازیبابات نہ نکلے، اپنے گھر کی خواتین توکجاگھر سے باہر بھی خواتین کے سامنے کوئی بھی نازیبابات اور حرکت انتہائی معیوب سمجھاجاتاہے، چلتی گاڑیوں،بازاروں یادیگر مقامات پر آپس میں لڑنے والے اگر گالم گلوچ اور نازیبالہجے کے استعمال پر اترآئے تو کسی ایک خاتون کی موجودگی میں بھی انہیں یہ کہہ کر چپ کرایاجاتاہے کہ خواتین کے سامنے گالی نہیں دیاکرتے،پاکستانی بالخصوص پختون معاشرہ میں شائد سوائے ازدواجی رشتے کے دیگر مردوزن رشتہ دارآپس میں کوئی بھی ایسامعاملہ زیربحث لاسکتے ہوں جن میں شرم وحیاء کاعنصر پایاجاتاہو، یہ واضح دلیل ہے ہمارے مضبوط معاشرتی اقدارکی مگر بعض دفعہ کوئی ایک آدھ معاملے کے سرعام بازگشت ہونے سے معاشری روایات اور اخلاقی اقدار بری طرح متاثر ہوجاتی ہیں،آج میں ایک ایسے واقعہ کاذکر کررہاہوں جس کے خدوخال پر کوئی اعتراض نہیں مگراسے منظرعام پر لاناکسی طور مناسب نہیں تھا،05اگست 2019کو ملاکنڈ ڈویژن کے ایک پولیس تھانے کے حدود میں وہاں کی مقامی رہائشی ایک کم عمر لڑکی سرکاری زنانہ ہائر سیکنڈری سکول میں مبینہ زیرتعلیم(دسویں جماعت کی طالبہ) نے پولیس تھانے جاکر قومی دھارے کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے مقامی رہنماء کیخلاف زنابالجبر کی شکایت کی،طالبہ نے بعض ثبوت جن کا مقدمے کے ایف آئی آر میں ذکر کیاگیاہے پولیس کودیتے ہوئے شکایت کی ہے کہ موبائیل فون پر آشنائی ہونے کے بعد ملزم نے اپنے حجرہ لیجاکر اس کے ساتھ نہ صرف زبردستی زیادتی کی بلکہ اسے شادی کاجھانسہ دیکر ہوس کا نشانہ بنایا،پولیس نے لڑکی کی شکایت پرملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلیاہے اور مقدمے کے ایف آئی آر میں مستغیثہ کاجو بیان درج کیاگیاہے اسے من وعن زیرتحریرلانے سے قاصر ہوں البتہ ایف آئی آر میں جو کچھ بھی لکھاگیاہے مجھ سمیت کسی کوبھی اس سے کوئی اختلاف نہیں ہوسکتا نہ اس پر کوئی سوال اٹھانے کی ضرورت ہے کیونکہ کوئی بھی جرم سرزد ہونے کے بعد قانون حرکت میں آتاہے اور جس طرح کسی مرض کی نشاندہی کے سلسلے میں ڈاکٹر سے کچھ چھپایاجاتاہے نہ ہی ڈاکٹر کوکوئی بات چھپاتاہے ٹھیک اسی طرح قانونی داؤ پیچ کے ذریعے جرم کاتعاقب کرتے ہوئے ملزم کو مجرم یابے قصورثابت کرنے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کوئی بات چھپانی چاہئے نہ ہی پولیس کو کوئی بات چھپانے کااختیار ہوناچاہئے اس روسے مبینہ متاثرہ لڑکی کی شکایت اور اس کی جانب سے ملزم پر لگائے گئے الزامات کس حد تک درست ہیں اور کیاملزم کومجرم قرادیاجاتاہے یااسے باعزت بری کیاجاتاہے یہ فیصلہ تومذکورہ مقدمہ زیرسماعت آنے کے بعدعدالت کرے گی البتہ پولیس کی جانب سے ایف آئی آردرج کرتے وقت متاثرہ لڑکی کابیان میں من وعن بیان کرناقابل تعریف ہے لیکن مقدمہ درج ہونے کے دوروز بعد سوشل میڈیاپر مذکورہ مبینہ متاثرہ لڑکی کی ایک ویڈیو وائرل ہوگئی جس میں مبینہ متاثرہ لڑکی نے وہی کچھ کہاہے جو مقدمے کے ایف آئی آرمیں درج ہے مگرمجھے اعتراض ہے کہ ویڈیومیں مبینہ جنسی تشدد کاشکارہونے والی لڑکی کے دائیں بائیں دو لیڈی پولیس کانسٹیبلز بھی بیٹھی ہوئی ہیں اور ویڈیو کوئی مرد بنارہاہے جس کی آوزا ویڈیومیں صاف سنی جاسکتی ہے اور ہوسکتاہے یہ کوئی مرد ہو،بلاشبہ لیڈی پولیس کانسٹیبلز بھی خواتین ہیں وہ بھی کسی کی بہن، بیٹی،بہواور بیویاں ہونگی،ان کی موجودگی میں ایسی ویڈیوبنانا اور وہ بھی ایک مرد کے ہاتھوں میری نظرمیں قابل اعتراض ہے، ویڈیومیں دیکھا جاسکتاہے کہ پوری ریکارڈنگ کے دوران لیڈی پولیس کانسٹیبلزشرم کے مارے زانوں بیٹھی اور سر جھکاکر نیچے دیکھتے ہوئے بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہیں،مجھے مذکورہ ویڈیوپر اعتراض ہے کہ اس کے وائرل ہونے سے جہاں مبینہ متاثرہ لڑکی کے مستقبل پر سوال کھڑے کئے گئے اگر وہ قانونی جنگ جیت بھی جاتی ہے توعوامی سطح پر اتنی بدنامی کے بعد اس کامستقبل کیاہوگایہ ایک جواب طلب سوال ہے وہیں اگر ملزم کو عدالت الزامات سے بری الذمہ قراردیتی ہے تو اس کی اتنی بے عزتی اور جگ ہنسائی کاحساب کون دیگا،اٹھتے سوال یہ ہیں کہ کیاپولیس مقدمے میں نامزد ملزم کی شخصیت اور سیاسی ساکھ کو عوامی سطح پر متاثرکرنے کے درپے ہے، پولیس نے اگر ثبوت اورشواہد کے لئے ویڈیو بنانی بھی تھی تو اس کوسوشل میڈیاپر وائرل کرنے کی ضرورت کیاتھی،ویڈیو بناتے وقت لیڈی پولیس کانسٹیبلز کو ساتھ میں کیوں بٹھایااور اگر لیڈی کانسٹیبلز کو بٹھانا ہی تھاتوویڈیومرد نے کیوں بنائی جبکہ یہ کام تو موجود لیڈی پولیس کانسٹیبلز بھی کرسکتی تھیں،مردوں تعلیمی اداروں،سرکاری دفاتر میں کام کرنے والی خواتین سمیت بڑی تعداد میں گھریلوخواتین کے پاس بھی سمارٹ فونزہیں اور ویڈیو سوشل میڈیاپر ویڈیو وائرل ہونے سے ویڈیوان کے فونز میں بھی آسکتی ہے جبکہ کم عمر لڑکے بھی اسے اپنے موبائل فونز میں دیکھتے ہیں اور آپس میں شیئر بھی کررہے ہیں اور مجھے اس پر اعتراض ہے،اگر ذمہ دار پولیس حکام ویڈیو وائرل ہونے سے لاعلمی ظاہرکررہے ہیں تو یہ کام کس نے کیا، کیوں اورکیسے ہوااور کس کی ایماء پر ہواکیااسکی انکوائری کی جائے گی،کیاذمہ داروں کاتعین کیاجائے گااور کیاتعین ہونے پرذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے گی،ضروری ہے کہ حکومت اور پولیس کے اعلیٰ حکام ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے اقدامات اٹھائیں جو معاشرتی روایات اور اخلاقی اقدارمتاثر ہونے کاسبب بنتے ہوں۔

Print Friendly, PDF & Email