انسان نما درندون سے ہوشیار رہئے………رحیم علی اشرو

شرافت کے ساتھ پاکستان میں زندگی گزارنا وقت کے ساتھ ساتھ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ہم ہوس کے پجاری بنتے جا رہے ہیں۔ برے کام کرتے ہوئے ایسے لوگ اب بھی اس پاک سر زمیں میں موجود ہیں جو فخر کرتے ہیں۔ غیرت کے نام پر قتل و غارت پرانی حالت میں روان دوان ہے۔  نہ جانے یہ سلسلہ کب تک چلے گا۔ صنفِ نازک عبرت کا نشان ہر زمانے میں ہے۔ہم انسانیت کے معیار سے گرتے جا رہے ہیں۔ آج عید کے دن ایسا نازیبا واقعہ حیات آباد تاتارا پارک میں چترالی لڑکیوں کے ساتھ بھی ہوا جو اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ چترال کی سات بیٹیاں عید کی خوشی میں تاتارا پارک میں ٹہلنے آئے تھے۔ مگر یہاں کچھ لڑکوں نے اُن کو ہراسان کرنے لگے پھر لڑکوں کا ایک ہجوم اکٹھا ہوا۔ پھر ہمارے بہنوں کو تنگ کئے اُن سے ڈوپٹے چھین لئے انہیں ہاتھ لگایا اور ہجوم کے سامنے اُن کی عزت کو خاک میں ملائے۔ خدا کا شکر کچھ یوں ہے کہ وہاں کچھ چترالی لڑکے پیدا ہوئے اور پھر بڑی مشکل جدوجہد کے بعد اُن بہنوں کو اس مصیبت سے باہر نکالے۔ چشمِ دید لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ وہ لوگ ان لڑکیوں کو رسی سے باندھ کر اپنے ساتھ بھی لے جانا چاہتے تھے۔ یہ بے بسی کی انتہا ہے نہ جانے کیسی حالت ہماری بیٹیوں کی اس وقت میں ہوئی ہوگی۔ یہ کسی ایک کے ساتھ نہیں ہوتا ہے۔ آئے روز ایسے درد ناک واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ میں ایمانداری کے ساتھ کہتا ہوں کہ پشاور میں حوا کی بیٹی غیر محفوظ ہے۔ چترالی عوام کو اس کے خلاف سخت قدم اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔ ہمارے سیاسی اشخاص کو اس کے خلاف آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو اس برائی کے خاتمے کے لئے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ ایسے واقعات ہمارے ساتھ ہوتے رہیں گے۔ وگرنہ ہماری عزت خاک میں ملتی رہے گی۔ ورنہ ہم قتل ہوتے رہیں گے۔ اس سلسلے کو روکنے کے لئے ہم سب کو مل کر قانوں کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیم کے حصول کے لئے چترال سے آئے ہوئے ہماری بیٹیاں پشاور میں زیادہ تر ہوسٹلوں میں رہتے ہوئے علمی سفر کو جاری رکھتے ہیں۔ یہ سب غیر محفوظ ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں ہماری بیٹیاں یہاں ملازمت بھی کرتی ہیں۔ زیادہ تر نرسنگ شعبے سے منسلک ہیں۔  مکمل طور پر غیر محفوظ ہیں۔ ان مختلف اداروں کے اندر بھی چترالیوں کے ساتھ اکثر دوہرا سلوک کیا جا رہا ہوتا ہے۔ ہمارے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے جو دشمن کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا ہے۔ جیسے کہ ہم پاکستانی نہیں ہیں؟ جیسے کہ ہم مسلمان نہیں ہیں؟ جیسے کہ ہم انسان نہیں ہیں؟میری اس تحریر سے انصاف کی بو آرہی ہے۔ خوف کا رنگ اس تحریر میں غالب ہے۔ حق تلفی کا شور اس تحریر میں گونج رہا ہے۔ ہمیں انصاف چاہئے ہمیں تحفظ چاہئے ہمیں ہمارا حق چاہئے۔ ہم بھی اس ملک پاکستان کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ ہم بھی اپنے لئے اپنے خاندان کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔

انصاف کی مہک نہیں آتی ہے مجھے گلستان سے

میں پھر بھی نا امید نہیں ہوں ارضِ پاکستان سے

ایک دن وہ دن آئے گا تجھے اذیت نہیں ملے گی

اسلام کو غور سے پڑھے کہہ دے مسلمان سے

وہ معاشرہ بہشت کے رنگ میں دنیا میں ہے

جہاں محبت کا سبق ملے انسان کو انسان سے

وسوسوں کا حملہ ہوا میرے دل کے پہلو میں

نہ زمیں کو پرواہ ہوا نہ کچھ گرا آسمان سے

یہ زندگی یہ جوانی چند دن کی مدہوشی ہے

کچھ تو عبرت لے میرے عمرِ رائیگاں سے

تیرے چمن کی تلاش میں یوں سفر کر رہا ہے

الفت مجنون کو ہر گز نہیں دشت و بیاباں سے

یہ اشرو درد کی اس محفل میں تنہا رہ رہا ہے

یہ سرخرو ہو کے نکلے گا مشکل امتحان سے

Print Friendly, PDF & Email