44

معاشرتی روئیے اور نفسیاتی الجھنیں۔۔۔۔۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

ہم سب نفسیاتی مریض ہیں شائدیہ کہناغلط نہیں ہوگامگر بیوقوف کے سینگ نہیں ہوتے کے مصداق مختلف نفسیاتی الجھنوں کے شکار ہونے کے باوجود ہمیں اپنی بیماری نظرنہیں آتی،نفسیاتی مسئلہ بخار،شوگر،کینسراور دیگر امراض کی طرح بظاہر اپنی شناخت بھی ظاہر نہیں کرتابلکہ بیشتر نفسیاتی مریض بظاہرجسمانی طورپرصحت مند اور تندرست ہی نظرآتے ہیں اورشائد یہی وجہ ہے کہ ہر نفسیاتی مریض کواپناآپ ٹھیک اور دوسرے لوگ بیمار دکھائی دیتے ہیں،نفسیاتی الجھنوں کے جہاں اور ڈھیرساری وجوہات ہیں وہیں برتری اورکمتری کااحساس بھی نفسیاتی مسائل کی ایک اہم وجہ ہے،احساس برتری کے شکار لوگ ہمیشہ اپنی ذات کی خول میں قید رہتے ہیں ان کی سوچ ان کے خاندانی پس منظر،دھن،دولت،جائیداد،تعلیم،شہرت اور دیگر دستیاب وسائل کے گرد گھومتی ہے جن کے بل بوتے پر وہ کچھ بھی کرنے کی قوت رکھتے ہوں اوراس بناء پروہ اپنے آپ کوسب سے برتر جبکہ دوسرے لوگوں کو کسی بھی معاملے میں خود سے کم تر سمجھتے ہیں حالانکہ خاندانی رئیس،جاگیرداراور سرمایہ دارہونے کے علاوہ ان کی کوئی بھی خاصیت اور صلاحیت نہیں ہوتی،ادنیٰ خاندان سے تعلق رکھتے کم تعلیم یافتہ اور دھن دولت سے محروم غریب مزدورپیشہ وارانہ صلاحیتوں کے باوجود خود کو ہمیشہ کم تر ہی سمجھتے ہیں اوریہی عوامل معاشرہ میں نفسیاتی مسائل اور الجھنوں کاسبب بنتے ہیں،بچپن میں یتیم ہونے والے لوگ زندگی بھر نفسیاتی الجھنوں کے حصارمیں جکڑے ہوتے ہیں اور لاکھ کوشش کے باوجود وہ ان سے باہر نکل نہیں پاتے،ایسے لوگ انتہائی حساس ہوتے ہیں، نفسیاتی مریض کبھی بھی خود کو بیمار تصور نہیں کرتے مگران کابات بات پر لڑناجھگڑنا،عدم برداشت کاشکار ہوکر گالم گلوچ پراترآنا،بھوک ختم ہونااورنیند کاکم آنا،ہربات کابلاوجہ کھوج لگانا،دوسروں کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت کرنا،کسی بھی محفل میں حد سے زیادہ باتونی بننا،اپنے مؤقف پر ڈٹ جانا،اپنی بات دوسروں پر منوانااور دوسروں کی بات سنے بغیر رد کردینا،ضرورت سے زیادہ ہنسنا،چپ کر دوسروں کی بات سننا،جنسی گفتگوکرنااور ایسے معاملات میں غیر معمولی دلچسپی لینا،دوسروں میں برائی تلاش کرنا،شک مزاج ہونا،بات بات میں کیڑے نکالنااور الزامات لگاکر دوسروں کو نیچے دکھانے کی کوشش کرنا،بے صبری کرنا،،دوسروں کا مذاق اڑانا، اپنے گھریلو معاملات کو سرعام بیان کرنا،بدگمانی پید اکرکے دوسروں کو آپس میں لڑانے کی کوشش کرنا،سنجیدہ محفل میں غیر سنجیدگی دکھانا،اپنے منہ میاں مٹھو بن کر اپنی تعریفوں کے پل باندھنا،جھوٹ بولنا اور دھوکہ دیناپسند کرنا،گاڑی چلاتے وقت غیر ضروری تیز رفتاری کرنایاقصداََگاڑی آہستہ چلاکر ٹریفک کی روانی متاثرکرنا، دن میں کئی بار لباس بدلنایاایک جوڑامسلسل کئی تک دن پہننا، مذہبی جنونیت،فرسودہ روایات کی پاسداری،کسی بھی معاملے میں اپنے آپ سے بہت متاثر ہوناوغیرہ وغیرہ ان کے نفسیاتی بیمار ہونے کی دلیل ہوتے ہیں،معصوم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنااور جنسی تشدد کے بعد انہیں بے دردی سے قتل کرنا، مردوں کاخواتین کو اپنے ہوس کانشانہ بنانااور خواتین کامردوں کو اپنے نسوانی حسن اور اداؤں کی جال میں پھنساکرانہیں نقصان دینا،غربت اور تنگ دستی کو جواز بناکر والدین کااپنے بچوں کو قتل کرنااور خود کی زندگی کابھی چراغ گل کردینا،لوگوں کا نامعلوم وجوہات کی بناء پرٹرین کے آگے لیٹ کر موت کوگلے لگانا،گلے میں پھانسی کاپھنداڈال کر پنکھے کے ساتھ جھولنا،زہریلی دواکھاکر،بلند عمارت کی چھت سے کودکر یادریا میں چھلانگ لگاکر یاپھرخود کو گولی مارکرموت کی وادی چلے جانا،میاں بیوی کے مابین گھریلوناچاقی پیداہونااور معاملہ جاکر طلاق پر رکنا ایسی ذہنی اور نفسیاتی مسائل ہیں جو کسی جسمانی بیماری کی طرح بظاہر محسوس نہیں کئے جاسکتے تاہم معاشرتی زندگی میں آئے روز پیش آنے والے مختلف نوعیت کے واقعات اوران کے محرکات اس کی گواہی دینے کے لئے کافی ہوتے ہیں البتہ چرس،ہیروئن،شراب اور دیگر مشیات استعمال کرنے والے نشئی لوگ نفسیاتی مسائل اور الجھنوں کی واضح علامت ہوتے ہیں مگرایسے نفسیات مسائل جنم کیوں لیتے ہیں، ان کے ذمہ دار کون ہیں اور ایسے مسائل کا تدارک کیسے ممکن ہے بلاشبہ یہ ایسے سوال ہیں جن کے جواب دیئے اور ڈھونڈے بغیران مسائل کاخاتمہ کسی طور ممکن نہیں،ظاہر ہے میاں بیوی،والدین بچوں،دوستوں،ہم منصب اور ہم پیشہ ساتھیوں کے رویئے،قانون نافذ کرنے والے اداروں کاناکردہ گناہ میں شہریوں کیساتھ نامناسب رویہ،بااثرافراد کی جانب سے کمزور لوگوں کی عزت نفس مجروح ہونااورحکومتی عدم توجہ کے سبب شہریوں میں پیداہونے والااحساس محرومی نفسیاتی مسائل جنم لینے کے بنیادی محرکات ہیں جو ایسے الجھنوں کاباعث بن رہے ہیں،حکومت اور غیرسرکاری تنظیموں کی جانب سے ٹی بی، ایڈز،کینسراورپولیوجیسے موذی امراض سمیت منشیات کے استعمال کے خلاف آگاہی مہم تو چلائی جاتی ہے مگر نفسیاتی الجھنوں سے بچنے کے لئے کوئی بھی مؤثر پروگرام دکھائی نہیں دیتا،تعلیمی اداروں میں طلبہ کے جسمانی تندرستی (فزیکل فٹنس)کا باقاعدہ انتظام ہوتاہے مگر نفسیاتی مسائل سے بچنے اور اس کامقابلہ کیسے کرناہے کے بارے طلبہ کو بتانے اور سمجھانے کاتعلیمی اداروں میں کوئی بھی انتظام نہیں ہوتااگرچہ کالج اور یونیورسٹی سطح پرسائیکالوجی کامضمون پڑھایاجاتاہے مگر پڑحانے والے بیشتر اساتذہ خود نفسیاتی الجھنوں کے شکار ہوتے ہیں،اگر احساس محرومی کاسلسلہ یوں چلتارہاتو پوری قوم نفسیاتی مریض بن جائے گی۔
اگر بات کریں سوشل میڈیا کی تو ایک جانب ترقی اور جدت کا سفر نظر آتا ہے اور دوسرے جانب کم عمری میں بچوں بچیوں کو بالغ بنانے میں اسکا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ سوشل میڈیا ہر طبقہ فکر اور معاشی درجہ بندی کے ہر طبقے کہ دسترس میں ہے۔ اسکی وجہ سے نوجوانوں اور ہر تقریبا ہر عمر کے ذی بشر کو بیشمار مسائل اور انگنت سوچیں اپنی گرفت میں رکھتی ہیں۔ یہیں سے مثبت اور منفی پہلو شخصیت پر اثرانداز ہونا شروع ہوتے ہیں، جو بلاآخر انسان کو ذہنی معذور اور نفسیاتی مریض بنا دیتے ہیں
نفسیات کے ماہرین کی ایک تحقیق کے مطابق کسی بھی مذہب سے تعلق ہونا اور اسکی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا بھی انسان کو بیشمار نفسیاتی اور ذہنی دباو سے بچا لیتا ہے۔ آج کا دور اس تیز رفتاری کا ہے کہ ہر شخص دوسرے سے نام کام مقام اور امارت میں آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ اس کے لئے وہ ہر طرح کی اخلاقی حدود پار کرنے سے بھی نہیں گریز کرتا۔ حالات کچھ بھی ہوں۔ نفسانفسی کے اس دور میں وہی شخص عظیم ہے جو دوسروں کے کام آئے اور مشکلات کے باوجود خوش دلی کا مظاہرہ کرے۔ ایسے لوگ کم ہی نفسیاتی دباو کا شکار ہوتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email