40

ضلعی دفاتر قاق لشٹ منتقل کرنا کسی بھی طرح منظور نہیں۔ عوامی ردِ عمل

اپرچترال (رپورٹ بائی ذکرمحمدزخمی)اپر چترال کو ضلعی درجہ دینے کے بعد حکومتِ وقت نوٹفکیشن کرتے ہوئے خصوصی طور پر یہ لکھا تھا کہ بونی نومولود ضلع اپر چترال کا ہیڈ کوارٹر ہوگا۔ اس کے بعد ڈپٹی کمشنر اور ان کے عملے بونی اکراپنے فرائضِ منصبی ادا کر رہے ہیں اور ساتھ سی۔این۔ڈبلیو، ایجوکیشن وغیرہ کے سربراہان بھی مقرر کیے گئے ہیں جو اپنے اپنے محکموں کے چارج سنبھالے ہوئے کچھ عرصہ بیت گئے۔اگر اچہ موجودہ حالات میں کسی کے پاس کوئی موزوں سرکاری دفتر ان کے عہدے کے شایانِ شان نہیں۔پھر بھی پہلے سے موجود کچھ دفاتر میں بیٹھ کر سرکاری امور نمٹا رہے ہیں۔ ان سب کے لیے سرکاری موزوں دفاتر کا ہونا لازمی بات ہے۔ تاہم اس وقت علاقے میں کچھ افوہیں گردش کررہی ہیں کہ اپر چترال کے لیے ضلع دفاتر قاق لشٹ کے وسیع و عریض بیابان ہی میں بنائے جائینگے جو اسٹیٹ پراپرٹی ہے۔تا ہم کسی معتبر ذرایع سے اس بات کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ اس طرح کا کوئی منصوبہ بندی ہوئی بھی ہے کہ نہیں۔ پھیر بھی اپر چترال کی اکثریتی عوام اور بالخصوص بونی اور ملحقہ علاقے کی عوام میں تشویش پائی جاتی ہے کہ مبدا ایسی نہ ہو کہ ضلعی ہیڈ کوارٹر کے دفاتر قاق لشٹ منتقل ہو اور ہمیں خبر نہ ہو تو اس علاقے اور خصوصاً بونی اور ملحقہ علاقے کی عوام کے ساتھ سراسر زیادتی ہوگی۔بونی اپر چترال کا نہ صرف اب سے بلکہ قدیم الایام سے مرکز رہا ہے۔اس کو حکومت مرکز قرار دے یا نہ دیں لیکن بونی مرکزیت کا حق کما حقہ ادا کرتا ایا ہے۔یہاں کہ باسی اپنے لیے کچھ بھی نہیں سوچتے اگر سوچتے ہیں تو دوسروں کی فلاحِ بہبود،خیر کے لیے۔ ان کے خدمات کو اگر گنا جائے تو پورا ہونے کا نام نہیں لیتے۔یہ ہی لوگ اب بھی خیر ہی کا سوچتے ہیں۔ ان کے نزدیک دفترات کی بونی سے منتقلی ان کے اس خیر کی راہ میں بھی روکاوٹ ہے۔ گزاشتہ روز اس سلسلے دو اہم میٹنگ منعقد کیے گئے ایک میٹنگ تحصیل کونسل ہال بونی میں جنا ب سردار حکیم صاحب کے صدارت میں منعقد ہوا۔ اس میں بونی اور گردو نواح کے معتبرات نے شرکت کی۔ اور اپنے شدید تحفظات کا برملا اظہار کیا۔ شرکاء میں ہر مکتبِ فکر کے لوگ اور سیاسی جماعت کے اکثریتی نمائیندے شریک تھے۔دوسرا میٹنگ ڈپٹی کمشنر اپر چترال شاہ سعود کے دفتر میں منعقد ہوا۔ اس میں بھی عوامی نمائیندے اور علاقے معتبرات موجود تھے۔جو دفترات کی قاق لشٹ منتقلی کے کسی تجویزپر اپنے شدید تحفظات سے ڈپٹی کمشنر اپر چترال کو اگاہ کیے۔ڈپٹی کمشنر اپر چترال جناب شاہ سعود نے شرکاء کو یقین دلایا کہ ابھی تک اس طرح کے کوئی تجویز کسی بالائی حکام کو نہیں بھیجی گئی ہے اور نہ کسی نے تجویز مانگی ہے۔ اگر تجویز طلب کی گئی تو لازمی بات ہے کہ بونی کے ساتھ قاق لشٹ کو بھی تجویز میں شامل کیا جائے گا۔ تا ہم ڈپٹی کمشنر کا یہ بھی کہنا تھا یہ صرف بونی ہی کا مسلہ ہے دوسرے علاقے لوگ شاید آپ سے متفق نہ ہو۔ اس پر شرکاء اتفاق نہ کرتے ہوئے ایک اور میٹنگ ۶۲ اگست کو اپر چترال سطح پر بونی میں رکھنے کا فیصلہ کیاہے۔ اس میٹنگ پر اپر چترال کے دونوں تحصیلوں سے نمائیندوں کو مدعو کیا گیا ہے تورکھو،موڑکھو اور مستوج کے معتبرات کی شرکت اس میٹنگ میں متوقع ہے اس میٹنگ کے بعد ایک مربوط لایحہ عمل مرتب کرکے اس مسلے کو حل کرنے کی جد و جہد کی جائیگی۔

Print Friendly, PDF & Email