253

موری پائین ، برغوزی اور کوجو بالا کے عوام نے ابپاشی اور ابنوشی کا مسئلہ حل نہ ہونے پر 2ستمبر کو ماشیلیک کے مقام پر چترال بونی روڈ مکمل طور پر بلاک کرنے اور تادم مرگ دھرنا دینے کا اعلان

چترال (نمائندہ ڈیلی چترال نیوز) چترال بونی روڈ پرواقع گاﺅں موری پائین ، برغوزی اور کوجو بالا کے عوام نے ابپاشی اور ابنوشی کا مسئلہ حل نہ ہونے پر 2ستمبر کو ماشیلیک کے مقام پر چترال بونی روڈ مکمل طور پر بلاک کرنے اور تادم مرگ دھرنا دینے کا اعلان کردیا جن کے گاﺅں کو پانی سپلائی کرنے والے سائفن سسٹم کے پائپ 7جولائی کو گولین ویلی میں گلیشیر کے پھٹ جانے کے نتیجے میں سیلاب برد ہوگئے تھے ۔ جمعہ کے روز چترال پریس کلب کے زیر اہتمام ان متاثرہ دیہات میں منعقدہ ©’پریس فورم ‘میں اظہار خیال کرتے ہوئے متاثرین نے کہاکہ گولین ندی سے موری پائین گاﺅں کے 130عدد پائپ ، برغوزی کے 110عدد اور کوجو کے 100عدد پائپ سیلاب میں بہہ جانے کی وجہ سے ان علاقوں میں گزشتہ 50دنوں سے پانی کی سپلائی مکمل طور پر بند ہوگئی ہے۔ موری پائین کے خواجہ امان اللہ، ولی محمد، برغوزی کے حمیداللہ، ظفر احمداور کوجو گاﺅں کے محمد شریف اور معتبر شاہ نے کہاکہ ان کے علاقوں میںحالات نہایت ابتری کی طرف جارہی ہے ، علاقے کے مکین ہجرت کرنے پر مجبور ہیں لیکن جائیں تو کہاں۔ ان کا کہنا تھاکہ ساٹھ سال سے زائد عمر کے پھلدار اور غیر پھلدار درخت سوکھ جانے، جوار،ماش اور دوسرے فصل اور سبزیاں تلف ہونے کی وجہ سے ان کی معیشت برباد ہوگئی ہے جبکہ چارہ جات نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے گائے ، بیل ، بھیڑ بکریاں اونے پونے داموں پہلے ہی فروخت کرچکے ہیں۔ انہوںنے اس بات پر افسوس کاا ظہار کیاکہ ڈپٹی کمشنر چترال نے ان کو صرف تین دن کے اندر اندر سائفن پائپ مہیا کرکے پانی کی سپلائی بحال کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن چالیس دن گزرگئے اور یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہاکہ 8انچ قطر اور 20فٹ لمبائی کے صرف 340عدد پائپ مہیا کرنے سے یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے لیکن حکومت اپنی بلند بانگ دعوﺅں کے باوجود اس میں ناکام ہے اور یہ بات حکومت کے لئے باعث شرمندگی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ علاقے میں انتہائی اضطراب پھیل گئی ہے اور وہ سڑک کی بندش کا انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوگئے ہیں جس کے لئے وہ کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے جبکہ اس کے نتیجے میں امن وامان کی تمام تر حکومت پر عائد ہوگی جوکہ اپنی فرض منصبی ادا کرنےسےپہلو تہی کررہی ہے۔ جب اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر لویر چترال نوید احمد سے رابطہ کیا گیا تو انہوںنے کہاکہ ڈیزاسٹر سے متاثرہ انفراسٹرکچرز کی بحالی کے لئے فنڈز کی منظوری کاپراسس جاری ہے اور جوں ہی یہ ریلیز ہوتے ہیں ، وہ ایک لمحہ بھی ضائع کئے بغیر ان متاثرہ دیہات کا مسئلہ حل کرے گا جوکہ واقعی تکلیف میں مبتلا ہیں۔

e

c

Print Friendly, PDF & Email