86

تعطیلات مگر اساتذہ حاضرہوں۔۔۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

مالاکنڈ ڈویژن بھر اور موسم سرمامیں برف باری کے باعث شدید سردی کی لپیٹ میں رہنے والے صوبہ خیبرپختونخوا کے دیگر پہاڑی علاقوں کے تعلیمی اداروں میں23 دسمبرسے موسم سرماکی چھٹیاں دی گئی ہیں ۔ماضی میں موسم سرماکی تعطیلات کے لئے بندہونے والے تعلیمی ادارے یکم مارچ کو کھولے جاتے تھے مگراس دفعہ سننے میں آیاہے کہ چھٹیوں کو 10فروری تک مختصر کیاگیاہے تاہم ایساکیوں کیاگیاہے اگرچہ ایسی کو ئی وضاحت تو سامنے نہیں آئی تاہم چھٹیاں کم یازیادہ ہوناایشونہیں ہے۔ایشویہ ہے کہ ماضی میں چھٹیوں کے دوران سیکنڈری سکولز اور کالجزجیسے تعلیمی اداروں کابشمول پرنسپلزاور ہیڈ ماسٹرزمخصوص عملہ ڈیوٹی پر حاضر رہنے کاپابند ہوتاتھامگر اس بار پرائمری سطح کے مردانہ وزنانہ تعلیمی اداروں کے ہیڈماسٹرزاور ہیڈمسٹرسزکوبھی چھٹیوں میں ڈیوٹی دینے کے احکامات دیئے گئے ہیں۔ مگرسوال یہ اٹھتاہے کہ اگر پرائمری سکولز کے ہیڈماسٹرز کو تعطیلات میں ڈیوٹی دینے کاپابند بنایاگیاہے تو ایساکیوں ہے یہ منطق قطعی طورپر سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ پرائمری سکولوں کے اساتذہ کودوران تعطیلات سکولوں میں کچھ لینادیناتوہوتانہیں جبکہ قابل ذکر امر یہ ہے کہ موسمی چھٹیوں کے دوران مردوزن اساتذہ کوڈیوٹی دینے کاپابند بنانے پرہونایہ چاہئے تھاکہ ان کواضافی مراعات دیئے جاتے مگرسننے میں تویہ آیاہے کہ عام دنوں میں اساتذہ کوجوکنونس الاؤنس دیاجاتاہے انہیں اس سے بھی محروم رکھاگیاہے یعنی یہ ایساہے جیسے ماہ رمضان میں کھایاپیاکرواور عام دنوں میں روزے سے رہو۔اس اقدام سے جہاں مرداساتذہ ناراض ہیں وہیں خواتین اساتذہ کلاس فورمردملازم کے ساتھ سکول میں بلا جواز موجود رہنے پرعدم تحفظ کے ا حساس سے دوچارہیں ۔پہلے اساتذہ سکول کا انچارج بننے کے لئے دوڑدھوپ کیاکرتے تھے مگراب ان کی کوشش اور دعایہی ہوگی کہ چارج ان کے پاس نہ ہو۔ بہترہوتااگراحکامات دیئے جاتے کہ تعطیلات صرف زیرتعلیم بچوں کی ہوں گی جبکہ پورا تدریسی عملہ ڈیوٹی پر حاضررہے گاکیونکہ محض انچارج کوڈیوٹی پر آنے اور دیگر تدریسی عملہ کوچھٹیوں کاریلیف دینے کے اقدام کے مؤثر نتائج کیابرآمد ہوں گے یہ توکہناقبل ازوقت ہے تام اس امتیازی اقدام سے مزید مسائل نے جنم لیاہے۔ اگر ماضی قریب کے جمہوری ادوارمیں محکمہ تعلیم خیبر پختو نخوا کی پالیسیوں اورکردار کا جائزہ لیاجائے توذکر ہو متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت کایاتذکرہ ہوعوامی نیشنل پارٹی اورپیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دوراقتدارکا۔سوائے اس کے کہ 2002میں ایم ایم اے کی حکومت قائم ہوئی توسکول کے بچوں کے یونیفارم کارنگ سیاہ سے سفید کردیا تھااور2008اے این پی کی حکومت نے اسے سفیدسے دوبارہ سیاہ کرکے اس اقدام کو شائد تبدیلی سے منسوب کردیاتھا مگرکھایاپیاکچھ نہیں اور گلاس توڑاآٹھ آنے کاکے مصداق ان اقدامات کانتیجہ یہ برآمد ہواکہ یونیفارم کی تبدیلی کا والدین کومالی بوجھ اٹھانا پڑافائدہ کچھ بھی نہیں ہوا البتہ زیرتعلیم بچوں اور ان کے والدین کووقتی مالی ریلیف دینے کی غرض سے سکول کے بچوں کوماہانہ وظیفہ دینے کا کریڈٹ اے این پی کی حکومت کو ضرورجاتا ہے مگریہ اقدام بھی شائداس وقت کی حکومت کی سیاسی دکانداری کے لئے مؤثر ثابت ہوا ہو تاہم معیارتعلیم کی بہتری کے لئے کسی طور کارگر ثابت نہیں ہواتھا۔اس کے علاوہ مذکورہ دونوں منتخب ادوارمیں دعوے اور وعدے تو بلند بانگ کئے گئے تھے مگرکسی بھی دورمیں عملاََ کوئی قابل ذکر کام ہوتادکھائی نہیں دیاتھا۔پچھلے عام انتخابات سے قبل پاکستان تحریک انصاف کی قیادت جہاں دیگر شعبوں میں بہتری لانے کے دعوے کرتی سنائی دیتی تھی وہیں تعلیم کے شعبے میں بھی واضح تبدیلی کے عزم کااظہارکرتی نظرآتی تھی جن میںیکساں نظام تعلیم رائج کرنا، مفت تعلیم کی فراہمی، تدریسی عملہ کی مشکلات ختم کرنا،سکول بھرومہم، تعلیمی اداروں میں صحت مند ماحول کی غرض سے کھیل کوداور غیرنصابی سرگرمیوں پر مبنی اقدامات اٹھانا،تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی خستہ حالی دور کرنااورنئی عمارتوں کی تعمیر وغیرہ قابل ذکر تھے ۔مگرجب سے خیبرپختونخوامیں پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہوئی ہے محکمہ تعلیم خیبرپختونخواکی جانب سے عجب پالیسی اور غضب اقدامات سامنے آئے ہیں جن کاذکر توضرورکیاجاسکتاہے تاہم یہ اقدامات نظام تعلیم کی تبدیلی اور معیار تعلیم کی بہتری کے لئے کسی صورت سودمند قرارنہیں دیئے جاسکتے۔وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے صوبہ بھر میں سکول بھرومہم توچلائی مگرسکولوں کی عمارتوں میں توسیع کی گئی نہ ہی نئے د اخل کرانے والے بچوں کوپڑھانے کے لئے تدریسی عملہ کی تعیناتی عمل میں لائی گئی سواس خصوصی مہم کے وہ خاطرخواہ فوائد برآمد نہیں ہوئے جومطلوبہ تھے۔پی ٹی آئی کی قیادت اور صوبائی حکومت کے دعوے اور وعدے اپنی جگہ تاہم یکساں نظام تعلیم کوتاحال رائج نہیں کیاجاسکااور نہ ہی اس کے مسقبل قریب میں کوئی واضح آثار دکھائی دیتے ہیں ۔مفت تعلیم کاخواب بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہواجبکہ تعلیمی اداروں کی خستہ حالی بھی جوں کی توں ہے۔صوبائی حکومت نے تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ کاعمل شروع کیاہے مگربدقسمتی سے یہ بھی کوئی مؤثر عمل ثابت ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔بہرحال اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بلاجوازغیرمنطقی تجربات کی بجائے تعلیمی معیارکی بہتری کے لئے سکولوں کی حالت بہتربنانے ،زیرتعلیم بچوں کوبنیادی ضروریات کی سہولیات بہم پہنچانے،کھیل کود اور غیرنصابی سرگرمیوں کوفروغ دینے،تدریسی عملہ کی کمی دور کرنے،میرٹ کے مطابق تعیناتی ،تبادلہ اور اساتذہ کی ترقی،مالی امورکی شفاف جانچ پڑتال اورنقل کی روک تھام جیسے ایشوزپر توجہ دی جائے نہ کہ سیاسی تشہیرکی خاطراساتذہ کوامتیازی سلوک کانشانہ بنایاجائے کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب تک اساتذہ کوذہنی طورپر آسودہ نہیں رکھاجائے گاان کی موجودگی سے تعلیمی اداروں میں محض خانہ پوری تو ہوتی رہے گی مگر معیارتعلیم بہتر بننے اور بنانے کا خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں