282

چترال کے پسماندہ علاقوں میں کوالٹی اورمعیاری تعلیم فراہم کرنے میں آغاخان ایجوکیشن سروس کامثالی کرداررہاہے/ڈی سی شاہ سعود/جی ایم خوش محمد

چترال(ڈیلی چترال نیوز)آغاخان ایجوکیشن سروس پاکستان کی بدولت چترال جیسے پسماندہ علاقے کے بچوں میں حصول علم کے ذریعے کامیاب راستے تلاش کرنے کی سوچ کو تقویت ملی ہے اور یہی وجہ ہے کہ گذشتہ کئی سالوں سے تعلیمی میدان میں چترال میں بہت بڑی تبدیلی آئی ہے جس میں آغاخان ایجوکیشن سروس کامثالی کرداررہاہے جوچترال کے دورافتادہ اورپسماندہ علاقوں میں کوالٹی اورمعیاری تعلیم فراہم کرنے میں حکومت سے ایک قدم نہیں بلکہ دس قدم آگے ہیں۔ ان خیالات کااظہارڈپٹی کمشنر اپرچترال شاہ سعود آغاخان ہائیرسکینڈری سکول کوراغ میں گذشتہ روز منعقدہ ٹیچرزریکوکنیشن ڈے کے موقع پرخطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ اے کے ڈی این کے تمام ادارے چترال میں زندگی کے ہرشعبے میں نمایان خدمات انجام دے رہے ہیں،جوناقابل فراموش ہیں اورکسی بھی غیرسرکاری ادارے دوسر ی جگہوں میں اس طرح بہترین سروس دیتے ہوئے نظرنہیں آرہے ہیں۔انہوں نے سرٹیفیکٹ اوربونس لینے والے اساتذہ کومبارک بادیتے ہوئے ادارے کے تمام اساتذہ کواسی طرح بونس دینے کامطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ادارے میں ہر استاد انتہائی ایمانداری،دیانتداری اورنیک نیتی سے اپنے فرض منصبی سرانجام د ے رہاہے۔انہوں نے کہاکہ چترال کی روایت،تہذیب اورسب سے بڑی چیز یہان کا امن ملک کے دیگرعلاقوں سے مختلف ہیں یہان کے مرد خواتین معاشرے کوبنانے میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ اپنے فرئض احسن طریقے سے انجام دے رہے ہیں ا س وجہ سے صوبے کے دیگر اضلاع سے تعلیمی میدان میں سب سے آگے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اپرچترال میں وسائل بہت کم ہیں مگرمسائل بے شمارہیں جن کے حل کے لئے ہرمکتبہ فکرکے لوگوں کی تعاون ہمیں سخت ضرورت ہیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ صوبے کے سب سے پرامن سمجھے جانے والے ضلع چترال میں حالیہ کئی برسوں میں خودکشیوں کے واقعات تسلسل سے پیش آ رہے ہیں۔ان واقعات کی وجوہات جاننے کے ضمن میں ابھی تک کوئی باقاعدہ یا جامع تحقیق نہیں کیاگیاہے جس سے معلوم ہو سکے کہ ان کے واقعات کے رونماہونے کی وجوہات کیا ہیں۔اس سلسلے میں ہم نے اپر چترال میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہیں جس میں تمام اساتذہ کرم سے اپیل کی جاتی ہے آپ سب اس کمیٹی کاحصہ بنیں اورروزانہ کی بنیاوں پراپنے لیکچرمیں تین سے پانچ منٹ اس حوالے سے طلباء وطالبات میں آگاہی پھیلائیں تاکہ معاشرے سے اس ناسور کاخاتمہ کیاجاسکیں ۔
اس موقع جنرل منیجر آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان چترال گلگت ریجن بریگیڈیر (ریٹائرڈ) خوش محمد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آغاخان ایجوکیشن سروس پاکستان ہرسال اپنے اساتذہ کرام کی بہترکارکردگی کوسراہنے کیلئے ٹیچرریکوکنیشن ڈے کرتے ہیں اس پروگرام کابنیادی مقصداساتذہ کویہ باورکراناہے کہ ہمارے سکول کی تعمیروترقی انہی اساتذہ کی مرہون منت ہے۔ آغاخان ایجوکیشن سروس اپنے اساتذہ کوبہترین کارکردگی کوجانچنے کے لئے ایک مربوط نظام متعارف کیاہے جسے پرفارمنس مینجمنٹ اینڈریوارڈسٹم کے نام سے تعبیرکیاجاتاہے۔انہوں نے کہاکہ اس سسٹم کے تحت اس سال لوئراوراپرچترال میں 214اساتذہ کومختلف درجوں میں یعنی 75ہزار،50ہزار،35ہزار،25ہزاراور15ہزارروپے کے بونسزدیاگیاجس کی کل مالیت 56لاکھ روپے بنتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اُن تیس اساتذہ کرام کوجوگذشتہ تین سالوں سے مسلسل بہترین پرفامنس کامظاہرہ کرتے ہوئے آرہے ہیں کواگلے درجوں میں ترقی بھی دی گئی۔ اوریہ سلسلہ آئندہ سالوں میں بھی جاری وساری رہے گاتاکہ ادارے کے اساتذہ اپنی کارکردگی کومستحکم کرسکیں اورچترال کے نوجوان نسل کوبہترطورپرتعلیم وتربیت کی زیورسے آراستہ کرسکیں۔انہوں نے کہاکہ آغاخان ایجوکیشن سروس پاکستان میں اپنی ابتد1905کوبلوچستان کے شہرگوادرمیں ایک سکول سے کی پھریہ تحریک طول وعرض تک پھیلاکرچترال اورگلگت بلتستان کوعلم کے شمع سے روشن کرایا،آج پوری دنیامیں آغاخان ایجوکیشن سروس کے دوسوسے زاہدسکولزہیں جن میں 80ہزارسے زائدطلباء وطالبات علم کی روشنی سے فیض یاب ہورہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ معیارتعلیم کوبہتربنانے کے سلسلے میں چترال کی سطح پر آغاخان ایجوکیشن سروس کاکردارہمیشہ نمایاں رہاہے گذشتہ دوسالوں کے اندرابتدائے بچپن کے 71سنٹرکااجزاء عمل میں لایاگیایہ ان میں کچھ ایسے سنٹرزبھی ہیں جوآغاخان سکولزسے دوران علاقوں میں بھی قائم کئے گئے ہیں جن کی رسائی آغاخان سکولزتک ناممکن ہے،اس سال دومڈل سکولزکوہائی کادرجہ دیاگیاجن میں شاہ اورارکاری شامل ہیں ان کے علاوہ مڈک لشٹ اورچپاڑی کوہائرسیکنڈری کادرجہ دیاگیاسکولز کی تنظیم وآرائش پربھی بہت زیادہ کام کیاجارہاہے اس کے ساتھ ساتھ آغاخان سکول خروزگ اوربیرزین کومڈل کادرجہ دیاگیا۔
اس موقع پر صدرمحفل پرنسپل گورنمنٹ ہائی سکول بونی صاحب الرحمن،پرنسپل گورنمنٹ گرلز ہائی سکول بونی مہروالنساء،اساتذہ کی نمائندہ گی کرتے ہوئے تاج الدین،ذوالفقاراحمد اوردیگرنے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کوالٹی ایجوکیشن کے بغیر کسی بھی معاشرے کی ترقی ممکن نہیں کوالٹی ایجوکیشن کیلئے ہم سب کو کردار ادا کرنا ہوگا،ترقی کی منزلیں تعلیم سے جڑی ہیں اور کون ہے جو تعلیم میں اساتذہ کے کردار سے انکار کرے۔ اس سے قبل آغاخان ہائیرسیکنڈری سکول سین لشٹ میں منعقدہ پروگرام کے مہمان خصوصی ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر لوئر چترال شہزاداحمد، جنرل منیجر آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان چترال گلگت ریجن بریگیڈیر (ریٹائرڈ) خوش محمد خان، چترال یونیورسٹی کے پروفیسرتاج الدین شرر،پرنسپل پوسٹ گریجویٹ کالج آف مینجمنٹ سائنسزصاحب الدین،پریذیڈنٹ ریجنل کونسل لوئر چترال ڈاکٹرریاض حسین اوردیگرنے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اساتذہ کوکسی بھی معاشر ے کامعمار سمجھا جاتاہے اوراساتذہ ہی کی وجہ سے ہی کسی قوم یاملک کامستقبل بنتایابگڑتاہے اساتذہ ہی قوموں کی ترقی کے ضامن ہوتے ہیں اس لیے اساتذہ ہمارے معاشرے کااہم کردارہوتے ہیں استاد کو ہمارے دین میں بھی بہت اہم مقام حاصل ہے استادکوروحانی باپ کہا گیاہے۔انہوں نے کہاکہ اساتذہ کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں لیکن ہمارے معاشرے میں استاد کے بارے میں عموماً غیر سنجیدہ قسم کی رائے رکھی جاتی ہے اور انہیں وہ مقام نہیں دیا جاتا جس کے وہ حق دار ہیں۔ قومیں جب بھی عروج حاصل کرتی ہیں تو اپنے اساتذہ کی تکریم کی بدولت ہی حاصل کرتی ہیں۔۔اساتذہ کی عظمت کے بارے میں دنیا بھر کی زبانوں میں بے شمار اقوال موجود ہیں اور مہذب معاشروں میں انہیں قدر و منزلت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔آخرمیں بہترین کارکردگی کی بنیاد پر214اساتذہ کوچیک اورسرٹیفیکٹس سے نوازاگیا۔نظامت کی فرائض عطاء حسین اظہراورماریہ انجام دے رہے تھے

Print Friendly, PDF & Email