41

بونی کے اندر ترقیاتی منصوبوں میں جو ہیرا پھیری ہوئی ہے اس کی جلد از جلد انکوائری ہونی چاہئے۔ سماجی کارکن شیر غازی کا مطالبہ

بونی میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کی مد میں آنے والی رقم میں بڑے پیمانے پر ہیرا پھیری ا ورناقص کام ہوا ہے جس کی جلد از جلد انکوائری عمل میں لائی جائے ان خیالات کا اظہار سماجی کارکن شیر غازی نے اپنے ایک بیان میں کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ بونی آڈھ ٹو دکان بونی لشٹ ایک کلومیٹر  روڈ پر 2015ء میں کام کا آغاز ہوا تھا جس پر ابھی تک 1 کروڑ 10 لاکھ روپے لاگت آنے کے باؤجود مکمل نہ ہوسکیں۔ انہوں نے بتایا کہ متعلقہ ادارے اور ٹھیکدار  کی نااہلی کا یہ عالم ہے  کہ مین روڈ سے اس سڑک پر کام کا آغاز کرنےکے بجائے درمیان میں کام شروع کیا اور درمیان میں وہی کام مکمل ہونے کے باؤجود مین روڈ سے تاحال کنکٹ نہ ہوسکیں جس کے باعث سرکار کے کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باؤجود عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہورہا ہے، انہوں نے بتایا کہ بونی لشٹ میں کم و بیش 40 گھرانے اس روڈ سے مستفید ہورہے ہیں۔  انہوں نے ڈی سی اپر چترال اور دوسرے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ اس روڈ کو جلد از جلد کنکٹ کرکے عوامی مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گہلی کے اوپر قاقلشٹ میں ٹی ایم اے نے بالکل خشک جگہ ٹینکی تعمیر کی ہے جس کے لئے پانی کا کوئی انتظام نہیں اس پر بھی لاکھوں روپے خرچ ہوئے مگر کسی کو بھی اس کا فائدہ نہیں مل رہا ہے۔ اس کے حوالے سے بھی تحقیقات کا مطالبہ کیاشیر غازی کا مزید کہنا تھا  کہ ویلج کونسل بونی ٹو نے سارے کام ممبران کے مفاد میں کیا کوئی ایک کام بھی عوامی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے نہیں کیا انہوں نے بتایا کہ وی سی بونی ٹو کی جانب سے گہلی میں ایک نہر کے لئے فنڈز رکھے گئے تھے مگر وہ نہر کبھی تعمیر نہ ہوا اسی طرح گہلی ہی میں غیر ضروری جگہے میں روڈ تعمیر کرکے فنڈز کو ضائع کیا گیا ۔انہوں نے مزید بتایا کہ بونی پل ٹو چوک اور دوکاندہ روڈ کئی برس قبل ٹینڈر ہوا تھا مگر وہ کام تاحال مکمل نہ ہوسکیں جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے ڈی سی اپر چترال، اے سی اپر چترال اور محکمہ انٹی کرپشن چترال کے اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ ان منصوبوں پر ہونے والی ہیرا پھیری او رناقص کام کی جلد ازجلد تحقیقات کا حکم دے اور ملوث افراد و اداروں کو قرار واقعی سزا دی جائے ، انہوں نے وارننگ دی کہ اگر 10 نومبر 2019ء تک ان منصوبوں پر کام شروع نہ ہوا اور ہیرا پھیری کی تحقیقات نہ  ہوئی تو بونی کے عوام ایک عوامی جے آئی ٹی تشکیل دے کر خود محکمہ سی این ڈبلیو اور ڈی ایم اے کا احتساب کرے گی ۔

Print Friendly, PDF & Email