جمعیت علماء اسلام اور جماعت اسلامی کے درمیان وقتی علیحدگی یا ہمیشہ کے لئے راستے جدا ہوگئے۔انجینئر فضل ربی جان

چترال /رہنما پاکستان پیپلز پارٹی فضل ربی جان نے ایک اخباری بیان میں اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ2018کے الیکشن میں انقلاب محمدیؐ کے نام پر اکھٹے ہونے والے جماعت اسلامی نے حضرت مولانا فضل الرحمن کو آدھے راستے اکیلا چھوڑگئے۔اُنہوں نے کہا کہ گذشتہ الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے والے جماعت اسلامی کے واحد ایم این اے کو جے یو آئی کی محبت کرنے والے اور جذبے سے بھرپور ووٹرز نے لگ بھگ30,000ووٹ سے نوازا۔ایم این اے کا واحد سیٹ صرف اور صرف جے یو آئی کے ووٹرزکی مخلصانہ کوشش سے ممکن ہوا۔اُنہوں نے کہا کہ گذشتہ دودنوں سے پورے ملک بالخصوص سندھ سے مولانا فضل الرحمن کو خوش آمدید کرنے جماعت اسلامی کا کوئی کارکن بھی نہیں آیا۔انہوں نے کہااس موقع پر چترال کے عوام بالخصوص جے یو آئی چترال کی لیڈرشپ اور ووٹر سوال کرتے ہیں کہ کہا مولانا فضل الرحمن کچھ غلط کرنے جارہے ہیں اگر نہیں توپھر ملک میں موجودہ معاشی بحران،مہنگائی اور مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے سراج الحق کو مولانا کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہیئے۔انجینئر فضل ربی نے کہا کہ چترال کے طول وعرض میں جے یو آئی کے ورکرز نے اپنے لیڈر شپ پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ چترال میں آئیندہ کوئی بھی اتحاد مذہب اور جماعت اسلامی کے ساتھ نہ ہو۔اور چترالی عوام اس ڈغلہ پن کو آئیندہ کے لئے نہ سپورٹ کرینگے اور نہ ووٹ دینگے۔

Print Friendly, PDF & Email