محکمہ وائلڈ لائف چترال کی طرف سے زخمی بھیڑیا کو ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد مزید علاج کے لئے پشاور ریفر کیا گیا

چترال /محکمہ وائلڈ لائف کی طرف سے جاری ایک پریس ریلیز میں گذشتہ روز زئیت (کالک) کے مقام پر برآمد شدہ زخمی بھڑیا کی علا ج کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 31 اکتوبر 2019 کو ڈویژنل فارسٹ آفیسر وائلڈ لائف چترال محمد ادریس ایس ڈی ایف او وائلڈ لائف چترال الطاف علی شاہ کے ساتھ شندور جارہے تھے کہ زئیت (کالک) میں ایک زخمی بھوری رنگ کا بھیڑیا دیکھا۔ ابتدائی طور پر بھیڑیا کا معائنہ کرنے کے بعد رینج آفیسر وائلڈ لائف بونی کو بھیڑیا کو ویٹرنری ہسپتال بونی منتقل کرنے کے لئے بلایا گیا، ڈی ایف او نے بونی کے وائلڈ لائف عملے کو ریسکیو کی ہدایت کی۔ زخمی بھیڑیا کو باحفاظت بونی کے ویٹرنری اسپتال منتقل کیا گیا۔ جہاں بھیڑیے کو ابتدائی طبی امداد دی گئی اور ویٹرنری ہسپتال بونی کے انچارج نے محکمہ وائلڈ لائف کو مشورہ دیا کہ بونی میں ضروری سہولت کی عدم موجودگی کی وجہ سے اسے مزید علاج کے لئے سول ویٹرنری ہسپتال چترال منتقل کیا جائے۔ 31 اکتوبر 2019 کو رات گیارہ بجے بھیڑیا کو سول ویٹرنری ہسپتال چترال پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹر شیخ احمد ایس وی او نے بھیڑیا کو ابتدائی طبی امداد دی اور مکمل علاج اور طریقہ کار کے لئے اسے دوبارہ صبح لانے کو کہا۔ یکم نومبر کو وائلڈ لائف کے عملے نے اسے دوبارہ ہسپتال لے گئے جہاں ڈاکٹر نے اس کا علاج کرتے ہوئے زخمی آنکھ کا اپریشن کیا اور بھیڑیا کے زخمی ٹانگ کی بھی پٹی کی اور مزید علاج کے لئے پشاور ریفر کیا۔

Print Friendly, PDF & Email