پی ٹی آئی حکومت پاکستان کی تاریخ کاناکام تریں حکومت ہے جس میں غربت ، مہنگائی ، بے روزگاری اور لاقانونیت کے ہاتھوں غریبوں کی چیخیں نکل رہی ہیں/سینیٹر مشتاق احمد خان

چترال (نمائندہ ڈیلی چترال) امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت پاکستان کی تاریخ کاناکام تریں حکومت ہے جس میں غربت ، مہنگائی ، بے روزگاری اور لاقانونیت کے ہاتھوں غریبوں کی چیخیں نکل رہی ہیں اور اس کا بین ثبوت یہ ہے کہ اس وقت ڈاکٹر ، تاجروں اور اساتذہ سے لے کر عام سیاسی کارکن تک ہڑتال پر اور پورا معاشرہ ایک اضطراب میں ہے۔ یو ٹرن لینے کو بڑے لیڈروں کی نشانی قراردینے والے عمران خان اپنے دور حکومت میں فراڈ اور دھوکہ دہی کا اعتراف کیا ہے اور گزشتہ چودہ مہینوں کے دوران اپنی غلط بیانی ، نااہلی اور سیاسی ناسمجھی سے ملکی معیشت کا بیڑہ عرق کرکے رکھ دیا ہے اور اب ہر دن کے حساب سے ہزاروں مزید لوگ خط غربت سے نیچے چلے جار ہے ہیںاور پاکستان کی معیشت اتنی سست اور کمزور ہے کہ یہ خطے میں واقع انڈیا اور بنگلہ دیش سے کہیں نیچے چلا گیا ہے۔ اتوار کے روز چترال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ اس حکومت کی نااہلی اور بدانتظامی وکساد بازاری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے دورمیں اسٹیٹ بنک آف پاکستان بھی خسارے میں چلا گیا اور روزمرہ کی اشیائے ضرورت کی قیمتیں غریب کی پہنچ اور رسائی سے باہر نکل گئی ہیںجبکہ 50لاکھ گھر بنانے کے دعویداروں نے ناجائز تجاوزات ہٹانے کے نام پر کئی لاکھ گھرانوں کو بے گھر کردیا اور اب خود وزراءکہہ رہے ہیںکہ حکومت عنقریب 400سرکاری اداروں کو ختم کررہی ہے جس سے لاکھوںافراد بے روزگار ہوجائیں گے اور شرمناک بات یہ ہے کہ سرکاری ملازمتوںسے ریٹائرمنٹ کی عمر کو تین سال بڑہانے سے لاکھوں نوجوان ملازمت حاصل کرنے سے رہ جائیں گے اور یہ نوجوان طبقہ کے حقوق پر ڈاکہ ہے ۔ انہوں نے ملکی مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ یونیورسٹیوںکے پاس ملازمین کو دینے کے لئے تنخواہ نہیں ہیں جس کاریڈ لائٹ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے حال ہی میں حکومت کو دیکھادی ہے لیکن یہ حکومت بی آرٹی جیسی منصوبے پر تین سو ارب روپے لگاکر کرپشن کی انتہا کردی ہے۔ جماعت اسلامی کے لیڈر کے کہاکہ موجود ہ حکومت ضمیر فروش ہونے کے ساتھ ساتھ کشمیر فروش بھی ہے اور اس کے ایما پر ہندوستان نے کشمیر کو ہڑپ کرلیا اور ننگی جارحیت کا ارتکاب کیا اور کشمیر کا دو حصوں میں بٹوارہ کرکے اور تین مہینوں سے کرفیو لگاکر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی حدیں عبور کردی جس کی گواہی بین الاقوامی ادارے دے رہے ہیں لیکن وزیر اعظم صرف ٹویٹ پر اکتفاکرتے ہیں۔ مشتاق احمد خان نے کہاکہ پی ٹی آئی حکومت دو قومی نظرئیے کو دو سرحدی نظرئیے میں بدل دی ہے اور کرتارپور میں غیر معمولی گرمجوشی لیکن کشمیرمیں مجرمانہ خاموشی دیکھاکر قوم کے خلاف جرم کا ارتکاب کیا۔ انہوں نے کہاکہ حج بیت اللہ کے لئے تو حکومت نے اخراجات کو ڈھائی لاکھ روپے سے بڑہاکر چار لاکھ 80ہزار کردی لیکن انڈین شہریوں کے لئے کرتارپور میں غیر معمولی رعایتیں دی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر ہندوستان کے لئے افغانستان ثابت ہوگا لیکن موجودہ حکومت کشمیریوں کی قربانیوں کو پانی پھیر رہی ہے اور یہ شرمناک بات ہے کہ وزیر اعظم عمران خان جہاد کی بات کرنے کو پاکستان دشمنی قرار دے رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کی حکومت کے خلاف جدوجہد کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن لیکن جماعت اسلامی حکومت کے خلاف تحریک اپنی پلیٹ فارم سے کرے گی اور تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اس جماعت نے کسی حکومت کے خلاف تحریک شروع کی تو واپسی کانام نہیں لیا اور حکمرانوںکو سیدھا گھر بھیجواکر دم لیا۔ انہوںنے کہاکہ پی ٹی آئی حکومت کو چاہئے کہ اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے عوام کے مینڈیٹ کو انہیں واپس کرکے دوبارہ عوام سے رجوع کرے۔ چترال کے مسائل کے حوالے سے انہوںنے اس بات پر افسوس کا اظہار کیاکہ لواری ٹنل پراجیکٹ پر کام فنڈز کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے بند ہے جبکہ اپروچ روڈ سمیت اس پر بہت سا کام ابھی باقی ہے۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے ضلعی امیر مولانا جمشید احمد ، ضلعی سیکرٹری فضل ربی جان ، ضلعی صدر جے آئی یوتھ وجیہ الدین بھی موجود تھے۔

Print Friendly, PDF & Email